مصنف عبدالرزاق · كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْمَذْيُ · حديث 601
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ لِلْمِقْدَادِ: سَلْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الرَّجُلِ يُلَاعِبُ امْرَأَتَهُ وَيُكَلِّمُهَا فَيُمْذِي، لَوْلَا أَنِّي أَسْتَحْيِي وَأَنَّ ابْنَتَهُ تَحْتِي لَسَأَلْتُهُ، فَسَأَلَ الْمِقْدَادُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِيَغْسِلْ ذَكَرَهُ، وَلْيَتَوَضَّأْ، ثُمَّ لِيَنْضَحْ فِي فَرْجِهِ»
عائش بن انس بیان کرتے ہیں: حضرت علی نے حضرت مقداد سے فرمایا : تم میرے لیے نبی اکرم ﷺ سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کرو جو اپنی بیوی کو ساتھ خوش فعلی کر رہا ہوتا ہے اور بات چیت کر رہا ہوتا ہے کہ اُس کی مذی خارج ہوجاتی ہے کیونکہ نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی میری اہلیہ ہیں اس لیے اگر مجھے اس حوالے سے شرم نہ آرہی ہوتی تو میں خود نبی اکرم ﷺ سے خود یہ سوال کرتا ۔ حضرت مقداد نے یہ سوال کیا تو نبی اکرم ﷺ نی ارشاد فرمایا : ایسی شخص کو چاہیے کہ وہ اپنی شرمگاہ کو دھو کر وضو کرلے اور اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑک لے ۔
عَلِيٌّ لِلْمِقْدَادِ: سَلْ لِي رَسُولَ اللهِ ← عائشِ بنِ أنسٍ ← عَطَاءٍ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Purity › The door of Madh · Hadith 601
