مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْحَيْضِ ‹ بَابُ مَا تَرَى أَيَّامَ حَيْضَتِهَا أَوْ بَعْدَهَا · حديث 1161
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، وَإِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: «إِذَا رَأَتِ الْمَرْأَةُ بَعْدَ الطُّهْرِ مَا يَرِيبُهَا مِثْلَ غُسَالَةِ اللَّحْمِ، أَوْ مِثْلَ غُسَالَةِ السَّمَكِ، أَوْ مِثْلَ قَطَرَاتِ الدَّمِ قَبْلَ الرُّعَافِ فَإِنَّ ذَلِكَ رَكْضَةٌ مِنْ رَكَضَاتِ الشَّيْطَانِ فِي الرَّحِمِ، فَلْتَنْضَحْ بِالْمَاءِ وَلْتَتَوَضَّأْ وَلْتُصَلِّي». زَادَ إِسْرَائِيلُ فِي حَدِيثِهِ: «فَإِنْ كَانَ دَمًا عَبِيطًا لَا خَفَاءَ بِهِ فَلْتَدَعِ الصَّلَاةَ»
حضرت علی فرماتے ہیں : جب کوئی عورت طہر کے بعد ایسی چیز دیکھے جو اُ سے شک میں مبتلا کر دے جو یوں ہوتی ہیے جیسے وہ پانی ہوتا ہے جس کے ذریعے گوشت کو دھویا جائے یعنی خون لگنے سے اُس کا رنگ سرخ ہوجاتا ہے یا جس طرح مچھلی کو دھونے سے پانی ہوتا ہے یا جس طررح نکسیر سے پہلے خون کے قطرے ہوتے ہیں یعنی سرخ رنگ کا پتلا مواد ہو تو یہ شیطان کے رحم میں ٹھونگے مارنے کی وجہ سے ہوتا ہے وہ عورت پانی چھڑک کر وضو کر کے نماز ادا کرے ۔ اسائیل نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ لافاظ نقل کیے ہیں : جب گاڑھا خون ہو جس میں کوئی خفا ء نہ ہو تو وہ عورت نماز ترک کر دے گی ۔
عَلِيٍّ، ← الْحَارِثِ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مَعْمَرٌ، وَإِسْرَائِيلُ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 1161
