مصنف عبدالرزاق · كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَنْ مَسَّ ذَكَرَ غَيْرِهِ · حديث 449
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: مَسَسْتُ قُنْبَ حِمَارٍ أَوْ ثَيْلَ جَمَلٍ قَالَ: «أَمَّا قُنْبُ الْحِمَارِ فَكُنْتَ مُتَوَضِّئًا، وَأَمَّا مِنْ ثَيْلِ الْجَمَلِ فَلَا» قُلْتُ: فَمَاذَا يُفَرِّقُ بَيْنَهُمَا؟ قُلْتُ: «مِنْ أَجْلِ الْحِمَارِ وَهُوَ أَنْجَسُ» قَالَ: وَأَقُولُ: «أَنَا أَنْظُرُ كُلَّ شَيْءٍ نَجِسٍ كَهَيْئَةِ الْحِمَارِ لَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ مَسَّ مِنْهُ ذَلِكَ فَعَلَيْهِ الْوُضُوءُ، وَكُلُّ شَيْءٍ يُؤْكَلُ لَحْمُهُ كَهَيْئَةِ الْبَعِيرِ مَسَّ ذَلِكَ مِنْهُ فَلَا وُضُوءَ مِنْهُ»
ابن جریح بیان کرتے ہیں: میں نے عطا ء سے سوال کیا : میں اگر گدھے کی شرمگاہ یا اونٹ کی شرمگاہ کو چھو لیتا ہوں ( تو اس کا کیا حکم ہو گا ) اُنہوں نے جواب دیا : جہاں تک گدھے کی شرنگاہ کا تعلق ہے تو اس صورت میں تم پر وضو کرنا لازم ہو گا لیکن جہاں تک اونٹ کی شرمگاہ کا تعلق ہے تو اس صورت میں لازم نہیں ہو گا ۔ میں نے دریافت کیا : ان دونوں میں فرق کیوں ہے ؟ اُنہوں نے جواب دیا : گدھے کی وجہ سے کیونکہ وہ زیادہ نجس ہے ۔ ابن جریح کہتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہر وہ چیز جو گدھے کی نجس ہو جس کا گوشت نہ کھایا جاتا ہو اگر اُس کے جسم میں سے اُس کی شرمگاہ کو چھو لیا جائے تو ایسے شخص پر وضو کرنا لازم نہیں ہو گا اور ہر ایسی چیز جو اونٹ کی مانند ہو جس کا گوست کھایا جاتا ہو اگر اُس کی شرمگاہ کو چھو لیا جائے تو پھر آدمی پر اس عمل کی وجہ سے وضو لازم نہیں ہو گا ۔
ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Purity › The door of one who touched the other · Hadith 449
