مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَحَدِيثُ أَوْسِ بْنِ حُذَيْفَةَ الثَّقَفِيِّ · حديث 1204
1204 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّائِفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَوْسِ بْنِ حُذَيْفَةَ الثَّقَفِيُّ، عَنْ جَدِّهِ أَوْسٍ قَالَ: قَدِمْنَا وَفْدَ ثَقِيفٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَ الْأَحْلَافِيُّونَ عَلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ وَأَنْزَلَ الْمَالِكِيِّينَ قُبَّتَهُ قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينَا فَيُحَدِّثُنَا بَعْدَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ حَتَّى يُرَاوِحَ بَيْنَ قَدَمَيْهِ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ فَكَانَ أَكْثَرُ مَا يُحَدِّثُنَا اشْتِكَاءَ قُرَيْشٍ يَقُولُ: «كُنَّا بِمَكَّةَ مُسْتَذَلِّينَ مُسْتَضْعَفِينَ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ انْتَصَفْنَا مِنَ الْقَوْمِ فَكَانَتْ سِجَالُ الْحَرْبِ عَلَيْنَا وَلَنَا» فَاحْتَبَسَ عَنَّا لَيْلَةً عَنِ الْوَقْتِ الَّذِي كَانَ يَأْتِينَا فِيهِ ثُمَّ أَتَانَا فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، احْتَبَسْتَ عَنَّا اللَّيْلَةَ [ص:433] عَنِ الْوَقْتِ الَّذِي كُنْتَ تَأْتِينَا فِيهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُ طَرَأَ عَلَيَّ حِزْبٌ مِنَ الْقُرْآنِ فَأَحْبَبْتُ أَنْ لَا أَخْرُجَ حَتَّى أَقْرَأَهُ» أَوْ قَالَ: «أَقْضِيَهُ» قَالَ: فَلَمَّا أَصْبَحْنَا سَأَلْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَحْزَابِ الْقُرْآنِ كَيْفَ تُحَزِّبُونَهُ؟ فَقَالُوا: ثَلَاثٌ وَخَمْسٌ وَسَبْعٌ وَتِسْعٌ وَإِحْدَى عَشْرَةَ وَثَلَاثَ عَشْرَةَ وَحِزْبُ الْمُفَصَّلِ
حضرت عثمان بن عبداللہ بن اوس بن حذیفہ ثقفی اپنے دادا حضرت اوس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ ہم وفد ثقیف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے ، احلافیون حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے پاس ٹھہرے اور مالکین اپنے قبہ میں ٹھہرے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس عشاء کے بعد آئے ، سو ہم سے گفتگو فرمائی ، حتیٰ کہ آپ کے قد مین مبارک کے درمیان لمبے قیام کی وجہ سے ورم پڑے ہوئے تھے، آپ ہم کو وہ سناتے جو قریش نے آپ کے ساتھ سلوک کیا تھااور فرماتے ،ہم مکہ میں گھٹیا اور کمزور سمجھے جاتے تھے ، پھر جب مدینہ آئے تو لوگ دو حصوں میں بٹ گئے،پس جنگ کا ڈول ہمارے اور ان کے درمیان رہا، ایک رات آپ اس وقت دیر سے آئے جس وقت پر پہلے آتے تھے، پھر جب ہمارے پاس آئے تو ہم نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آج آپ اس وقت سے دیر سے آئے ہیں جس وقت پر پہلے آپ ہمارے پاس آتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج کچھ قراء ۃ القرآن کا کچھ حصہ رہ گیا تھا، میں نے پسند کیا کہ اس حصہ کو پڑھے بغیر نہ نکلوں ، یا فرمایا کہ اسے پورا کر لوں ، پھر جب صبح ہوئی تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلاوت کے حصہ کے متعلق پوچھا کہ قرآن کی تلاوت کے کتنے حصے ہوتے ہیں؟ تو صحابہ نے بتایا:تین ( سورہ فاتحہ ، البقرہ ، آل عمران ، النساء ) و پانچ ( مائدہ سے سورۃ توبہ تک ) سات ( سورۃ یونس سے سورۃ نمل تک ) نو ( بنی اسرائیل سے سورۃ فرقان تک )گیارہ ) سورہ شعراء سے لے کر سورہ یٰسین تک اور والصافات سے ہجرت تک ) آخری حزب مفصل تک۔
جَدِّهِ أَوْسٍ ← عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَوْسِ بْنِ حُذَيْفَةَ الثَّقَفِيُّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّائِفِيِّ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1204
