مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الْمَغْرِبِ · حديث 2698
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، مَوْلَى سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ نُسَيٍّ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ الْقَيْسَ بْنَ الْحَارِثِ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيّ " أَنَّهُ صَلَّى وَرَاءَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ الْمَغْرِبَ فَقَرَأَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَسُورَتَيْنِ مِنْ قِصَارِ الْمُفَصَّلِ، ثُمَّ قَامَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّالِثَةِ قَالَ: فَدَنَوْتُ مِنْهُ حَتَّى إِنَّ ثِيَابِي لَتَكَادُ أَنْ تَمَسَّ ثِيَابَهُ، فَسَمِعْتُهُ قَرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ، وَبِهَذِهِ الْآيَةِ: {رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا} [آل عمران: 8]، حَتَّى {الْوَهَّابُ} [آل عمران: 8] " قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَأَخْبَرَنِي عُبَادَةُ أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي خِلَافَتِهِ، فَقَالَ عُمَرُ لِقَيْسٍ: كَيْفَ أَخْبَرْتَنِي عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ؟ فَحَدَّثَهُ فَقَالَ عُمَرُ: «مَا تَرَكْنَاهَا مُنْذُ سَمِعَنْاهَا، وَإِنْ كُنْتُ قَبْلَ ذَلِكَ لَعَلَى غَيْرِ ذَلِكَ»، فَقَالَ رَجُلٌ: وَعَلَى أَيِّ شَيْءٍ كَانَ أَمِيرُ [ص:110] الْمُؤْمِنِينَ قَبْلَ ذَلِكَ؟ قَالَ: «كُنْتُ أَقْرَأُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ»
2698 – ابو عبداللہ صنابحی بیان کرتے ہیں: اُنہوں نے حضرت ابو بکر صدیق کی اقتدا میں مغر ب کی نما ز ادا کی تو حضرت ابو بکر صدیق نے پہلی دو رکعات میں سورہ فاتحہ اور اُس کے ہمراہ قصار مفصل سے تعلق رکھنے والی دو سورتوں کی تلاوت کی پھر وہ تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے ۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں اُن کے قریب گیا یہاں تک کہ میرا کپڑا اُن کے کپڑے سے مس کر رہا تھا تو میں نے اُنہیں سورہ فاتحہ اور اس آیت کی تلاوت کرنت ہوئے سنا : اے ہمارے پروردگار! تو ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیٹرا نہ کر دینا یہ آیت یہاں تک ہے الوھاب۔ ابو عبید بیان کرتے ہیں: عبادہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے ایک مرتبہ وہ عمر بن عبدالعزیز کے عہد خلافت میں اُن کے پاس موجود تھے عمر بن عبدالعزیز نے قیس سے دریافت کیا : آپ نے ابو عبداللہ کے حوالے سے مجھے کیا روایت بیان کی تھی ؟ تو اُنہوں نے یہ حدیث اُن کے سامنے بیا ن کی تو عمر بن عبدلعزیز نے کہا : جب سے ہم نے اسے سنا ہے اُس وقت سے اسے کبھی ترک نہیں کیا اگرچہ اس سے پہلے میرا معمول دوسرا ہوتا تھا ۔ ایک شخص نے دریافت کیا: امیر المومنین ! اس سے پہلے آپ کا کیا معمول تھا؟ اُنہوں نے جواب دیا: سورہ اخلاص پڑھا کرتا تھا ۔
أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Chapter of reading in the West · Hadith 2698
