مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ كَيْفَ الرُّكُوعُ وَالسُّجُودُ؟ · حديث 2866
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، قَالَا: صَلَّيْنَا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ فَلَمَّا رَكَعَ طَبَّقَ كَفَّيْهِ، وَوَضَعَهُمَا بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ، وَضَرَبَ أَيْدِيَنَا، فَفَعَلْنَا ذَلِكَ، ثُمَّ لَقِيَنَا عُمَرُ بَعْدُ، فَصَلَّى بِنَا فِي بَيْتِهِ، فَلَمَّا رَكَعَ طَبَّقْنَا كَفَّيْنَا كَمَا طَبَّقَ عَبْدُ اللَّهِ، وَوَضَعَ عُمَرُ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: «مَا هَذَا؟» فَأَخْبَرْنَاهُ بِفِعْلِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «ذَاكَ شَيْءٌ كَانَ يُفْعَلُ ثُمَّ تُرِكَ»
2866 - علقمہ اور اسود بیان کرتے ہیں: ہم نے حضرت عبداللہ کی اقتدا میں نماز ادا کی جب وہ رکوع میں گئے تو اُنہوں نے اپنی ہتھیلیوں کو ملایا اور اُنہیں دونوں گھٹنوں کے درمیان رکھ لیا اور اُنہیں ہمارے ہاتھوں پر مارا تو ہم نے بھی ایسا ہی کیا ۔ بعد میں ہماری ملاقات حضرت عمر سے ہوئی اُنہوں نے اپنے گھر میں ہمیں نماز پڑھائی جب وہ رکوع میں گئے تو اُنہوں نے اپنی ہتھیلیوں کو اُسی طرح ملایا جس طرح حضرت عبداللہ نے ملایا تھا لیکن حضرت عمر نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھے جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو اُنہوں نے دریافت کیا: یہ کیا طریقہ ہے ؟ ہم نے اُنہیں حضرت عبداللہ بن مسعود کے عمل کے بارے میں بتایا تو اُنہوں نے فرمایا : یہ کام پہلے کیا جاتا تھا پھر اسے ترک کر دیا گیا ۔
عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدِ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › The door, how to kneel and prostrate? · Hadith 2866
