مصنف عبدالرزاق · كتاب الطهارة ‹ بَابُ سُؤْرِ الْهِرِّ · حديث 353
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، وَكَانَتْ عِنْدَ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَسَكَبَتْ لَهُ وَضُوءًا فَجَاءَتْ هِرَّةٌ فَشَرِبَتْ، فَأَصْغَى لَهَا الْإِنَاءَ حَتَّى تَشْرَبَ قَالَتْ كَبْشَةُ: فَرَآنِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ فَقَالَ: أَتَعْجَبِينَ يَا بِنْتَ أَخِي؟ قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ إِنَّمَا هِيَ مِنَ الطَّوَّافِينَ وَالطَّوَّافَاتِ»
سیدہ کبثہ بنت کعب بن مالک جو حضرت ابو قتادہ کے صاحبزادے کی اہلیہ ہیں وہ بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ حضرت ابو قتادہ اُن کے ہاں تشریف لائے اُس خاتون نے اُن کے لیے وضو کا پانی رکھا اسی دوران ایک بلی آگئی اور اُس میں سے پینے لگی تو حضرت ابو قتادہ نے وہ برتن اُس کی طرف کر دیا یہاں تک کے اُس بلی نے وہ پانی پی لیا ۔ سیدہ کبثہ بیان کرتی ہیں کہ جب حضرت ابو قتادہ نے میری طرف دیکھا کہ میں اُن کی طرف تعجب سے دیکھ رہی ہوں تو اُنہوں نے فرمایا : اے میری بھتیجی ! کیا تم حیران ہو رہی ہو ؟ اُس خاتون نے جواب دیا : جی ہاں ! حضرت ابو قتادہ نے بتایا کہ نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : یہ نجس نہیں ہیں یہ تمہارے آنے جانے والے جانوروں میں سے ایک ہیں ۔
كَانَتْ عِنْدَ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ، ← كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ← حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← مالک بن أنس ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Purity › Chapter of the secret stories · Hadith 353
