مصنف عبدالرزاق · كتاب الطهارة ‹ بَابُ كَمْ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ · حديث 793
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ فَقَالَ: مَا حَاجَتُكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: جِئْتُ أَبْتَغِي الْعِلْمَ قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ خَارِجٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ فِي طَلَبِ عِلْمٍ، إِلَّا وَضَعَتْ لَهُ الْمَلَائِكَةُ أَجْنِحَتَهَا رِضًى بِمَا يَصْنَعُ»، قُلْتُ: جِئْتُكَ أَسْأَلُكَ، عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَ: نَعَمْ، كُنْتُ فِي الْجَيْشِ الَّذِي بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَنَا أَنْ نَمْسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ إِذَا نَحْنُ أَدْخَلْنَاهُمَا عَلَى طُهُورٍ ثَلَاثًا، إِذَا سَافَرْنَا وَلَيْلَةً إِذَا أَقَمْنَا وَلَا نَخْلَعُهُمَا مِنْ غَائِطٍ وَلَا بَوْلٍ وَلَا نَوْمٍ وَلَا نَخْلَعُهُمَا إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ قَالَ: وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ بِالْمَغْرِبِ [ص:205] بَابًا مَفْتُوحًا مَسِيرَتُهُ سَبْعِينَ سَنَةً لَا تُغْلَقُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ نَحْوِهِ»
زربن حبش بیان کرتے ہیں: میں حضرت صفوان بن عسال مرادی کی خدمت میں حاضر ہوا تو اُنہوں نے دریافت کیا : تمہیں کیا کام ہے ؟ میں نے کہا : میں علم کے حصول کے لیے آیا ہوں ! اُنہوں نے فرمایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : اپنے گھر سے نکلنے والا جو بھی شخص علم کے حصول کے لیے نکلتا ہے تو فرشتے اُس کے عمل سے راضی ہو کر اپنے پر اُس کے لیے بچھا دیتے ہیں ۔میں نے عرض کی : میں آپ کے پاس موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں دریافت کرنے کے بارے میں حاضر ہوا ہوں۔اُنہون نے فرمایا: ٹھیک ہے ! میں اُس لشکر میں موجود تھا جسے نبی اکرم ﷺ نے روانہ کیا تھا آپ نے ہمیں یہ ہدایت کی کہ جب ہم موزے باوضو حالت میں پہن لیں تو تین دن تک اُس پر مسح کریں جب ہم سفر کر رہے ہوں اور جب ہم مقیم ہوں دونوں حالتوں میں ہم اُن پر تین دن تک مسح کر سکتے ہیں اور ہم پاخانہ کرنے یا پیشاب کرنے یا سونے کے بعد وضو کرتے ہوئے اُنہیں نہ اُتاریں اور ہم صرف جنابت کی حالت میں اُنہیں اُتاریں ۔ اُنہوں نے یہ بھی بتایا کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : مغرب کی سمت میں ایک کھلا ہوا دروازہ ہے جس کی مسافت ستر سال کے برابر ہے وہ اُس وقت تک بند نہیں ہو گا جب تک سورج اس سمت یعنی مغرب کی سمت سے طلوع نہیں ہو جاتا ۔
زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Purity › The door of how much he wipes on his socks · Hadith 793
