مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجُمُعَةِ ‹ بَابُ مَا أَوْجَبَ الْإِنْصَاتَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ · حديث 5373
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ: إِنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ: قَلَّ مَا يَدَعُ أَنْ يَخْطُبَ بِهِ الْإِمَامُ إِذَا قَامَ: اسْتَمِعُوا وَأَنْصِتُوا فَإِنَّ الْمُنْصِتَ الَّذِي لَا يَسْمَعُ مِنَ الْخُطْبَةِ، مِثْلَ مَا لِلْمُسْتَمِعِ الْمُنْصِتِ، فَإِذَا قَامَتِ الصَّلَاةُ فَاعْدِلُوا الصُّفُوفَ، وَحَاذُوا بِالْمَنَاكِبِ، فَإِنَّ اعْتِدَالَ الصَّفِّ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ، ثُمَّ لَا يُكَبِّرُ حَتَّى يَأْتِيَهُ رِجَالٌ، وَكَّلَهُمْ بِتَسْوِيَةِ الصُّفُوفُ، فَيُخْبِرُوهُ أَنَّهَا قَدِ اسْتَوَتْ فَيُكَبِّرُ
5373 - مالک بن ابو عامر نے حضرت عثمان غنی کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے : وہ خطبہ میں یہ فرماتے تھے اور بہت کم ایسا ہوتا تھا کہ وہ کسی خطبہ میں اسے ترک کر تے تھے جب وہ کھڑے ہوتے تھے تو یہ کہتے تھے : غور سے سنو اور خاموش رہو! کیونکہ ایسا شخص جو خطبہ کی آواز سنتا اور پھر بھی خاموش رہتا ہے اُسے اُس شخص کی مانند اجر ملتا ہے جو خطبہ کی آواز سن رہا ہوتا ہے اور خاموش رہتا ہے پھر جب نماز کھڑی ہو تو صفیں درست رکھو کندھے برابر رکھو کیونکہ صفیں درست رکھنا نماز کی تکمیل کا حصہ ہے پھر وہ اُس وقت تکبیر نہیں کہتے تھے جب تک لوگ آکر اُنہیں بتا نہیں دیتے تھے کہ صفیں درست ہو چکی ہے جب لوگ اُنہیں بتا دیتے تھے کہ صفیں درست ہو چکی ہیں تو حضرت عثمان اُس وقت تکبیر کہتے تھے ۔
إِنَّهُ كَانَ ← عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، ← مَالِکَ بْنَ أَبِي عَامِرٍ ← أَبِي النَّضْرِ ← مالک بن أنس ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Friday Book › Chapter What is Obligatory to Listen on Friday · Hadith 5373
