مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْفِهْرِيُّ · حديث 1468
1468 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ وَيُكْنَى أَبَا هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْفِهْرِيِّ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حُنَيْنٍ فَسِرْنَا فِي يَوْمٍ قَائِظٍ شَدِيدِ الْحَرِّ فَنَزَلْنَا تَحْتَ ظِلَالِ الشَّجَرِ فَلَمَّا زَالَتِ الشَّمْسُ لَبِسْتُ لَأْمَتِي وَرَكِبْتُ فَرَسِي فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي فُسْطَاطِهِ فَقُلْتُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ قَدْ حَانَ الرَّوَاحُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: «أَجَلْ» ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا بِلَالُ» فَثَارَ مِنْ تَحْتِ سَمُرَةٍ كَأَنَّ ظِلَّهُ ظِلُّ طَيْرٍ فَقَالَ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَأَنَا فِدَاؤُكَ قَالَ: «أَسْرِجْ لِي فَرَسِي» فَأَتَاهُ بِدَفَّتَيْنِ مِنْ لِيفٍ لَيْسَ فِيهِمَا أَشَرٌ وَلَا بَطَرٌ قَالَ: فَرَكِبَ فَرَسَهُ ثُمَّ سِرْنَا يَوْمَنَا فَلَقِيَنَا الْعَدُوُّ وَتَشَامَّتِ الْخَيْلَانِ، فَقَاتَلْنَاهُمْ فَوَلَّى الْمُسْلِمُونَ [ص:713] مُدْبِرِينَ كَمَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَا عِبَادَ اللَّهِ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِلَيَّ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ» فَاقْتَحَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَرَسِهِ وَحَدَّثَنِي مَنْ كَانَ أَقْرَبَ إِلَيْهِ مِنِّي أَنَّهُ أَخَذَ حَفْنَةً مِنْ تُرَابٍ فَحَثَا بِهَا فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ وَقَالَ: «شَاهَتِ الْوُجُوهُ» قَالَ يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ: فَأَخْبَرَنَا أَبْنَاؤُهُمْ عَنْ آبَائِهِمْ أَنَّهُمْ قَالُوا: مَا بَقِيَ مِنَّا أَحَدٌ إِلَّا امْتَلَأَتْ عَيْنَاهُ وَفَمُهُ مِنَ التُّرَابِ وَسَمِعْنَا صَلْصَلَةً مِنَ السَّمَاءِ كَمَرِّ الْحَدِيدِ عَلَى الطَّسْتِ الْجَدِيدِ فَهَزَمَهُمُ اللَّهُ
حضرت ابو عبدالرحمن ٰ الفہری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم غزوہ حنین میں رسول اللہ کےساتھ تھے،ہم شدید گرمی کےدن چلے ،پس ہم ایک سایہ دار درخت کے نیچے اترے ،سو جب سورج ڈھل گیا تو میں نے اپنا اسلحہ لگایا اوراپنے گھوڑے پر سوار ہوا پس میں رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں آیا اور آپ ﷺ اپنے خیمہ میں تھے۔میں نے عرض کی السلام علیک یا رسول اللہ ورحمتہ اللہ برکاتہ ! کوچ کا وقت آ گیا ہے ،یا رسول اللہ !آپ نے فرمایا ہاں پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اے بلال کیکر کےدرخت کے نیچے سے ایسے نکل جاؤ جیسے کسی پرندے کا سایہ ہو۔انہوں (حضرت بلال )نے عرض کی لبیک وسعد یک ! میں آپ پر فدا ہوں آپ نے فرمایا میرے گھوڑے پر میرے لیئے زین باندھوسو حضرت بلال ایسی زین لے کر آئے جس کے دونوں پاؤں میں چھال بھری ہوئی تھی ،ان میں کوئی غرور تکبر نہیں تھا ،کہا کہ اس کے بعد آپ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے ،پھر ہم بھی چلے پس پھر جب ہمارا دشمن سے آمنا سامنا ہوا دونوں جماعتوں کے گھوڑےایک دوسرے میں گھس گئے سو ہم ان سے لڑے سو مسلمان پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے :جسیے اللہ نے ارشاد فرمایا تو اللہ کے رسول ﷺ فرمانےلگے اے اللہ کے بندو میں اللہ کا رسول اور اس کا بندہ ہوں پھر رسول اللہ ﷺ گھوڑے سے نیچے اترے اور مجھے اس نے بتایا جو مجھ سے زیادہ آپ کے قریب تھا ،آپ نے مٹی کی ایک مٹھی لی ،وہ مٹھی آپ نے کافروں کے چہروں پر پھینک دی ۔اور فرمایا ان کے چہرے بگڑجائیں !یعلی بن عطاء فرماتے ہیں ہم کو ان کے بیٹوں نے باپوں کے حوالہ سےبتایا وہ کہنے لگے ہم میں سے کوئی بھی باقی نہ رہا جس کی آنکھیں اورمنہ مٹٰی سے بھر نہ گیا ہو اور ہم نے آواز سنی جیسے آسمان سے لوہے کو طشت پر مارنے سے پیدا ہوتی ہے۔پس اللہ نے ان کو شکست دی ۔
أبي عبد الرحمن الفهري ← عبد الله بن يسار ويكنى أبا همام ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1468
