مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجُمُعَةِ ‹ بَابُ يُكَلِّمُ الْإِمَامُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي غَيْرِ الذِّكْرِ · حديث 5385
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَكَانُوا يَتَوَقَّوْنَ أَنْ يْخَلِطُوا الْخُطْبَةَ بِشَيْءٍ إِلَّا بِذِكْرِ اللَّهِ تَعَالَى؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قُلْتُ: أَكَانُوا يَتَشَهَّدُونَ فِي الْخُطَبِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قُلْتُ: فَلَمَّا سُمِّينَا الْحَامِدِينَ؟ قَالَ: «نَقُولُ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ»، قُلْتُ: وَالِاسْتِسْقَاءُ أَوِ الِاسْتِشْفَاءُ؟ قَالَ: «لَا بَأْسَ»
5385 - ابن جریح بیان کرتے ہیں: میں نے عطا ء سے دریافت کیا: کیا پہلے لوگ اس بارے میں احتیاط کرتے تھے کہ وہ خطبہ کے ساتھ خلط ملط کر دیں ماسوائے اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی ہاں! میں نے دریافت کیا: کیا وہ لوگ جمعہ کے دن خطبہ کے دوران تشہد کے کلمات پڑھتے تھے؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی ہاں! میں نے دریافت کیا: پھر ہمارا نام حمد کرنے والے کیوں رکھا گیا ہے ؟ اُنہوں نے جواب دیا: کیونکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو تما م جہانوں کا پر وردگار ہے ۔ میں نے دریافت کیا: بارش کی دعا مانگنے یا شفا کی دعا مانگنے کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ اُنہوں نے جواب دیا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
لاَ بَأْسَ. ← «نَقُولُ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ»، قُلْتُ: وَالِاسْتِسْقَاءُ أَوِ الِاسْتِشْفَاءُ؟ ← «نَعَمْ»، قُلْتُ: فَلَمَّا سُمِّينَا الْحَامِدِينَ؟ ← «نَعَمْ»، قُلْتُ: أَكَانُوا يَتَشَهَّدُونَ فِي الْخُطَبِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ؟ ← قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَكَانُوا يَتَوَقَّوْنَ أَنْ يْخَلِطُوا الْخُطْبَةَ بِشَيْءٍ إِلَّا بِذِكْرِ اللَّهِ تَعَالَى؟ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Friday Book › Chapter: The Imam speaks on the pulpit on Friday, on other than the mentioned · Hadith 5385
