مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ سَلَمَةُ بْنُ يَزِيدَ · حديث 1402
1402 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ يَزِيدَ الْجُعْفِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَكَانَتْ تَقْرِي الضَّيْفَ وَتُطْعِمُ الْجَارَ وَالْيَتِيمَ وَكَانَتْ وَأَدَتْ وَأْدًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَلِي سَعَةٌ [ص:641] مِنْ مَالٍ أَفَيَنْفَعُهَا أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَنْفَعُ الْإِسْلَامُ إِلَّا مَنْ أَدْرَكَهُ إِنَّهَا وَمَا وَأَدَتْ فِي النَّارِ» قَالَ: فَرَأَى ذَلِكَ قَدْ شَقَّ عَلَيَّ فَقَالَ: «وَأُمُّ مُحَمَّدٍ مَعَهَا مَا فِيهِمَا مِنْ خَيْرٍ»
حضرت سلمہ بن یزید رضی اللہ فر ماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے عرض کی :میری ماں فوت ہوگئی ہے،وہ مہمان نوازی کرتی اور پڑوسی اور یتیم کو کھانا کھلاتی تھی ،حالانکہ اس نے زمانہ جاہلیت میں بچی بھی زندہ درگور کی تھی ،میر ے پاس وسیع مال ہے کیا اس کو نفع ہو گا اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کروں ؟تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :اسلام نفع نہیں دیتا مگر اس کو جس نے اسلام کو پایا ،بلاشبہ تو جہنم میں ہے ،آپ نے دیکھا کہ یہ بات اس آدمی پر دشوار گزری ،آپ نے فرمایا ام محمد اس کے ساتھ ہے ،ان دونوں کاموں (یعنی مہمان نوازی ،پڑوسیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے )میں ا س کے لیئے فائدہ نہیں ہے۔)
سَلَمَةَ بْنِ يَزِيدَ الْجُعْفِيِّ، ← يَزِيدَ بْنِ مُرَّةَ، ← عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ
Hadith 1402
