مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجُمُعَةِ ‹ بَابُ اسْتِقْبَالِ النَّاسِ · حديث 5397
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: فَقَصَصُ الْقَاصِّ هَذَا غَيْرُ خُطْبَةِ الْإِمَامِ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ أَأَذْكُرُ اللَّهَ وَأَنَا أَسْمَعُهُ وَأَعْقِلُهُ؟ قَالَ: «نَعَمْ، وَاجْلِسْ مَعَهُ مَا شِئْتَ وَقُمْ إِذَا شِئْتَ وَارْفَعْ صَوْتَكَ بِبَعْضِ الذِّكْرِ»، قُلْتُ: فَعَطَسَ إِنْسَانٌ فَحَمِدَ، شَمِّتْهُ؟ قَالَ: «أَيْ لَعَمْرِي» قُلْتُ: أَفَنُحَدِّثُ أَنَا وَإِنْسَانٌ وَنَحْنُ نَسْمَعُهُ؟ قَالَ: «نَعَمْ، وَأَنْ تُسَبِّحَ وَتَذْكُرَ أَحَبُّ إِلَيَّ»
5397 - ابن جریح بیان کرتے ہیں: میں نے عطا ء سے دریافت کیا: یہ وعظ واعظوں کی تقریں جو امام کے جمعہ کے دن کے خطبہ کے علاوہ ہوتی ہیں کیا اس کے دوران میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کر سکتا ہوں ؟ جبکہ وہ تقریر سن بھی رہا ہوں اور وہ بات مجھے سمجھ بھی آرہی ہو ؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی ہاں! تم اُس واعظ کے ساتھ جب تک چاہو بیٹھے رہو جب چاہو اُٹھ جاؤ اور ذکر کے دوران تم اپنی آواز بلند بھی کر سکتے ہو ۔ میں نے دریافت کیا: ایک شخص کو اس دوران چھینک آتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتا ہے تو کیا میں اُسے جواب دے سکتا ہے ؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی ہاں! مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے ! میں نے دریافت کیا: جب ہم لوگ اُس واعظ کی تقریر سن رہے ہوں تو میں اور کوئی اور شخص آپس میں بات چیت کر سکتے ہیں؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی ہاں! لیکن اگر تم صرف تسبیح پڑھو اور ذکر کرو تو یہ چیز میرے نزدیک زیادہ محبوب ہے ۔
ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Friday Book › The door to welcoming people · Hadith 5397
