مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ أَبْوَالِ الدَّوَابِّ وَرَوْثِهَا · حديث 1484
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَرَأَيْتَ مَا كُنْتَ آكِلَهُ , أَتَغْسِلُ ثَوْبَكَ مِنْ سَلْحِهِ أَوْ بَوْلِهِ؟ قَالَ: «وَمَا ذَلِكَ؟» قُلْتُ: الْإِبِلُ قُلْتُ: وَالْبَقَرُ وَالشَّاءُ وَالصَّيْدُ وَالطَّيْرُ قَالَ: «لَمْ أَكُنْ لِأَغْسِلَ ثَوْبِي مِنْ ذَلِكَ إِلَّا أَنْ أُقَذِّرَ رِيحَهُ أَوْ يُرَى فِي ثَوْبِي» قُلْتُ: فَالْفَرَسُ فَإِنَّهُ قَدْ كَانَ يُؤْكَلُ لَحْمُهُ قَالَ: «لَعَلِّي أَنْ أَغْسِلَ ثَوْبِي مِنْ رَوْثِهِ أَوْ بَوْلِهِ وَمَا عَلَيَّ فِي ذَلِكَ لَوْ تَرَكْتُ مِنْ بَأْسٍ» قَالَ: «امْسَحْهُ وَارْشُشْهُ»
ابن جریح بیان کرتے ہیں: میں نے عطا ء سے دریافت کیا : اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جس جانور کا گوشت آپ کھاتے ہیں اُس کے پیشاب کپڑے پر لگ جانے کی وجہ سے کیا آپ اُسے دھوئیں گے؟ اُنہوں نے دریافت کیا: وہ جانور کونسا ہے : میں نے جواب دیا : اونٹ! پھر میں نے کہا : اس کے علاوہ گائے ہے بکری ہے شکار کا جانور ہے تو اُنہوں نے فرمایا: میں اس کی وجہ سے کپڑے کو نہیں دھؤں گا البتہ اگر مجھے اُسکی بوُ بری لگتی ہے یا اُسکا نشان برا لگتا ہے ۔ میں نے دریافت کیا : گھوڑے کا کیا حکم ہے ؟ اُنہوں نے فرمایا: اس کا گوشت کھایا جاتا ہے ۔پھر اُنہوں نے فرمایا: شادی میں اسکے پیشاب کی وجہ سے کپڑے کو دھو لوں گا لیکن اگر میں اسے ترک کر دیتا ہوں تو مجھے کو ئی گناہ لازم نہیں ہو گا ۔ ا نہوں نے یہ فرمایا : تم اُسے پونچھ لو اور اُس پر پانی چھڑک لو۔
ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Bab ural fodder and their legacy · Hadith 1484
