مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ زَاذَانُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ · حديث 2051
2051 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ زَاذَانَ، يَقُولُ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: أَخْبِرْنَا مَا نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَوْعِيَةِ، أَخْبِرْنَا بِلُغَتِكُمُ وَفَسِّرْهُ لَنَا بِلُغَتِنَا، قَالَ: «نَهَى عَنِ الْحَنْتَمِ» وَهِيَ الْجَرَّةُ، «وَنَهَى عَنِ الْمُزَفَّتِ» وَهُوَ الْمُقَيَّرُ، «وَنَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ» وَهُوَ الْقَرْعُ، «وَنَهَى عَنِ النَّقِيرِ» وَهِيَ أَصْلُ النَّخْلَةِ، تُنْقَرُ نَقْرًا، وَتُنْسَحُ نَسْحًا، «وَأَمَرَ أَنْ يُنْتَبَذَ فِي الْأَسْقِيَةِ»
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ میں نے اہل نجران کے آدمی کو کہتے سنا کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے عرض کی: میں آپ سے دو چیزوں کے متعلق سوال کرتا ہوں ، درختوں پر کھجور کی بیع سلم سے اور کھجور اور کشمش کے متعلق ۔ تو فرمایا کہ درختوں پر کھجور میں بیع سلم کے متعلق تو بے شک قبیلہ اسلم کے ایک آدمی نے کھجور میں بیع سلم کی تھی ایک آدمی کے لیے۔ لیکن اس سال اس پر پھل نہ لگا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے یہ بات ذکر کی گئی : وہ اس کا مال کیوں کھاتا ہے؟ تو آپ نے حکم فرمایا کہ اسے اس کا مال واپس کرو۔ پھر آپ نے درختوں پر کھجوروں میں بیع سلم سے منع کیا یہاں تک کہ ان کی صلاحیت ظاہر ہو جائے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک نشے میں مست آدمی لایا گیا، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے شراب نہیں پی، میں نے تو کشمش اور کھجور ملا ہوا مشروب پیا ہے، تو آپ نے حکم دیا : اس کو حد لگائی جائے اور آپ نے دونوں کو ملا کر پینے سے منع فرمایا۔
الدباء وهو القرع ونهى ← الْمُزَفَّتِ» وَهُوَ الْمُقَيَّرُ، «وَنَهَى ← الْحَنْتَمِ وَهِيَ الْجَرَّةُ، وَنَهَى ← نُهِيَ ← بلغتكم وفسره لنا بلغتنا ← ما نهى عنه رسول الله من الأوعية ← قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ ← زَاذَانَ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2051
