مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْحَيْضِ ‹ بَابُ الْمُسْتَحَاضَةِ · حديث 1173
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ: أَنَّ امْرَأَةً مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ كَتَبَتْ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ بِكِتَابٍ فَدَفَعَهُ إِلَى ابْنِهِ لِيَقْرَأَهُ فَتَعْتَعَ فِيهِ فَدَفَعَهُ إِلَيَّ فَقَرَأْتُهُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «أَمَا لَوْ هَذْرَمْتَهَا كَمَا هَذْرَمَهَا الْغُلَامُ الْمِصْرِيُّ» فَإِذَا فِي الْكِتَابِ: إِنِّي امْرَأَةٌ مُسْتَحَاضَةٌ أَصَابَنِي بَلَاءٌ وَضُرٌّ، وَإِنِّي أَدَعُ الصَّلَاةَ الزَّمَانَ الطَّوِيلَ، وَإِنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ فَأَفْتَانِي أَنْ أَغْتَسِلَ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «اللَّهُمَّ لَا أَجِدُ لَهَا إِلَّا مَا قَالَ عَلِيٌّ غَيْرَ أَنَّهَا تَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِغُسْلٍ، وَاحِدٍ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ، وَتَغْتَسِلُ لِلْفَجْرِ» قَالَ: فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ الْكُوفَةَ أَرْضٌ بَارِدَةٌ وَإِنَّهُ يَشُقُّ عَلَيْهَا [ص:306] قَالَ: «لَوْ شَاءَ لَابْتَلَاهَا بِأَشَدَّ مِنْ ذَلِكَ»
سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں: کوفہ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے حضرت عبداللہ بن عباس کو خط لکھا حضرت عبداللہ بن عباس نے وہ خط اپنے بیٹے کو دیا تاکہ وہ اسے پڑھ کر سنائے وہ اسے پڑھنے میں تردد کا شکار ہو رہا تھا تو حضرت عبداللہ بن عباس نے وہ خط میرے سپرد کیا میں نے اُنہیں پڑھ کر سنایا حضرت ابن عباس نے فرمایا : اگر میرا بیٹا بھی اس کو تیزی سے پڑھتا جس طرح مصری غلام نے پڑھا ہے تو یہ کتنا اچھا تھا ۔ اُس خط میں یہ تحریر تھا میں استحاضہ کا شکار عورت ہوں مجھے آزمائش اور تکلیف لاحق ہے میں نے طویل عرصہ سے نماز چھوڑ دی ہے حضرت علی بن ابو طالب سے اس بارے میں دریافت کیا گیا تو اُنہون نے مجھے یہ حکم دیا کہ میں ہر نماز کے وقت غسل کیا کروں۔ تو حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا: اے اللہ ! تو جانتا ہے اس عورت کے لیے مجھے صرف وہی حکم ملتا ہے جو حضرت علی نے بیان کیا ہے البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ وہ عور ت ظہر اور عصر کی نماز ایک ہی غسل کے ساتھ اکھٹی ادا کر لے اور مغرب اور عشا ء کی نمازیں ایک غسل کے ساتھ اکھٹی ادا کر لے اور پھر وہ فجر کی نماز کے لیے غسل کرے ۔راوی بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عباس سے کہا گیا کہ کوفہ ایک سرد علاقہ ہے اس عورت کے لیے یہ بات پریشای کا باعث ہو گی تو حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو اس عورت کو اس سے زیادہ شدید آزمائش میں مبتلا کر سکتا تھا ۔
سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 1173
