Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي داود الطيالسي

Musnad Abu Dawood Tayalisi

by Abu Dawood Tiyalisi

2,890 Hadith613 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَأَبُو نَضْرَةَ · حديث 2833

2833 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ بْنُ يَزِيدَ الْغَنَوِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ فِي دُبُرِ صَلَاتِهِ مِنْ أَرْبَعٍ، يَقُولُ: «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْأَعْوَرِ الْكَذَّابِ»

حضرت ابو نضرہ ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر فرض نماز کے بعد چار چیزوں سے پناہ مانگتے تھے، آپ دعا کرتے : اعوذ باللہ من فتنۃ القبر ، ومن فتنۃ المحیا والممات، ومن فتنۃ الاعور الکذاب" میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں قبر کی آزمائش سے ، زندگی کے فتنہ سے اور موت کے فتنہ سے اور کانے جھوٹے کے فتنہ سے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبُو نَضْرَةَ، ← الْبَرَاءُ بْنُ يَزِيدَ الْغَنَوِيُّ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Hadith 2833

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَأَبُو نَضْرَةَ · حديث 2834

2834 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ: خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ عَلَى مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ، فَحَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَلَهُ دَعْوَةٌ، كُلُّهُمْ قَدْ تَنَجَّزَهَا فِي الدُّنْيَا، وَإِنِّي ادَّخَرْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، أَلَا وَإِنِّي سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ، وَأَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ، وَبِيَدِي لِوَاءُ الْحَمْدِ تَحْتَهُ آدَمُ فَمَنْ دُونَهُ وَلَا فَخْرَ، وَيَشْتَدُّ كَرْبُ ذَلِكَ الْيَوْمِ عَلَى النَّاسِ فَيَقُولُونَ: انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى آدَمَ أَبِي الْبَشَرِ، فَلْيَشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا حَتَّى يَقْضِيَ بَيْنَنَا فَيَأْتُونَ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَيَقُولُونَ: أَنْتَ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ، وَأَسْكَنَكَ جَنَّتَهُ، وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ، فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا حَتَّى يَقْضِيَ بَيْنَنَا فَيَقُولُ: إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ، إِنِّي أُخْرِجْتُ مِنَ الْجَنَّةِ بِخَطِيئَتِي، وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي، وَلَكِنِ ائْتُوا نُوحًا أَوَّلَ النَّبِيِّينَ فَيَأْتُونَ نُوحًا عَلَيْهِ السَّلَامُ فَيَقُولُونَ: اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا حَتَّى يَقْضِيَ بَيْنَنَا فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ، إِنِّي دَعَوْتُ دَعْوَةً أَغْرَقَتْ أَهْلَ الْأَرْضِ، وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي، وَلَكِنِ ائْتُوا إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ اللَّهِ [ص:431] فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُونَ: اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا حَتَّى يَقْضِيَ بَيْنَنَا فَيَقُولُ: إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ، إِنِّي كَذَبْتُ فِي الْإِسْلَامِ ثَلَاثَ كَذِبَاتٍ، وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي " قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَاللَّهِ مَا حَاوَلَ بِهِنَّ إِلَّا عَنْ دِينِ اللَّهِ؛ قَوْلُهُ: {إِنِّي سَقِيمٌ} [الصافات: 89] ، وَقَوْلُهُ: {بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا} [الأنبياء: 63] ، وَقَوْلُهُ لِسَارَّةَ: قُولِي: إِنَّهُ أَخِي وَلَكِنِ ائْتُوا مُوسَى عَبْدًا اصْطَفَاهُ اللَّهُ بِرِسَالَاتِهِ وَبِكَلَامِهِ فَيَأْتُونَ مُوسَى فَيَقُولُونَ: اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا حَتَّى يَقْضِيَ بَيْنَنَا فَيَقُولُ: إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ، إِنِّي قَتَلْتُ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ، وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي، وَلَكِنِ ائْتُوا عِيسَى رُوحَ اللَّهِ وَكَلِمَتَهُ فَيَأْتُونَ عِيسَى فَيَقُولُونَ: اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا حَتَّى يَقْضِيَ بَيْنَنَا فَيَقُولُ: إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ، إِنِّي اتُّخِذْتُ وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ، وَلَكِنْ أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ مَتَاعًا فِي وِعَاءٍ قَدْ خُتِمَ عَلَيْهِ، أَكَانَ يُوصَلُ إِلَى مَا فِي الْوِعَاءِ حَتَّى يُفَضَّ الْخَاتَمُ؟، فَيَقُولُونَ: لَا فَيَقُولُ: فَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ حَضَرَ الْيَوْمَ وَقَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ " قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَيَأْتِينِي النَّاسُ فَيَقُولُونَ: اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا حَتَّى يَقْضِيَ بَيْنَنَا فَأَقُولُ: أَنَا لَهَا، أَنَا لَهَا، حَتَّى يَأْذَنَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَنْ [ص:432] يَشَاءُ وَيَرْضَى، فَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَقْضِيَ بَيْنَ خَلْقِهِ نَادَى مُنَادٍ: أَيْنَ أَحْمَدُ وَأُمَّتُهُ؟ فَأَقُومُ وَيَتْبَعُنِي أُمَّتِي، غُرٌّ مُحَجَّلُونَ مِنْ أَثَرِ الطُّهُورِ " قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَنَحْنُ الْآخِرُونَ الْأَوَّلُونَ، أَوَّلُ مَنْ يُحَاسَبُ، وَتُفْرِجُ لَنَا الْأُمَمُ عَنْ طَرِيقِنَا، وَتَقُولُ الْأُمَمُ: كَادَتْ هَذِهِ الْأُمَّةُ أَنْ تَكُونَ أَنْبِيَاءَ كُلَّهَا " قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَأَنْتَهِي إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ، فَأَسْتَفْتِحُ فَيُقَالُ: مَنْ هَذَا؟ فَأَقُولُ: أَحْمَدُ فَيُفْتَحُ لِي، فَأَنْتَهِي إِلَى رَبِّي، وَهُوَ عَلَى كُرْسِيِّهِ، فَأَخِرُّ سَاجِدًا، فَأَحْمَدُ رَبِّي بِمَحَامِدَ لَمْ يَحْمَدْهُ أَحَدٌ بِهَا قَبْلِي، وَلَا يَحْمَدُهُ بِهَا أَحَدٌ بَعْدِي فَيُقَالُ لِيَ: ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ تُسْمَعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَشْفَعُ فَيُقَالُ: فَاذْهَبْ فَأَخْرِجْ مِنَ النَّارِ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ كَذَا وَكَذَا فَأَنْطَلِقُ فَأُخْرِجُهُمْ، ثُمَّ أَرْجِعُ إِلَى رَبِّي، فَأَخِرُّ سَاجِدًا، فَيُقَالُ لِيَ: ارْفَعْ [ص:433] رَأْسَكَ، وَقُلْ تُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ قَالَ: فَيَحُدُّ لِي حَدًّا، فَأُخْرِجُهُمْ "

حضرت ابو نضرہ فرماتے ہیں کہ ہم کو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا ، بصرہ کے مبر پر پس آپ نے اللہ عزوجل کی حمد کی اور اس کی تعریف کی، پھر فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کوئی نبی ایسانہیں مگر یہ کہ اس کی ایک دعا ہے، سب اپنی دعائیں دنیا میں کر لیں اور میں نے اپنی دعا اپنی امت کے لیے قیامت کے دن سفارش کے لیے رکھ لی ہے ، سنو! قیامت کے دن اولاد آدمی کا سردار ہوں گا اور کوئی فخر نہیں ، اور سب سے پہلے میری قبر کھلے گی قیامت کے دن اور کوئی فخر نہیں، اور حمد کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہوگا، سب آدم کی اولاد میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے اور کوئی فخر نہیں ، اس دن لوگ سخت مصیبت میں ہوں گے وہ کہیں گے کہ چلو! حضرت آدم کے پاس جو انسانیت کے باپ ہیں، وہ ہمارے لیے رب سے شفاعت کردیں گے۔ پس حضرت آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے عرض کریں گے ۔آپ وہ ہیں جن کو اللہ عزوجل نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور آپ کو اپنی جنت میں ٹھہرایا، آپ کے لیے فرشتوں کو سجدہ کروایا گیا، سو ہماری ہمارے رب کے ہاں سفارش کریں ، یہاتک کہ ہمارے درمیان فیصلہ کردیا جائے۔ حضرت آدم علیہ السلام فرمائیں گے : میں یہاں تمہاری شفاعت نہیں کر سکتا، میں جنت سے اپنی غلطی کی وجہ سے نکالا گیا ہوں ، مجھے آج اپنے متعلق ڈر ہے ، تم نوح علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ وہ تمام انبیاء میں سے سب سے پہلے ہیں ۔ پس لوگ حضرت نوح علیہ السلام کے پاس جائیں گے، وہ عرض کریں گے : ہمارے لیے ہمارے رب کے ہاں سفارش کریں یہاں تک کہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دیا جائے ، تو وہ بھی فرمائیں گے: میں تمہاری یہاں شفات نہیں کر سکتا ہوں کیونکہ میں نے ایک دعا کی تھی تو اہل زمین غرق ہوگئے تھے، مجھے آج اپنے متعلق ڈر ہے، تم ابراہیم خلیل اللہ کے پاس چلے جاؤ۔ پس لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے ، عرض کریں گے : ہماری ہمارے رب کے ہاں شفاعت کریں ، یہاں تک کہ ہمارے درمیان فیصلہ ہو جائے۔آپ فرمائیں گے کہ یہاں تمہاری شفاعت نہیں کر سکتا ہوں ، میں نے اسلام میں تین جھوٹ بولے تھے اور مجھے آج کے دن اپنے متعلق ڈر ہے۔ کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم ! حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان سے حیلہ صرف اللہ کے دین کے لیے کیا تھا( جیسے اللہ کا ارشاد ہے کہ آپ نے فرمایا : ) میں بیمار ہوں " ( الصافات: 89 ) اور آپ کا یہ کہنا :" بلکہ اس بڑے بت نے کیا" (الانبیاء : 63 ) اور حضرت سارہ کے لیے آپ نے کہا : تو کہنا وہ میرا بھائی ہے، لیکن تم موسیٰ کے پاس چلے جاؤ وہ ایسے بندے ہیں جن کو اللہ نے اپنی رسالت کے لیے چن لیا تھا۔ پس لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے ، عرض کریں گے: ہمارے لیے شفاعت کریں ، ہمارے رب کے ہاں یہاں تک کہ ہمارے درمیان فیصلہ ہو جائے، آپ فرمائیں گے : میں یہاں تمہاری شفاعت نہیں کروں گا کیونکہ میں نے ایک انسان کو قتل کیا تھا بغیر کسی وجہ کے اور آج کے دن مجھے ڈر ہے ۔ لیکن تم عیسیٰ کے پاس جاؤ ، وہ اللہ کی روح اور اس کا کلمہ ہیں ۔ پس لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے۔عرض کریں گے ہمارے رب کے ہاں شفاعت کریں یہاں تک کہ ہمارے درمیان فیصلہ ہو جائے، آپ فرمائیں گے : میں یہاں تمہاری شفاعت نہیں کر سکتا ہوں ، میری والدہ کو اور مجھے لوگو ں ،نے دو خدا بنا لیا تھا اللہ کو چھوڑ کر لیکن تم بتاؤ کہ اگر برتن میں سامان ہو اور اس کو بند کر دیا جائے، کیا وہ دوسرے برتن میں ڈالا جائے گا بغیر اس کا ڈھکن کھولے ، وہ عرض کریں گے : نہیں ! تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے : بے شک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آج کے دن موجود ہیں ، ان کے وسلیہ سے اللہ نے ان کی امت کے پہلے اور اگلے گناہ معاف کردئیے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس لوگ میرے پاس آئیں گے ، عرض کریں گے ۔ہماری ہمارے رب کے ہاںشفاعت کریں یہاں تک کہ ہمارے درمیان فیصلہ ہو جائے، تو میں کہوں گا : میں ہی ہوں اس کے لیے ، میں ہی ہون اس کےلیے ، یہاں تک کہ اللہ عزوجل اجازت دے گا جس کو چاہے گا اور راضی ہوگا ، پس جب اللہ عزوجل ارادہ فرمائے گا اپنی مخلوق کے درمیان فیصلہ کرنے کا تو ایک آواز دینے والا آواز دے گا: کہاں ہیں احمد اور ان کی امت ! تو میں کھڑا ہوں گا اور اپنی امت کو تلاش کروں گا، میری امت کے وضو والے اعضا ء چمک رہے ہوں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائیں گے : ہم آخری والے پہلے ہیں جن کا حساب کیا جائے گا، امتیں ہمارے لیے راستہ کھول دیں گی، قریب ہے کہ یہ امت انبیاء ہوں سارے کے سارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت کے دروازے کے پاس پہنچوں گا، پس میں دروازہ کھٹکھاؤں گا ، کہا جائے گا: یہ کون ہے؟ میں کہوں گا : احمد ! تو میرے لیے دروازہ کھول دیا جائے گا، سو میں اپنے رب کے پاس پہنچوں گا، اللہ عزوجل اپنی کرسی پر ہوگا ( جیسے اس کی شان کے لائق ہے) سو میں اپنے رب کے لیے سجدہ میں گروں گا اور ایسی حمد کروں گا کہ میرے بعد کوئی نہیں کرے گا۔ مجھے کہا جائے گا : اپنا سر اٹھاؤں ! عرض کر وہ سنی جائے گی اور مانگیے کہ آپ کو دیا جائے ، شفاعت کریں آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ کہا جائے گا : جاؤ !پس میں جہنم سے جس کے دل میں رائی کے برابر ایمان ہے اس کو نکالوں گا، سو میں جاؤں گا اور ان کو نکال لاؤں گا۔ میں پھر اپنے رب کے پاس جاؤں گا پس سجدہ میں گر جاؤں گا، مجھے کہا جائے گا: اپنا سر اٹھاؤ! عرض کرو سنی جائے گی ، آپ شفاعت کریں آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی، آپ مانگیے آپ ک ودیا جائے گا۔ سو میرے لیے حد لگائی جائے گی تو میں ان کو نکال لاؤں گا۔

أَبِي نَضْرَةَ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 2834

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
1. Book
    70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter
1. Book
    364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter541. Chapter542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter