مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَأُمُّ رُومَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1770
1770 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ رُومَانَ أُمُّ عَائِشَةَ، قَالَتْ بَيْنَا أَنَا قَاعِدَةٌ إِذْ دَخَلَتْ عَلَيَّ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: فَعَلَ اللَّهُ بِفُلَانٍ كَذَا وَكَذَا، فَقُلْتُ: وَمَا لَهُ؟ قَالَتْ: إِنَّهُ أَفْشَى الْحَدِيثَ - يَعْنِي ذَكَرَ عَائِشَةَ - فَقَالَتْ عَائِشَةُ: سَمِعَ بِهَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَتْ: فَسَمِعَ بِهَذَا أَبُو بَكْرٍ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، فَأَخَذَهَا شَيْءٌ، مَا قَامَتْ إِلَّا بِحُمَّى، فَأَلْقَيْتُ عَلَيْهَا ثِيَابَهَا، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ [ص:243]: «مَا شَأْنُ هَذِهِ؟» فَقُلْتُ: أَخَذْتُهَا حُمَّى بِنَافِضٍ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَلَعَلَّهُ مِنْ أَجْلِ حَدِيثٍ حُدِّثَتْ بِهِ» فَقَعَدَتْ عَائِشَةُ، فَقَالَتْ: وَاللَّهِ لَئِنْ حَلَفْتُ لَا تُصَدِّقُونِي، وَلَئِنْ قُلْتُ لَا تَقْبَلُوا مِنِّي، وَمَا مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ إِلَّا كَمَثَلِ يَعْقُوبَ وَبَنِيهِ، {وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ} [يوسف: 18] ، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عُذْرَهَا، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: بِحَمْدِ اللَّهِ لَا بِحَمْدِكَ وَلَا بِحَمْدِ أَحَدٍ
حضرت ام رومان، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی والدہ فرماتی ہیں : اس دوران کہ میں بیٹھی ہوئی تھی اچانک میرے پاس ایک عورت آئی ، اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ فلاں سے اس طرح اس طرح کرے ، میں نے کہا : کیوں؟ اس نے کہا : اس نے راز ظاہر کیا ہے ، یعنی حضرت عائشہ کا ذکر کیا ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : کیا یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے ؟ اس نے کہا : ہاں ! حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یہ بات حضرت ابو بکر نے سنی ہے ، انہوں نے کہا : جی ہاں ! حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کوئی چیز لی، وہ کھڑی نہیں ہوئیں مگر بخار کی حالت میں ، سو میں نے ان پر ان کا کپڑا ڈالا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم داخل ہوئے ، آپ نے فرمایا : اس کا کیا حال ہے ! میں نے کہا: مجھے شدید بخاری ہے ، فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : شاید اس بات کی وجہ سے جو اس کے متعلق کی گئی ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیٹھ گئی کہا: اللہ کی قسم ! اگر میں قسم اٹھاؤں تو آپ میری تصدیق نہیں کریں گے ۔ اور اگر میں بات کروں تو آپ میری بات نہیں مانیں گے اور میری مثال اور تمہاری مثال حضرت یعقوب علیہ السلام اور ان کے بیٹوں کی طرح ہے ( جو انہوں نے کہا تھا ) : " واللہ المستعان علی ماتصفون " اللہ سے مدد چاہنے والا ہوں جو تم بیان کرتے ہو، فرمایا کہ پس اللہ عزوجل نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا عذر نازل کیا، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اللہ کی تعریف کرتی ہوں آپ کی تعریف بھی نہیں کرتی اور کسی کی بھی نہیں ۔
قَاعِدَةٌ ← بَيْنَا ← حَدَّثَتْنِي أُمُّ رُومَانَ أُمُّ عَائِشَةَ، ← مَسْرُوقٍ ← أَبِي وَائِلٍ ← حُصَيْنٍ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1770
