Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي داود الطيالسي

Musnad Abu Dawood Tayalisi

by Abu Dawood Tiyalisi

2,890 Hadith613 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 25

25 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ، قَالَ: خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَلَى مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ [ص:30] رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَامَ فِينَا فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَلَا إِنَّ الرَّجْمَ حَدٌّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ فَلَا تُخْدَعُنَّ عَنْهُ فَإِنَّهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَسُنَّةِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ «رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَمَ أَبُو بَكْرٍ وَرَجَمْتُ»

حضرت يوسف بن مہران فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بصرہ کی مسجد کے منبر پر ہم کو خطبہ دیا ‘پس فرمایا: اے لوگو! بےشک حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہم میں کھڑے ہوۓ تو فرمایا: اے لوگو! سنو! رجم اللہ کی حدود میں سے ایک حد ہے‘ یہ حد انہوں نے اپنی طرف سے نہیں بنائی بلکہ اس کو اللہ نے اپنی کتاب میں اور نبی اکر مﷺ نے اپنی سنت میں بیان کیا‘ اور بے شک رسول اللہﷺنے بھی رجم کیا‘ اور حضرت ابوبکر نے بھی رجم کیا‘ اور میں بھی رجم کر تا ہوں ۔

يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ [ص:30] قَامَ فِينَا ← خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ عَلَى مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ، ← يوسف بن مهران ← عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 25

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 26

26 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " أَنَا أَوَّلُ النَّاسِ أَتَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ طُعِنَ فَقَالَ: " يَا أَبَا عَبَّاسٍ احْفَظْ عَنِّي ثَلَاثًا فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ لَا [ص:31] يُدْرِكَنِي النَّاسُ، إِنِّي لَمْ أَقْضِ فِي الْكَلَالَةِ وَلَمْ أَسْتَخْلِفْ عَلَى النَّاسِ خَلِيفَةً، وَكُلُّ مَمْلُوكٍ لِي عَتِيقٌ فَقِيلَ لَهُ: اسْتَخْلِفْ قَالَ: أَيَّ ذَلِكَ فَعَلْتُ فَقَدْ فَعَلَهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي إِنْ أَسْتَخْلِفْ فَقَدِ اسْتَخْلَفَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي وَإِنْ أَدَعِ النَّاسَ إِلَى أَمْرِهِمْ فَقَدْ تَرَكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ: أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ صَحِبْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأطَلْتَ صُحْبَتَهُ، ثُمَّ وَلِيتَ فَعَدَلْتَ وَأَدَّيْتَ الْأَمَانَةَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَمَّا تُبْشيِرُكَ إِيَّايَ بِالْجَنَّةِ فَوَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَوْ أَنَّ لِيَ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَافْتَدَيْتُ بِهِ مِمَّا هُوَ أَمَامِي قَبْلَ أَنْ أَعْلَمَ الْخَبَرَ، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ فَوَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي نَجَوْتُ مِنْهَا كَفَافًا لَا عَلَيَّ وَلَا لِيَ، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ صُحْبَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَاكَ "

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو زخمی کیا گیا‘ تو میں سب سے پہلے آپ کے پاس آیا‘ آپ نے فرمایا: اے ابن عباس! مجھ سے تین باتیں یاد کر لو‘ مجھے خوف ہے کہ لوگوں کے ساتھ میری ملاقات نہ ہو سکے: (۱) بے شک میں نے کلالہ کے بارے کوئی فیصلہ نہیں کیا (۲)اور میں نے لوگوں پرکسی کو خلیفہ نہیں بنایا(۳) اور میرا ہر غلام آزاد ہے ۔ آپ سے عرض کی گئی: آپ کسی کو خلیفہ مقرر کر دیں ‘آپ نے فرمایا: اگر میں ایسا کروں تو بے شک مجھ سے بہتر انسان نے خلیفہ مقرر کیا تھا (یعنی ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ) ‘اور اگر چھوڑ دوں اس معاملہ کولوگوں پر تو بے شک رسول اللہﷺ نے اس معاملہ کو لوگوں پر چھوڑا ہے ‘میں نے عرض کی : اے امیر المؤمنین ! آپ کو جنت کی خوشخبری ہو! آپ رسول اللہ ﷺ کے صحابی ہیں‘ آپ دیر تک آپ ﷺ کی صحبت میں رہے‘ پھر والی بن گئے ‘سو آ پ نے عدل کیا اور امانت کا حق ادا کر دیا۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ مجھے جنت کی خوشخبری دیتے ہیں‘ اللہ کی قسم! جس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ‘اگر میرے ی پاس دنیا اور دنیا کے اندر جونعمتیں ہیں تو میں انہیں صورت ِحال واضح ہو نے سے پہلے اپنے سامنے پیش آنے والے معاملات کے فدیے میں دے دیتا‘ رہی بات جو آ پ نے مسلمانوں کے معاملات کا ذکر کیا ہے‘ تو اللہ کی قسم! میں چاہتا ہوں کہ میں اس سے نجات پا جاؤں کسی طریقہ سے‘ نہ مجھے فائد ہ ہو اور نہ مجھ پر کسی قسم کا وبال ہو‘ اور رہی بات آپ کی رسول اللہ ﷺکی صحبت کی‘ تو وہ کافی ہے ۔

أَوَّلُ النَّاسِ أَتَى عُمَرَ حِينَ طُعِنَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ ← دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيِّ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 26

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 27

27 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا زَمْعَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ طَافَ فَأَرَادَ أَنْ لَا يَرْمُلَ فَقَالَ: «إِنَّمَا رَمَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَغِيظَ الْمُشْرِكِينَ» ثُمَّ قَالَ: أَمْرٌ فَعَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَنْهَ عَنْهُ فَرَمَلَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے طواف کیا تو ارادہ کیا کہ وہ رمل نہ کر یں‘ پھر فرمایا: بے شک نبی اکر م ﷺنے بھی رمل کیا تھا تا کہ مشرکین پر غصہ ( ظاہر )کیا جاۓ پھر فرمایا: یہ ایسا معاملہ ہے جو رسول اللہ ﷺنے بھی کیا ہے اور آپ نے اس سے منع نہیں کیا‘ پھر آپ نے بھی رمل کیا۔

أَمْرٌ فَعَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ وَلَمْ يَنْهَ عَنْهُ فَرَمَلَ ← «إِنَّمَا رَمَلَ النَّبِيُّ لِيَغِيظَ الْمُشْرِكِينَ» ثُمَّ ← عُمَرَ أَنَّهُ طَافَ فَأَرَادَ أَنْ لَا يَرْمُلَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ، ← زَمْعَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 27

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 28

28 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عُثْمَانَ الْقُرَشِيُّ، مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ قَالَ: رَأَيْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ قَبَّلَ الْحَجَرَ وَسَجَدَ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ خَالَكَ ابْنَ عَبَّاسٍ قَبَّلَهُ وَسَجَدَ عَلَيْهِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَبَّلَهُ وَسَجَدَ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ عُمَرُ: «لَوْ لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَهُ مَا قَبَّلْتُهُ»

حضرت جعفر بن عثمان القرشی جو اہلِ مکہ سے ہیں‘ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت محمد بن عباد بن جعفر کو دیکھا‘ انہوں نے حجراسود کا بوسہ لیا اور اس پر سجدہ کیا ‘پھر فرمایا میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے بھی اس کا بوسہ لیا اور اس پرسجدہ کیا ‘پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ نے اس کا بوسہ لیا اور اس پر سجدہ کیا‘ پھر حضرت عمر نے فرمایا: اگر میں نے رسول اللہﷺکوا سے بوسہ دیتے ہوۓ نہ دیکھا ہوتا تو میں اس کا بوسہ نہ لیتا۔

ابْنُ عَبَّاسٍ رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَبَّلَهُ وَسَجَدَ عَلَيْهِ، ثُمَّ ← رَأَيْتُ خَالَكَ ابْنَ عَبَّاسٍ قَبَّلَهُ وَسَجَدَ عَلَيْهِ ← رَأَيْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ قَبَّلَ الْحَجَرَ وَسَجَدَ عَلَيْهِ، ثُمَّ ← جَعْفَرُ بْنُ عُثْمَانَ الْقُرَشِيُّ، مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 28

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 29

29 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: شَهِدَ عِنْدِي رِجَالٌ مَرْضِيُّونَ فِيهِمْ عُمَرُ وَأَرْضَاهُمْ عِنْدِي عُمَرُ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» نَهَى عَنْ صَلَاةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَعَنْ صَلَاةٍ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تُشْرِقَ الشَّمْسُ "

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میرے پسند ید ہ لوگ میرے پاس موجود تھے‘ اُن میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے‘ حضرت عمر مجھے ان لوگوں میں سب سے زیا دہ پسندیدہ تھے ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ) بے شک رسول اللہﷺنے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع کیا ‘سورج کے غروب ہونے تک‘ اور صبح کی نماز کے بعد نماز پڑھنے سے منع کیا سورج کے بلند ہونے تک ۔

شَهِدَ عِنْدِي رِجَالٌ مَرْضِيُّونَ، فِيهِمْ عُمَرُ، وَأَرْضَاهُمْ عِنْدِي عُمَرُ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيِّ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 29

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 30

30 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ مِخْرَاقٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَقَالَ لِي عُمَرُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ تَجِيءَ: «مَنْ مَاتَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ قِيلَ لَهُ ادْخُلِ الْجَنَّةَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ»

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا‘ اور رسول اللہ ﷺخطبہ ارشادفر ما رہے تھے ‘تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا کہ تیرے آنے سے پہلے رسول اللہﷺنے فرمایا: جو انسان اس حالت میں مرے کہ وہ اللہ تعالی اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ‘اس کو کہا جاۓ گا کہ جنت کے آٹھوں دروازوں میں سے جس سے چا ہے داخل ہو جا!

دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ يَخْطُبُ فَقَالَ لِي عُمَرُ: ← عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← زِيَادِ بْنِ مِخْرَاقٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 30

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 31

31 - حَدَّثَنَا يُونُسُ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالْجَابِيَةِ فَقَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقَامِي فِيكُمْ، فَقَالَ: «أَكْرِمُوا أَصْحَابِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَفْشُو الْكَذِبُ حَتَّى يَحْلِفَ الرَّجُلُ وَلَمْ يُسْتَحْلَفْ، وَيَشْهَدَ [ص:35] وَلَمْ يُسْتَشْهَدْ، فَمَنْ أَرَادَ بُحْبُوحَةَ الْجَنَّةِ فَلْيَلْزَمِ الْجَمَاعَةَ؛ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ وَهُوَ مِنَ الِاثْنَيْنِ أَبْعَدُ، وَلَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ؛ فَإِنَّ ثَالِثَهُمَا الشَّيْطَانُ، وَمَنْ سَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ وَسَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ»

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہم کو مقام جابیہ میں خطبہ دیا ‘فرمایا کہ رسول اللہﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوۓ ‘جس جگہ آج میں تمہارے درمیان کھڑا ہوں‘ آپ نے فرمایا: میرے صحابہ کی تعظیم کرو‘ پھر ان لوگوں کی جوان سے ملے‘ پھر وہ لوگ جو ان سے ملے‘ پھر اس کے بعد جھوٹ ظاہر ہو گا یہاں تک کہ ایک آدی قسم اُٹھائے گا‘ اور اس سے قسم کا مطالبہ نہیں کیا جاۓ گا ‘اور وہ گواہی دے گا حالانکہ اس سے گواہی طلب نہیں کی جاۓ گی‘ پس جو آ دی جنت کی تمنا رکھتا ہے‘ وہ جماعت کو لازم پکڑۓ ‘بے شک شیطان ایک کے ساتھ ہوتا ہے اور وہ دو سے بہت دور ہوتا ہے‘ اور کوئی آدمی کسی عورت سے تنہائی میں نہ ر ہے‘ کیونکہ تیسرا اُن دونوں کے ساتھ شیطان ہوتا ہے‘ اور جس کو نیکی اچھی لگے اور بُرائی بُری لگے تو وہ مؤمن ہے۔

قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ مَقَامِي فِيكُمْ، ← خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِالْجَابِيَةِ، ← جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 31

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 32

32 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ الْمُزَنِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ زَمَنَ الْأَقِطِ وَالسَّمْنِ وَالْأَعْرَابُ يَأْتُونَ بِالْبُرْقَانِ [ص:37] فَيَبِيعُونَهَا فَإِذَا أَنَا بِرَجُلٍ طَامِحٍ بَصَرُهُ يَنْظُرُ إِلَى النَّاسِ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ غَرِيبٌ فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَيَّ وَقَالَ لِي: مِنْ أَهْلِ هَذِهِ أَنْتَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ فَجَلَسْتُ مَعَهُ فَقُلْتُ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ فَقَالَ: مِنْ هِلَالٍ وَاسْمِي كَهْمَسٌ أَوْ قَالَ لِي: مِنْ بَنِي سَلُولٍ وَاسْمِي كَهْمَسٌ ثُمَّ قَالَ: أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا شَهِدْتُهُ مِنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ؟ فَقُلْتُ: بَلَى قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَهُ إِذْ جَاءَتِ امْرَأَةٌ فَجَلَسَتْ إِلَيْهِ فَقَالَتْ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ زَوْجِي قَدْ كَثُرَ شَرُّهُ وَقَلَّ خَيْرُهُ فَقَالَ لَهَا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَمَنْ زَوْجُكِ؟ قَالَتْ: أَبُو سَلَمَةَ قَالَ: إِنَّ ذَاكَ الرَّجُلَ رَجُلٌ لَهُ صُحْبَةٌ وَإِنَّهُ لَرَجُلُ صِدْقٍ ثُمَّ قَالَ عُمَرُ لِرَجُلٍ عِنْدَهُ جَالِسٍ: أَلَيْسَ كَذَلِكَ؟ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا بِمَا قُلْتَ فَقَالَ عُمَرُ لِرَجُلٍ: قُمْ فَادْعُهُ لِي وَقَامَتِ الْمَرْأَةُ حِينَ أَرْسَلَ إِلَى زَوْجِهَا فَقَعَدَتْ خَلْفَ عُمَرَ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَاءَا مَعًا حَتَّى جَلَسَا بَيْنَ يَدَيْ عُمَرَ فَقَالَ عُمَرُ: مَا تَقُولُ فِي هَذِهِ الْجَالِسَةِ خَلْفِي؟ قَالَ: وَمَنْ هَذِهِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: هَذِهِ امْرَأَتُكَ قَالَ: وَتَقُولُ مَاذَا؟ قَالَ: تَزْعُمُ أَنَّهُ قَدْ قَلَّ خَيْرُكَ وَكَثُرَ شَرُّكَ قَالَ: بِئْسَ مَا قَالَتْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّهَا لَمِنْ صَالِحِ نِسَائِهَا أَكْثَرُهُنَّ كِسْوَةً وَأَكْثَرُهُنَّ رَفَاهِيَةً وَلَكِنَّ فَحْلَهَا بَكِيءٌ، قَالَ عُمَرُ: مَا تَقُولِينَ؟ فَقَالَ: قَالَتْ: صَدَقَ فَقَامَ إِلَيْهَا عُمَرُ بِالدِّرَّةِ فَتَنَاوَلَهَا بِهَا ثُمَّ قَالَ: أَيْ عَدُوَّةَ نَفْسِهَا [ص:38] أَكَلْتِ مَالَهُ وَأَفْنَيْتِ شَبَابَهُ ثُمَّ أَنْشَأْتِ تُخْبِرِينَ بِمَا لَيْسَ فِيهِ فَقَالَتْ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَا تَعْجَلْ فَوَاللَّهِ لَا أَجْلِسُ هَذَا الْمَجْلِسَ أَبَدًا ثُمَّ أَمَرَ لَهَا بِثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ فَقَالَ: خُذِي لِمَا صَنَعْتُ بِكِ وَإِيَّاكِ أَنْ تَشْتَكِيَنَّ هَذَا الشَّيْخَ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهَا قَامَتْ وَمَعَهَا الثِّيَابُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى زَوْجِهَا فَقَالَ: لَا يَحْمِلَنَّكَ مَا رَأَيْتَنِي صَنَعْتُ بِهَا أَنْ تُسِيءَ إِلَيْهَا، انْصَرَفَا فَقَالَ الرَّجُلُ: مَا كُنْتُ لِأَفْعَلَ ثُمَّ قَالَ عُمَرُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِي أَنَا مِنْهُ ثُمَّ الثَّانِي ثُمَّ الثَّالِثُ ثُمَّ يَنْشَأُ قَوْمٌ تَسْبِقُ أَيْمَانُهُمْ شَهَادَتَهُمْ يَشْهَدُونَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُسْتَشْهَدُوا، لَهُمْ لَغَطٌ فِي أَسْوَاقِهِمْ» ، قَالَ: قَالَ لِي كَهْمَسٌ: أَفَتَخَافُ أَنْ يَكُونَ هَؤُلَاءِ مِنْ أُولَئِكِ ثُمَّ قَالَ لِي كَهْمَسٌ: إِنِّي أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِإِسْلَامِي ثُمَّ غِبْتُ عَنْهُ حَوْلًا ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَأَنَّكَ تُنْكِرُنِي؟ فَقَالَ: «أَجَلْ» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَفْطَرْتُ مُنْذُ فَارَقْتُكَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَمَنْ أَمَرَكَ أَنْ تُعَذِّبَ نَفْسَكَ صُمْ يَوْمًا مِنَ الشَّهْرِ» ، فَقُلْتُ: زِدْنِي قَالَ: «فَصُمْ يَوْمَيْنِ» ، حَتَّى قَالَ: «فَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ»

حضرت معاویہ بن قرۃ المز نی روایت کرتے ہوۓ فرماتے ہیں کہ میں قحط سالی کے زمانے میں نبی اکرم ﷺکے پاس آیا ‘حالانکہ دیہاتی لوگ بھیٹر کے بچے لا کر وہاں فروخت کر رہے تھے اور جب ایسے شخص کے ساتھ موجود تھا‘ جس کی نگا ہ لوگوں پر پڑ رہی تھی‘ مجھے گمان ہوا کہ وہ ایک اجنبی انسان ہے‘ اس کے قریب جا کر میں نے اس پر سلام کیا ‘اس نے میرے سوال کا جواب دینے کے بعد پوچھا :کیا آپ انہی لوگوں میں سے ہیں؟ تو میں نے جواب ہاں میں دیا۔ پھر میں اس کے ساتھ بیٹھ گیا اور پوچھا کیا: تمہارا تعلق انہی لوگوں سے ہے؟ تو جواب دیتے ہوۓ بولا : قبیلہ ہلال سے میں تعلق رکھتا ہوں اور میرا نام کہمس ہے ‘یا مجھ سے یہ کہا ( راوی کو شک ہے )میں بنی سلول سے تعلق رکھتا ہوں اور میرا نام کہمس ہے ۔ اس نے پھر کہا: میں تمہیں وہ بات نہ بتاؤں جو میں نے حضرت عمر بن الخطاب کی موجودگی میں سنی تھی ‘میں جواباً بولا: کیوں نہیں! تو وہ کہنے لگا: ہم حضرت عمر بن الخطاب کے پاس بیٹھے ہوۓ تھے‘ اسی دوران ایک دورت بھی آپ کے پاس بیٹھ گئی اور کہنے لگی: اے امیرالمؤمنین !میرے خاوند کی بُرائیاں بڑھ چکی ہیں اور نیکیاں کم ہو چکی ہیں‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا کہ تمہا را خاوند کون ہے؟ اس عورت نے ابوسلمہ کا نام لیا تو آپ نے فرمایا: و ہ شخص صحابی رسول ﷺہے نیز وہ سچائی کا پیکر بھی ہے‘ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے پاس بیٹھے ہو ۓ شخص سے پوچھا: کیاوہ ایسا نہیں ہے؟ اس شخص نے جواب دیا: میں آپ کی بات کی تائید کرتا ہوں ‘پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو حکم دیا کہ جاؤ ! اسے میرے پاس بلا لاؤ ! تو وہ عورت کھڑی ہوگئی ‘جب آپ نے اس کے شوہر کو بلوانے کیلئے ( دوسرے آدمی کو ) بھیجا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھ گئی ‘تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ وہ دونوں اکٹھے آۓ اور آپ کے سامنے آ کر بیٹھ گئے ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: میرے پیچے بیٹھنے والی عورت کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے؟ پھر اس نے پوچھا اے امیرالمؤمنین! یہ کون ہے؟ آپ نے جوابا ً ارشادفرمایا: یہ تمہاری وجہ ہے‘ پھر حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہ کیا کہتی ہے؟ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیتے ہوۓ فرمایا :تمہاری بیوی کا خیال ہے کہ تمہاری بھلائیاں کم ہو چکی ہیں جبکہ بُرائیاں بڑھ چکی ہیں ۔ حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ جواب دیتے ہوۓ بولے: اے امیر المؤمنین ! میری بیوی نے جو کچھ بھی کہا ہے‘ غلط کہا ہے‘ تحقیق اس کا تعلق ان امیر عورتوں سے ہے جن کے پاس پہنے کے کپڑے بھی زیادہ ہیں اور وہ خوشحال زندگی بسر کرنے والی ہیں لیکن ان کےخادند آ نسو بہار ہے ہیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس عورت سے پوچھا: تمہارا کیا خیال ہے؟ تو اس عورت نے اپنے خاوند کی تصدیق کر دی۔ بعد از یں حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے ہاتھ میں درہ لے کر اس عورت سے مخاطب ہوئے: اے اپنے نفس کی دشمن !تُو نے اپنے خاوند کے مال کو کھایا اس کی جوانی کو ضائع کیا اب تُو کہتی ہے کہ اس کے پاس کچھ بھی نہیں۔ پھر وہ عورت بولی: اے امیر المومنین! جلدی سے کام نہ لیں‘ اللہ کی قسم! میں اس مجلس میں کبھی بھی نہیں بیٹھوں گی‘ پھر آپ نے اس کیلئے تین کپڑوں کا حکم دیا ‘پھر آپ نے اس عورت سے کہا: تم وہ مال لے لو جو میں نے تمہیں دینے کا اعلان کیا ہے اور اس بوڑھے شخص کی شکایت کرنے سے اجتناب کر ۔ ( راوی کہتا ہے) گویا میں اس عورت کو ( اب بھی )دیکھ رہا ہوں کہ وہ کپڑوں سمیت کھڑی ہو گی پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس کے خاوند کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے: میری طرف سے کیا گیا سلوک تمہیں اس بات پر برانگیختہ نہ کرے کہ تم اس کے ساتھ بدسلوکی سے پیش آؤ ‘وہ دونوں واپس چل پڑے تو شخص بولا :میں ایسا نہیں کروں گا۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ میں نے نبی اکر م ﷺکو یہ کہتے ہوۓ سنا ہے کہ میری اُمت کا بہترین زمانہ وہی ہے جس میں‘ میں ہوں‘ پھر اس کے بعد کے زمانہ سے‘ پھراس کے بعد کا وقت ہے‘ پھر ایسی قوم پروان چڑھے گی جس کی قسمیں ان کی گواہیوں سے سبقت لے جائیں گی اور وہ بغیر گواہی طلب کیے گواہ بنیں گے ان کے بازاروں میں شوروغل ہوگا۔ راوی (معاویہ بن قرۃ المز نی ) کہتے ہیں مجھ سے کہمس کہنے لگے کہ کیا تمہیں اس بات کا خطرہ ہے کہ وہ لوگ انہی میں سے ہوں گے‘ پھر کہمس مجھ سے مخاطب ہو کر کہنے لگے کہ میں نبی اکرم ﷺکے پاس آیا اور میں نے انہیں اپنے اسلام قبول کرنے کے متعلق آ گاہ کیا‘ پھر میں ایک سال تک غائب رہا ‘پھر میں آپ کے پاس آیا اور عرض کی یارسول اللہ ! لگتا ہے آپ میرے معاملے سے بے خبر ہیں‘ آپ نے فرمایا: ہاں! پھر میں عرض گزار ہوا: یارسول اللہ! جب سے آپ سے جدا ہوا ہوں‘ اس دن سے میں نے روز ہ نہیں چھوڑا ‘تو نبی اکرمﷺ نے پو چھا تمہیں کس نے حکم دیا تھا کہ تم اپنے آپ کو تکلیف دو تم ایک مہینے میں صرف ایک روزہ رکھو‘ میں نے عرض کی: اضافہ فرما دیں! آپ نے فرمایا: دو روزے رکھا کرو‘ یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: ایک ماہ میں تین دن روزے رکھا کرو۔

مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ الْمُزَنِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ يَزِيدَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 32

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 33

33 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، أَنَّ صُهَيْبًا، لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ قَالَ: وَاأَخَاهْ وَاأَخَاهْ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: مَهْ يَا أَخِي مَهْ يَا صُهَيْبُ أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ»

حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ کو ( جب معلوم ہوا )کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ زخمی ہوۓ ہیں‘ کہنے لگے: ہاۓ میرے بھائی! ہاۓ میرے بھائی! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: رہنے دو اے میرے بھائی! ر ہنے دو ! اے صہیب ! کیا تو نے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد مبارک نہیں سنا کہ میت پراس کی قبر میں اہل خانہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے ۔

«الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← وَاأَخَاهْ وَاأَخَاهْ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: مَهْ يَا أَخِي مَهْ يَا صُهَيْبُ أَمَا ← أَبِي رَافِعٍ، أَنَّ صُهَيْبًا، لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 33

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 34

34 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يُقَبِّلُ الْحَجَرَ، وَيَقُولُ: إِنِّي لأُقَبِّلُكَ وَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ وَلَكِنِّي رَأَيْتُ أَبَا الْقَاسِم ِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:40] بِكَ حَفِيًّا.

حضرت سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو حجر اسود کا بوسہ لیتے ہوۓ دیکھا ‘اور (پتھر کو مخاطب کر کے ) وہ کہہ رہے تھے: میں تیرا بوسہ نہ لیتا اور میں جانتا ہوں کہ تُو پتھر ہے ‘لیکن میں نے ابوالقاسم ﷺتجھ سے لپٹے ہوۓ دیکھا۔

رأيت عمر بن الخطاب يقبل الحجر ← سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَی ← اِسْرَائِیْلُ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 34

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 35

35 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ حَبِيبَ بْنَ عُبَيْدٍ، يُحَدِّثُ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنِ ابْنِ السِّمْطِ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ يَقُولُ: «صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ»

حضرت ابن سمط رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ میں نے رسول اللہ ﷺکے ساتھ ذوالحلیفہ میں دو رکعت نماز پڑھی تھی ۔

«صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ» ← عُمَرَ، ← ابْنِ السِّمْطِ، أَنَّهُ ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ ← حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ، ← يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 35

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 36

36 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ قِبْصٌ مِنَ النَّاسِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ مَنْزِلَةً عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَعْدَ أَنْبِيَائِهِ وَأَصْفِيَائِهِ؟ فَقَالَ: «الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ حَتَّى تَأْتِيَهُ دَعْوَةُ اللَّهِ وَهُوَ عَلَى مَتْنِ فَرَسِهِ وَآخِذٌ بِعِنَانِهِ» ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «وَامْرُؤٌ بِنَاحِيَةٍ أَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ وَتَرَكَ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ» ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيُّ النَّاسِ شَرٌّ مَنْزِلَةً عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: «الْمُشْرِكُ» ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «إِمَامٌ جَائِرٌ يَجُورُ عَنِ الْحَقِّ وَقَدْ مُكِّنَ لَهُ» ، وَخَصَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْوَابَ الْغَيْبِ وَقَالَ: «سَلُونِي وَلَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَنْبَأْتُكُمْ بِهِ» ، فَقَالَ عُمَرُ: رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِكَ نَبِيًّا حَسْبُنَا مَا أَتَانَا قَالَ فَسُرِّيَ عَنْهُ

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺکے پاس موجود تھا ‘آپ کے پاس کچھ اور لوگ بھی تھے‘ سو ایک آ دمی آیا ‘اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! قیامت کے دن انبیاء و اصفیاء کے بعد لوگوں میں سے کس کا مقام بہتر ہوگا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: جو اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جان کے ساتھ جہاد کر تا ہو‘ یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ جاۓ‘ اور وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو اور اس کی لگام کو پکڑے ۔ عرض کی : پھر اس کے بعد کس کا مقام ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ آ دمی جوکسی گوشئہ تنہائی میں اپنے رب کی اچھی طرح عبادت کر تا ہو اور لوگوں کو اپنے شر سے بچا کے رکھے ۔ پھر اس آدمی نے عرض کی : یا رسول اللہ ! قیامت کے دن لوگوں میں سب سے بُرے مقام پرکون ہو گا؟ آپ ﷺنے فرمایا: مشرک‘ عرض کی : پھر کون ہوگا؟ فرمایا: ظالم بادشاہ جوحق سے تجاوز کرتا ہو اور اس کی حکومت بھی ہو ۔ اور رسول اللہﷺنے غیب کے دروازہ کو خاص کیا ‘اور فرمایا: مجھ سے پوچھو جو چیز بھی پوچھو گے میں اُس کے بارے تمہیں تفصیلاً بتاؤں گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : ہم اللہ کے رب ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پر اور آپ کے نبی ہونے پرراضی ہیں‘ ہمارے لیے کافی ہے جو آ پ ہمارے پاس لاۓ‘ ہمارے لیے کافی ہے ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :پھر آپ کا غصہ زائل ہو گیا۔

كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ وَعِنْدَهُ قِبْصٌ مِنَ النَّاسِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: ← عُمَرَ، ← رَجُلٌ: ← هِشَامِ بْنِ عَمْرٍو، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 36

chevron_left Previous
1234…241
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
1. Book
    70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter
1. Book
    364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter541. Chapter542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter