مصنف عبدالرزاق · كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَنْ يَطَأُ نَتْنًا يَابِسًا أَوْ رَطْبًا · حديث 89
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ قَالَ: كُنَّا نَدْخُلُ عَلَى أَبِي الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيِّ فَنَتَوَضَّأُ فَيَقُولُ: «أَمَا تَوَضَّئُونَ فِي رِحَالِكُمْ؟» فَنَقُولُ: بَلَى وَلَكِنَّا نَطَأُ فِي الْقَشْبِ قَالَ: «فَلَا وُضُوءَ عَلَيْكُمْ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَشَدَّ مِنْ ذَاكُمْ، إِنَّ الرِّيحَ تُطَيِّرُهُ عَلَيْهِ فِي رُءُوسِكُمْ وَلِحَاكُمْ»
عاصم بن سلیمان بیان کرتے ہیں : ہم ابو العالیہریاجی کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نے وضو کرنا شروع کیا تو اُنہوں نے فرمایا: کیا تم لوگ اپنی رہائشی جگہ سے وضو کر کے نہیں آئے؟ ہم نے کہا : جی ہاں ( کر کے آئے تھے) لیکن ہم نے راستے میں گندگی پر پاؤں دے دیا تھا تو اُنہوں نے فرمایا : ایسی صورت میں تم پر وضو لازم نہیں ہو گا کیا میں تمہیں اس زیادہ شدید صورت حال کے بارے میں نہ بتاؤں! بعض اوقات ہوا اسے اُڑا کر تمہارے سروں اور داڑھیوں میں ڈال دیتی ہیے ( پھر تو کچھ نہیں ہوتا)۔
«أَمَا تَوَضَّئُونَ فِي رِحَالِكُمْ؟» فَنَقُولُ: بَلَى وَلَكِنَّا نَطَأُ فِي الْقَشْبِ ← كُنَّا نَدْخُلُ عَلَى أَبِي الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيِّ فَنَتَوَضَّأُ ← عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Purity › The door of one who steps in stinky, dry or wet · Hadith 89
