Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي داود الطيالسي

Musnad Abu Dawood Tayalisi

by Abu Dawood Tiyalisi

2,890 Hadith613 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 37

37 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَزُهَيْرِ بْنِ [ص:42] مُحَمَّدٍ التَّمِيمِيِّ، كِلَاهُمَا عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ»

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کوفرماتے سنا: اے لوگو! بے شک اعمال ( کے ثواب )کا دارو مدار نیت پر ہے‘ ہر آدمی کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی‘ سوجس نے ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف کی ‘اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہو گی اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لیے ہو‘ تا کہ اس کو پالے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے ہجرت کی تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہوگی ۔ جس کی طرف اس نے ہجرت کی ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← عَلْقَمَۃَ بْنِ وَقَّاصِ اللَّیْثِیِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَزُهَيْرِ بْنِ [ص:42] مُحَمَّدٍ التَّمِيمِيِّ، كِلَاهُمَا ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 37

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 38

38 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الرَّبِيعِ الْعَدَوِيِّ، قَالَ: لَقِينَا عُمَرَ فَقُلْنَا لَهُ: إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو حَدَّثَنَا بِكَذَا وَكَذَا فَقَالَ عُمَرُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُ قَالَهَا ثَلَاثًا ثُمَّ نُودِيَ بِالصَّلَاةِ جَامِعَةً فَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ النَّاسُ [ص:43] فَخَطَبَهُمْ عُمَرُ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ»

حضرت سلیمان بن الربيع العدوی فرماتے ہیں کہ ہماری ملاقات حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی ‘ہم نے آپ سے عرض کی: حضرت عبداللہ بن عمر وایسے ایسے ہمیں حدیثیں بیان کرتے ہیں ‘تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عبد اللہ بن عمر و جو کہتے ہیں وہ زیادہ معلومات رکھتے ہیں (اس بارے ) جو وہ کہتے ہیں؟ یہ الفاظ آپ نے تین مرتبہ کہے‘ پھر نماز کے لیے آواز دی: الصلوۃ الجامعۃ ! تو لوگ نماز پڑھنے کے لیے آپ کے پاس جمع ہو گئے‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں خطبہ دیا تو فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کوفرماتے سنا: ایک گروہ میری اُمت میں سے ہمیشہ حق پر رہے گا ‘یہاں تک کہ اللہ کاحکم آ جاۓ ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← قَالَهَا ثَلَاثًا ثُمَّ نُودِيَ بِالصَّلَاةِ جَامِعَةً فَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ النَّاسُ [ص:43] فَخَطَبَهُمْ عُمَرُ ← عُمَرُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو أَعْلَمُ بِمَا ← بِکَذَا وَکَذَا ← لَقِينَا عُمَرَ فَقُلْنَا لَهُ: إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ← سليمان بن الربيع العدوي ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 38

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 39

39 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْخُزَاعِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ الْقُرَشِيِّ، وَابْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، أَنَّهُمَا سَمِعَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ: أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُورَةً مِنَ الْقُرْآنِ فَحَفِظْتُهَا وَوَعَيْتُهَا فَبَيْنَا أَنَا قَائِمٌ فِي الْمَسْجِدِ أُصَلِّي إِذَا هِشَامُ بْنُ حَكِيمٍ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِي فَافْتَتَحَ تِلْكَ السُّورَةَ عَلَى غَيْرِ الْحَرْفِ الَّذِي أَقْرَأَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَمَمْتُ أَنْ أُسَاوِرَهُ فِي الصَّلَاةِ ثُمَّ كَفَفْتُ عَنْهُ حَتَّى صَلَّى فَأَخَذْتُ بِمَجَامِعِ ثَوْبِهِ فَقُلْتُ: مَنْ أَقْرَأَكَ هَذِهِ الْآيَةَ؟ فَقَالَ: أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: كَذَبْتَ لَقَدْ أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى غَيْرِ هَذَا الْحَرْفِ فَخَرَجْتُ أَقُودُهُ فَلَمَّا رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِي: «يَا عُمَرُ خَلِّ سَبِيلَهُ» ، فَأَرْسَلْتُ ثَوْبَهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقْرَأْتَنِي سُورَةً مِنَ الْقُرْآنِ فَإِذَا هُوَ يَقْرَأُ عَلَى خِلَافِ مَا أَقْرَأْتَنِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْرَأْ يَا هِشَامُ» ، فَقَرَأَ فَقَالَ: «هَكَذَا أُنْزِلَتْ» ، ثُمَّ قَالَ لِي: «اقْرَأْ يَا عُمَرُ» ، فَقَرَأْتُ فَقَالَ: «هَكَذَا أُنْزِلَتْ، إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ [ص:45] أَحْرُفٍ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ»

حضرت مسور بن مخرمہ قرشی اور حضرت ابن عبد القاری دونوں سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کوفر ماتے سنا کہ مجھے رسول اللہﷺنے قرآن پاک سے ایک سورت پڑھائی‘ سو میں نے اس کو یاد کیا اور دل میں محفوظ کر لیا‘ اس دوران کہ میں مسجد میں کھڑا ہوا نماز پڑھنے کے لیے کہ ہشام بن حکیم میرے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے تو انہوں نے وہ سورت اس قرأت پر نہیں پڑھی جس قرأت پر مجھے رسول اللہ ﷺنے پڑھائی تھی‘ سو میں نے نماز میں اُن کو روکنے کا ارادہ کر لیا‘ پھر میں رُک گیا یہاں تک کہ انہوں نے نماز پڑھ لی‘ پھر میں نے اُن کو کپڑے سے پکڑا۔ میں نے کہا: آپ کو یہ سورت کس نے پڑھائی ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے رسول اللہ ﷺ نے پڑھائی ہے ۔ ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:)میں نے کہا کہ آپ جھوٹ بول رہے ہیں ‘بے شک میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس قرأت پر نہیں پڑھی ‘سو میں اُن کے ہاتھ کو پکڑ کر نکلا ‘جب مجھے رسول اللہ ﷺنے دیکھا تو فرمایا: اے عمر ! اس کا راستہ چھوڑ دے۔ تو میں نے اُن کے کپڑے کو چھوڑ دیا ‘میں نے عرض کی یا رسول اللہ! مجھے آپ نے جو سورت قرآن پاک سے پڑھائی تھی‘ یہ اس کے علاوہ قرأت پر پڑ ھ ر ہا تھا جس قرأت پر آپ نے مجھے پڑھائی تھی ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے ہشام! پڑھ! انہوں نے پڑھی‘ تو آپ ﷺنے فرمایا یہ سورت اسی طرز پر اُتری تھی‘ پھر مجھ سے فرمایا: اے عمر! پڑھ! میں نے پڑھی تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ سورت اسی طرح نازل ہوئی ہے‘ بے شک قرآن پاک سات قرأ توں پر اُترا ہے ‘سوتمہیں جوقرأت آسان لگے اس کو پڑ ھ لو۔

ابْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، أَنَّهُمَا سَمِعَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ← الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ الْقُرَشِيِّ، ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْخُزَاعِيُّ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 39

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 40

40 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: تَرَائَيْنَا الْهِلَالَ فَمَا مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَآهُ غَيْرِي فَقُلْتُ لِعُمَرَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَمَا تَرَاهُ؟ فَجَعَلْتُ أُرِيهِ إِيَّاهُ فَلَمَّا أَعْيَاهُ أَنْ يَرَاهُ قَالَ: سَأَرَاهُ وَأَنَا مُسْتَلْقٍ عَلَى فِرَاشِي ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا عَنْ يَوْمِ بَدْرٍ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْبِرُنَا بِمَصَارِعِ الْقَوْمِ بِالْأَمْسِ: «هَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ إِنْ شَاءَ اللَّهُ غَدًا، هَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ إِنْ شَاءَ اللَّهُ غَدًا» [ص:46]، فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ مَا أَخْطَئُوا تِلْكَ الْحُدُودَ وَجَعَلُوا يُصْرَعُونَ عَلَيْهَا ثُمَّ أُلْقُوا فِي الْقَلِيبِ وَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمْ رَبُّكُمْ حَقًّا؟ فَقَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا» ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُكَلِّمُ أَجْسَادًا لَا أَرْوَاحَ فِيهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ مِنْهُمْ وَلَكِنَّهُمْ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يَرُدُّوا عَلَيَّ»

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے چاند کو دیکھا ‘لوگوں میں سے ہر ایک کا خیال تھا کہ اس کے علاوہ کوئی نہیں دیکھ رہا ‘سو میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: اے امیرالمومنین ! کیا آپ نےچاند کو دیکھا ہے؟ تو میں اس چاند کو دیکھنے لگا جب چاند کے دیکھنے نے نہیں تھکا دیا تو فرمانے لگے: میں عنقریب دیکھ لوں گا ( جب) میں بستر پر لیٹنے لگا ہوں‘ پھر آ پ ہمیں غزوۂ بدر کے متعلق بتانے لگے کہ نبی اکرم ﷺایک دن پہلے کا فرقوم کے پچھا ڑ نے کی جگہوں کے متعلق آ گاہ کر چکے تھے کہ یہ فلاں کے گرنے کی جگہ ہے انشاء اللہ کل‘ یہ فلاں کے گرنے کی جگہ ہے انشاءاللہ کل‘ قسم ہے اس ذات کی جس نے انہیں حق کے ساتھ بھیجا ہے وہ کافر ( بیان کردہ) حدود سے آگے پیچھے نہ ہٹے اور انہی مقامات پہ گرنا شروع ہو گئے ‘پھر انہیں کنویں میں پھینک دیا گیا‘ پھر نبی اکرمﷺتشریف لاۓ اور کہا :اے فلاں بن فلاں! کیا تم نے اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا ہے جو اس نے تمہارے ساتھ کیا ہے‘ تحقیق میں نے اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا ہے‘ ( حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :) میں نے عرض کی کہ یارسول اللہ ! کیا آپ ان جسموں سے گفتگو کر رہے ہیں جو روحوں سے خالی ہیں‘ تو نبی اکرم ﷺنے جواب و یا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے‘ تم ان سے بڑھ کر نہیں سننے والے‘ لیکن یہ مرے ہوۓ ہیں جواب دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 40

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 41

41 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: " وَافَقْتُ رَبِّي [ص:47] عَزَّ وَجَلَّ فِي أَرْبَعٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ صَلَّيْتَ خَلْفَ الْمَقَامِ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى} [البقرة: 125] وَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ ضَرَبْتَ عَلَى نِسَائِكَ الْحِجَابَ فَإِنَّهُ يَدْخُلُ عَلَيْكَ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ} [الأحزاب: 53] ، وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ طِينٍ} [المؤمنون: 12] الْآيَةَ، فَلَمَّا نَزَلَتْ قُلْتُ أَنَا: تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ فَنَزَلَتْ {فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ} [المؤمنون: 14] وَدَخَلْتُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَهُنَّ: لَتَنْتَهُنَّ أَوْ لَيُبْدِلَنَّهُ اللَّهُ بِأَزْوَاجٍ خَيْرٍ مِنْكُنَّ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ} [التحريم: 5] الْآيَةَ "

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے رب نے چار مقام میں میری موافقت فرمائی ‘(۱) میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ! اگر ہم مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھیں‘ تو یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی:’’وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى ‘‘(۲) میں نے عرض کی : یارسول اللہ !اگر آپ اپنی بیویوں کو پردہ کا حکم دیں کیونکہ آپ کے پاس نیک اور بُرے لوگ آ تے ہیں ‘تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ’’وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ ‘‘ اور یہ آیت نازل ہوئی ’’وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ طِينٍ ‘‘۔ سو جب یہ آیت نازل ہوئی تو میں نے کہا: تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ ‘‘ تو یہ آیت نازل ہوئی: ’’فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ ‘‘اور میں نبی اکرم ﷺ کی از واج کے پاس کیا تو میں نے ان سے کہا: تمہیں دور کر دے گا ‘یا اللہ تعالی تم سے بہتر بیویاں آپ کو عطا فرماۓ گا ‘تو یہ آیت نازل ہوئی:’’عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ ‘‘پوری آیت۔

عُمَرُ وَافَقْتُ رَبِّي [ص:47] عَزَّ وَجَلَّ فِي أَرْبَعٍ فَقُلْتُ: ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 41

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 42

42 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَعْوَلَتْ عَلَيْهِ حَفْصَةُ، فَقَالَ عُمَرُ: أَمَا سَمِعْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْمُعْوَلُ عَلَيْهِ يُعَذَّبُ»

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو زخمی کیا گیا تو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا آپ پر رونے لگیں‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا آپ نے نبی کریم ﷺکا فرمان نہیں سنا کہ میت پر رونے کی وجہ سے اس کو عذاب دیا جا تا ہے ۔

«الْمُعْوَلُ عَلَيْهِ يُعَذَّبُ» ← النَّبِيِّ ← لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ أَعْوَلَتْ عَلَيْهِ حَفْصَةُ، فَقَالَ عُمَرُ: أَمَا ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 42

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 43

43 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذُبْيَانَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ: لَا تُلْبِسُوا نِسَاءَكُمُ الْحَرِيرَ فَإِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ»

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوۓ فرمایا کہ تم عورتوں کو ریشم نہ پہناؤ‘ کیونکہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ رسول اللہﷺنے فرمایا : جو آ دمی دنیا میں ریشم پہنتا ہے‘ اس کو آخرت میں ریشم نہیں پہنا یا جاۓ گا۔

عُمَرَ، ← وهو يخطب الناس لا تلبسوا نساءكم الحرير فإني ← ابْنُ الزُّبَيْرِ ← أبا ذبيان ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 43

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 44

44 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ، قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالْأَرْنَبِ فَقَالَ: لَوْلَا مَخَافَةُ أَنْ أَزِيدَ أَوْ أَنْقُصَ لَحَدَّثْتُكُمْ بِحَدِيثِ الْأَعْرَابِيِّ حِينَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْأَرْنَبِ فَذَكَرَ أَنَّهُ رَأَى بِهَا دَمًا فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَأْكُلُوهَا وَقَالَ لِلْأَعْرَابِيٍّ: «ادْنُ فَكُلْ» ، فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ [ص:50] فَقَالَ: «أَيُّ الصِّيَامِ تَصُومُ؟» فَقَالَ: مِنْ أَوَّلِ الشَّهْرِ وَآخِرِهِ قَالَ: «فَإِنْ كُنْتَ صَائِمًا فَصُمِ اللَّيَالِيَ الْبِيضَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ» وَلَكِنْ أَرْسِلُوا إِلَى عَمَّارٍ فَأَرْسَلُوا إِلَيْهِ فَجَاءَهُ فَقَالَ: أَشَاهِدٌ أَنْتَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَتَاهُ الْأَعْرَابِيُّ بِالْأَرْنَبِ فَقَالَ: رَأَيْتُهَا تَدْمَى؟ فَقَالَ عَمَّارٌ: نَعَمْ

حضرت ابن حوتکیہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس خرگوش لا یا گیا‘ تو آپ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر ( مجھے )زیادتی یا کمی کا خوف نہ ہوتا تو میں ضرور اعرابی کی حدیث بیان کرتا ‘جس وقت وہ ( د یہاتی ) رسول اللہﷺکے پاس خرگوش لے کر آیا ‘اس نے ذکر کیا کہ اس نے اس کا خون دیکھا ہے؟ تو آپ نے اُن کو کھانے کا حکم دیا‘ اور آپ ﷺ نے اعرابی سے فرمایا: قریب آؤ! اس (خرگوش) کو کھاؤ! اس نے عرض کی: میں روزہ کی حالت میں ہوں‘ آپﷺنے فرمایا :تو نے کون سا روزہ رکھا ہوا ہے؟ اس نے کہا :مہینہ کے اوّل اور آخر کے۔ آپ ﷺنے فرمایا: اگر تو نے روزے رکھنے ہیں تو ایام بیض کے روزے رکھ لیا کر‘ (ایام بیض یہ ہیں) تیرہ‘ چودہ‘ پندرہ تاریخ ( چاند کی) لیکن آپ لوگ عمار کے پاس جاؤ‘ان کو بلا کر لا ؤ ۔ سوانہوں نے انہیں بھیجا تو وہ ( یعنی حضرت عمار رضی اللہ عنہ ) آ ۓ تو (حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ) فرمایا: آپ رسول اللہﷺ کے لیے گواہ ہیں جس وقت دیہاتی خرگوش آ پ کے پاس لے کر آ یا تھا اور اس نے کہا تھا کہ میں نے اس کا خون دیکھا ہے ۔ تو انہوں ( حضرت عمار رضی اللہ عنہ ) نے عرض کی جی ہاں! ( اے امیر المؤمنین ! میں اس بات کا گواہ ہوں ) ۔

لَوْلَا مَخَافَةُ ← أُتِيَ عُمَرُ ← ابْنِ الْحَوْتَکِيَّةِ ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← حكيم بن جبير ← الْمَسْعُودِيِّ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 44

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 45

45 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ [ص:51] بْنِ عُقْبَةَ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ دِينَارٍ الْهُذَلِيِّ، عَنْ أَبِي يَزِيدَ الْخَوْلَانِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الشُّهَدَاءُ أَرْبَعَةٌ فَمُؤْمِنٌ جَيِّدُ الْإِيمَانِ لَقِيَ الْعَدُوَّ فَصَدَقَ اللَّهَ فَقَاتَلَ حَتَّى يُقْتَلَ فَذَلِكَ الَّذِي يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ أَعْيُنَهُمْ - وَرَفَعَ رَأْسَهُ حَتَّى وَقَعَتْ قَلَنْسُوَةٌ كَانَتْ عَلَى رَأْسِهِ، أَوْ عَلَى رَأْسِ عُمَرَ» فَهَذَا فِي الدَّرَجَةِ الْأُولَى - وَرَجُلٌ مُؤْمِنٌ جَيِّدُ الْإِيمَانِ إِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ كَأَنَّمَا يَضْرِبُ جِلْدَهُ شَوْكُ الطَّلْحِ مِنَ الْجُبْنِ أَتَاهُ سَهْمُ غَرْبٍ فَقَتَلَهُ فَهَذَا فِي الدَّرَجَةِ الثَّانِيَةِ، وَرَجُلٌ مُؤْمِنٌ خَلَطَ عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا لَقِيَ الْعَدُوَّ فَصَدَقَ اللَّهُ حَتَّى قُتِلَ فَهَذَا فِي الدَّرَجَةِ الثَّالِثَةِ، وَرَجُلٌ أَسْرَفَ عَلَى نَفْسِهِ فَلَقِيَ الْعَدُوَّ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ فَهَذَا فِي الدَّرَجَةِ الرَّابِعَةِ "

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو فرماتے سنا :شہداءچارقسم کے ہیں‘ ایک دو مؤمن جوعمدہ ایمان والا ہو ‘ دشمن سے اس کا آمنا سامنا ہو جاۓ تو وہ اللہ کے وعدہ کو سچ کر دکھاۓ‘ سو وہ ( اللہ کی راہ میں) لڑے یہاں تک کہ شہید ہو جاۓ‘ سو یہ وہ ہے جس کی طرف لوگ اپنی آ نکھیں اور سر اٹھا کر دیکھیں گے‘ اور آپ نے اپنا سر انور اٹھایا یہاں تک کہ وہ ٹو پی گرگئی جو آپ کے سر پرتھی‘ یا وہ ٹوپی جوحضرت عمر کے سر پر تھی‘ یہ شہید پہلے درجے میں ہو گا‘ اور وہ شخص عمدہ ایمان کا مالک ہے جب اس کا آمنا سامنا دشمن سے ہو جاۓ اور وہ دشمن اس مجاہد کے جسم پر بز دلی دکھاتے ہوۓ کیکر کے کانٹے کی طرح حملہ آور ہواور ایک اجنبی تیر اس مجاہد کو قتل کر دے تو یہ شہید دوسرے درجے میں ہو گا ‘اور وہ مرد مؤمن جس کے اچھے اور بُرے عمل دونوں ہوں‘ دشمن سے اس کا آمنا سامنا ہوا تو اللہ کے وعدہ کو سچ کر دکھاۓ یہاں تک کہ شہید ہو جاۓ ‘سو وہ تیسرے درجہ میں ہو گا‘ اور وہ شخص جس نے اپنی جان پرظلم کیا ‘پھر دشمن سے اس کا آ منا سامنا ہوا تو اس نے لڑائی کی ‘حتیٰ کہ وہ شہید ہو گیا تو وہ چوتھے درجہ میں ہوگا ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ: ← أَبِي يَزِيدَ الْخَوْلَانِيِّ، أَنَّهُ ← عَطَاءِ بْنِ دِينَارٍ الْهُذَلِيِّ؛ ← عَبْدِ اللَّهِ [ص:51] بْنِ عُقْبَةَ الْحَضْرَمِيِّ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 45

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 46

46 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَرَآهُ وَقَدْ أَضَاعَهُ صَاحِبُهُ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَبِيعَهُ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَشْتَرِيَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَشْتَرِهِ وَإِنْ كَانَ بِدِرْهَمٍ فَإِنَّ مَثَلَ الَّذِي يَعُودُ فِي صَدَقَتِهِ كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ»

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ انہوں نے ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں دیا‘ پس اس کے مالک کو دیکھا کہ وہ اس گھوڑے کو ضائع کر رہا ہے اوراس کا ارادہ تھا کہ اس کو فروخت کر دے تو انہوں ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ ) نے نبی اکر م ﷺسے اس کے متعلق پو چھا کہ میں اس کو خرید لوں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اسے نہ خرید و ‘اگر چہ وہ ایک درہم میں (فروخت) ہو‘ کیونکہ اس شخص کی مثال جو اپنے صدقہ میں لوٹتا ہے‘ اس کتے کی طرح ہے جواپنی قے کر کے چاٹ لیتا ہے۔

أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← خَارِجَةَ بْنِ مُصْعَبٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 46

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 47

47 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُسْلِيِّ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: ضِفْتُ عُمَرَ بْنَ [ص:53] الْخَطَّابِ فَقَالَ: يَا أَشْعَثُ احْفَظْ عَنِّي ثَلَاثًا حَفِظْتُهُنَّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسْأَلِ الرَّجُلَ فِيمَا ضَرَبَ امْرَأَتَهُ، وَلَا تَنَامَنَّ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ» وَنَسِيتُ الثَّالِثَةَ

حضرت اشعث بن قیس فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی مہمان نوازی کی‘ آپ نے فرمایا :اے اشعث ! مجھ سے تین باتیں یاد کر لو‘ میں نے ان تین باتوں کو رسول اللہﷺسے یاد کیا ہے‘ آدمی سے اس کے متعلق نہیں پو چھا جاۓ گا کہ تُو نے اپنی بیوی کو کیوں مارا تھا‘ اور ہرگز وتر پڑھے بغیر نہ سونا ‘اور تیسری بات میں بھول گیا ہوں ۔

يَا أَشْعَثُ احْفَظْ عَنِّي ثَلَاثًا حَفِظْتُهُنَّ ← ضِفْتُ عُمَرَ بْنَ [ص:53] الْخَطَّابِ ← الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُسْلِيِّ ← دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 47

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 48

48 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ زُبَيْدٍ الْيَامِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «صَلَاةُ السَّفَرِ رَكْعَتَانِ وَصَلَاةُ اللَّيْلِ رَكْعَتَانِ وَصَلَاةُ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَانِ [ص:54] تَمَامٌ غَيْرُ قَصْرٍ» عَلَى لِسَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سفر کی نماز دو رکعتیں اور رات کی دورکعتیں اور جمعہ کی دورکعتیں مکمل نماز ہے‘ نبی کریم ﷺکی زبان مبارک سے قصر نہیں بیان ہو ئیں۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← زُبَيْدٌ الْيَامِيُّ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 48

chevron_left Previous
12345…241
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
1. Book
    70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter
1. Book
    364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter541. Chapter542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter