مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ · حديث 2564
2564 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، قَالَ: وَفَدْنَا إِلَى مُعَاوِيَةَ وَمَعَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، فَكَانَ بَعْضُنَا يَصْنَعُ لَبَعْضِنَا مِنَ الطَّعَامِ، وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ مِمَّنْ يَصْنَعُ لَنَا فَيُكْثِرُ فَيَدْعُونَا إِلَى رَحْلِهِ قُلْتُ: لَوْ [ص:189] أَمَرْتُ بِطَعَامٍ فَصُنِعَ وَدَعْوَتُهُمْ إِلَى رَحْلِي فَفَعَلْتُ، وَلَقِيتُ أَبَا هُرَيْرَةَ بِالْعَشِيِّ فَقُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، الدَّعْوَةُ عِنْدِي اللَّيْلَةَ، فَقَالَ: سَبَقْتَنِي يَا أَخَا الْأَنْصَارِ فَدَعَوْتُهُمْ، فَإِنَّهُمْ لَعِنْدِي إِذْ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَلَا أُعْلِمُكُمْ بِحَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِكُمْ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ؟، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ أَنْصَارِيًّا قَالَ: فَذَكَرَ فَتْحَ مَكَّةَ وَقَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ عَلَى أَحَدِ الْمُجَنِّبَتَيْنِ، وَبَعَثَ زُبَيْرًا عَلَى الْمُجَنِّبَةِ الْأُخْرَى، وَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ عَلَى الْحُسَّرِ، ثُمَّ رَآنِي فَقَالَ: «يَا أَبَا هُرَيْرَةَ» فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: «اهْتِفْ بِالْأَنْصَارِ، وَلَا تَأْتِنِي إِلَّا بِأَنْصَارِيٍّ» قَالَ: فَفَعَلْتُ، ثُمَّ قَالَ: «انْظُرُوا قُرَيْشًا وَأَوْبَاشَهُمْ فَاحْصُدُوهُمْ حَصْدًا» قَالَ: فَانْطَلَقْنَا، فَمَا أَحَدٌ مِنْهُمْ يُوَجِّهُ إِلَيْنَا شَيْئًا، وَمَا مِنَّا أَحَدٌ يُرِيدُ أَحَدًا مِنْهُمْ إِلَّا أَخَذَهُ، وَجَاءَ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُبِيرَتْ خَضْرَاءُ قُرَيْشٍ، لَا قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ فَقَالَ [ص:190] رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ، وَمَنْ أَلْقَى السِّلَاحَ فَهُوَ آمِنٌ» فَأَلْقَى النَّاسُ سِلَاحَهُمْ، وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَدَأَ بِالْحَجَرِ فَاسْتَلَمَهُ ثُمَّ طَافَ سَبْعًا، وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ جَاءَ وَمَعَهُ قَوْسٌ أَخَذَ بِسِيَتِهَا فَجَعَلَ يَطْعَنُ بِهَا فِي عَيْنِ صَنَمٍ مِنْ أَصْنَامِهِمْ وَهُوَ يَقُولُ: {جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا} [الإسراء: 81] ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّى أَتَى الصَّفَا فَعَلَا مِنْهُ حَتَّى يَرَى الْبَيْتَ، وَجَعَلَ يَحْمَدُ اللَّهَ وَيَدْعُوهُ، وَالْأَنْصَارُ عِنْدَهُ يَقُولُونَ: أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَكَتْهُ رَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ، وَرَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ وَجَاءَ الْوَحْيُ، وَكَانَ الْحَقُّ إِذَا جَاءَ لَمْ يَخْفَ عَلَيْنَا، فَلَمَّا رُفِعَ الْوَحْيُ قَالَ: " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، قُلْتُمْ: أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَكَتْهُ رَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ، وَرَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ كَلَّا، فَمَا اسْمِي إِذًا، كَلَّا، إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، الْمَحْيَا مَحْيَاكُمْ، وَالْمَمَاتُ مَمَاتُكُمْ " فَأَقْبَلُوا يَبْكُونَ، وَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا قُلْنَا إِلَّا الضِّنَّ بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُصَدِّقَانِكُمْ وَيَعْذِرَانِكُمْ»
حضرت عبداللہ بن رباح فرماتے ہیں کہ ہم اپنا وفد لے کر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف گئے: ہمارے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے ، ہم میں سے بعض نے کھانا بنایا ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہمارے لیے کھانا بناتے تھے ، وہ بہت زیادہ کھانا بناتے تھے اور ہم کو اپنے گھر آنے کی دعوت دیتے ۔ میں نے عرض کی : اگر میں آپ کو کھانے کی دعو دوں جو بنایا جائے اور میں آپ کو اپنے گھر آنے کی دعوت دوں ، میں ایسا کروں گا، میں رات کو حضرت ابوہریرہ سے ملا میں میں نے عرض کی : اے ابوہریرہ ! دعوت آج رات میرے ہاں ہے ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے انصاری بھائی ! تو مجھ سے سبقت لے گیا ہے، میں نے ان کو دعوت دی، آپ میرے پاس تھے ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے انصار کے گروہ ! میں تم کو ایک حدیث سناؤں ! حضرت عبداللہ انصاری تھے، فتح مکہ کا ذکر کیا اور فرمایا : حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت خالد بن ولید کو دو طرفوں میں سے ایک طرف کو بھیجا اور حضرت زبیر کو دوسری طرف بھیجا ابو عبید بن جراح کو باقی رہی فوج کے ساتھ کمان دے کر بھیجا، پھر مجھے دیکھا اور فرمایا : اے ابوہریرہ ! میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! لبیک و سعد یک ک! فرمایا : میرے پاس انصار کو بلاؤ اور انصار کے علاوہ کسی کو نہ بلاؤ ۔ میں نے ایسا ہی کیا ، پھر فرمایا : قریش کے اوباش جہاں دیکھو ان کو مار دو۔ ہم چلے تو ان میں سے کوئی بھی ہماری طرف نہ بڑھتا اور نہ کوئی آگے ہوتا، ان میں جو چاہتا تو یہ اس کو پکڑ لیتے ۔ ابو سفیان آیا ، اس نے عرض کی : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! قریش کی جوانی ختم ہوگئی، آج کے بعد قریش نہیں ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو ابو سفیان کے گھر آجائے وہ بھی امن والا ہے ، جو اسلحہ پھینک دے ووہ بھی امن والا ہے ۔ لوگوں نے اسلحہ پھینک دیا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے، آپ نے طواف حجر اسود سے شروع کیا، اس کو استلام کیا ، پھر سات طواف کے چکر لگائے اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نفل اد اکیے پھر آئے تو آپ کے پاس کمان تھی، اس کی نوک بتوں کی آنکھوں میں چبھوتے اور پڑھتے : حق آگیا ، باطل چلا گیا، بے شک باطل جانے والا ہے۔ پھر چلے، یہاں تک کہ صفا پر آئے اس پر چڑھے یہاں تک کہ بیت اللہ کو دیکھا ، اللہ کی حمد کی اور اس سے دعا کرنے لگے۔ انصار کے پاس ہی کہہ رہے تھے: بدحال آدمی کو قربت کی رغبت اور رشتے داروں سے نرمی کرنے کا کیال آنا شروع ہو گیا، وحی آنا شروع ہو گئی ۔ وحی جب آتی تھی تو ہم پر مخفی نہیں ہوتی تھی، جب وحی آنا ختم ہوئی تو آپ نے فرمایا : اے انصار ! تم کہتے ہو کہ آدمی کو رشتے داروں کی رغبت اور ان کی نرمی نے آ لیا ، ہر گز ایسا نہیں ہے ، پھر تو اس وقت میرا نام ہی نہیں رہا، ہر گز نہیں! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں ، میرا دنیا میں رہنا اور دنیا سے جانا تمہارے ساتھ ہی ہے۔ صحابہ کرام رونے لگے اور عرض کرنے لگے : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اللہ کی قسم ! ہم نے ایسے نہیں کہا، اللہ کی قسم ! ہم نے صرف اللہ اور اس کے رسول پر رشک کرتے ہوئے کہا، بے شک اللہ اور اس کا رسول تمہاری کرتا ہے اور تمہارا عذر قبول کرتاہے۔
وَفَدْنَا إِلَى مُعَاوِيَةَ وَمَعَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، فَكَانَ بَعْضُنَا يَصْنَعُ لَبَعْضِنَا مِنَ الطَّعَامِ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ
Hadith 2564
