مصنف عبدالرزاق · كتاب الطهارة ‹ بَابُ بَدْءِ التَّيَمُّمِ · حديث 891
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَرْمَلَةَ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ: إِنِّي احْتَلَمْتُ قَبْلَ الصُّبْحِ فَلَمْ أَجِدْ مَاءً فَتَيَمَّمْتُ وَصَلَّيْتُ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ وَجَدْتُ الْمَاءَ فَأَغْتَسِلُ؟ فَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ: «إِنْ شِئْتَ فَاغْتَسِلْ، وَإِنْ شِئْتَ فَلَا تَغْتَسِلْ». قَالَ أَبُو حَرْمَلَةَ: فَقُلْتُ لِابنِ الْمُسَيِّبِ: أَلَا تَسْمَعُ إِلَى مَا يَقُولُ هَذَا؟ وَحَدَّثْتُهُ بِقَولِهِ، فَقَالَ ابْنُ الْمُسَيِّبِ: «أَفَعَلَ؟» فَقُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: فَحَصَبَ نَحْوَهُ، وَقَالَ: «أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ أَحَدُكُمْ لَا يَدْرِي مَا الْفُتْيَا، لِمَ يُفْتِي النَّاسَ؟ يَا هَذَا طَهُرْتَ لِصَلَاتِكَ فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَاءَ فَالْغُسْلُ وَاجِبٌ عَلَيْكَ»
عبدالرحمٰن بن حرمایہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن کے پاس آیا اور بولا : صبح سے پہلے مجھے احتلام ہو گیا مجھے پانی نہیں ملا میں نے تیمم کر کے نماز ادا کر لی جب سبح ہوئی تو مجھے پانی ملا تو کیا میں غسل کر لوں ؟ تو ابو سلمہ نے کہا : اگر تم چاہو تو غسل کر لو اور اگر نہ چاہو تو نہ کرو۔ ابو حرملہ بیان کرتے ہیں : میں نے سعید بن مسیب سے کہا کہ کیا آپ نے سنا نہیں جو یہ کہ رہے ہیں ! پھر میں نے اُن کے بارے میں سعید کو بتایا تو سعید نے فرمایا : کیا اُس نے ایسا کہا ہے ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں! تو سعید نے اُن کی طرف کنکریاں پھینکیں اور بولے : کوئی ایسا شخص جسے پتا ہی نہیں ہے کہ مسئلہ کا جواب کیا ہے وہ لوگوں کو فتوٰ کیوں دیتا ہے اے شخص ! تم اپنی نماز کے لیے طہارت حاصل کرو اور پھر جب تمہیں پانی مل جائے تو تم پر غسل کرنا واجب ہو گا ۔
عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 891
