مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَشَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ · حديث 2854
2854 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: حَضَرَتْ عِصَابَةٌ مِنَ الْيَهُودِ يَوْمًا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَدِّثْنَا عَنْ خِلَالٍ نَسْأَلُكَ عَنْهَا، لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا نَبِيٌّ قَالَ: «سَلُونِي عَمَّ شِئْتُمْ، وَلَكِنِ اجْعَلُوا لِي ذِمَّةَ اللَّهِ وَمَا أَخَذَ يَعْقُوبُ عَلَى بَنِيهِ إِنْ أَنَا حَدَّثْتُكُمْ بِشَيْءٍ تَعْرِفُونَهُ لَتُبَايِعُنِّي عَلَى الْإِسْلَامِ» قَالُوا: فَلَكَ ذَلِكَ قَالَ: «فَسَلُونِي عَمَّ شِئْتُمْ» قَالُوا: أَخْبِرْنَا عَنْ أَرْبَعِ خِلَالٍ نَسْأَلُكَ عَنْهَا: أَخْبِرْنَا عَنِ الطَّعَامِ الَّذِي حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرَاةُ، وَأَخْبِرْنَا عَنْ مَاءِ الْمَرْأَةِ مِنْ مَاءِ الرَّجُلِ، وَكَيْفَ يَكُونُ مِنْهُ الذَّكَرُ حَتَّى يَكُونَ ذَكَرًا وَكَيْفَ تَكُونُ [ص:451] مِنْهُ الْأُنْثَى حَتَّى تَكُونَ أُنْثَى، وَأَخْبِرْنَا كَيْفَ هَذَا النَّبِيُّ فِي النَّوْمِ، وَمَنْ وَلِيُّكَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ؟ قَالَ: «فَعَلَيْكُمْ عَهْدُ اللَّهِ وَمِيثَاقُهُ، لَئِنْ أَنَا حَدَّثْتُكُمْ لَتُبَايِعُنِّي؟» فَأَعْطَوْهُ مَا شَاءَ مِنْ عَهْدٍ وَمِيثَاقٍ قَالَ: «أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ إِسْرَائِيلَ يَعْقُوبَ مَرِضَ مَرَضًا شَدِيدًا وَطَالَ سَقَمُهُ مِنْهُ، فَنَذَرَ لِلَّهِ نَذْرًا، لَئِنْ شَفَاهُ مِنْ سَقَمِهِ لَيُحَرِّمَنَّ أَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَيْهِ، وَأَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَيْهِ، وَكَانَ أَحَبُّ الشَّرَابِ إِلَيْهِ ألْبَانَ الْإِبِلِ، وَكَانَ أَحَبُّ الطَّعَامِ إِلَيْهِ لُحْمَانَ الْإِبِلِ؟» قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ اشْهَدْ عَلَيْهِمْ» قَالَ: «فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ مَاءَ الرَّجُلِ غَلِيظٌ أَبْيَضُ، وَأَنَّ مَاءَ الْمَرْأَةِ رَقِيقٌ [ص:452] أَصْفَرُ، فَأَيُّهُمَا عَلَا كَانَ لَهُ الْوَلَدُ وَالشَّبَهُ بِإِذْنِ اللَّهِ؛ فَإِنْ عَلَا مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَ الْمَرْأَةِ كَانَ ذَكَرًا بِإِذْنِ اللَّهِ، وَإِنْ عَلَا مَاءُ الْمَرْأَةِ مَاءَ الرَّجُلِ كَانَتْ أُنْثَى بِإِذْنِ اللَّهِ؟» قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ اشْهَدْ» قَالَ: «فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ هَذَا النَّبِيَّ تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ؟» قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ: «اللَّهُمَّ اشْهَدْ عَلَيْهِمْ» قَالُوا: أَنْتَ الْآنَ، حَدِّثْنَا مَنْ وَلِيُّكَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، فَعِنْدَهَا نُجَامِعُكَ أَوْ نُفَارِقُكَ قَالَ: «وَلِيِّيَ جِبْرِيلُ، وَلَمْ يَبْعَثِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِيًّا قَطُّ إِلَّا وَهُوَ وَلِيُّهُ» قَالُوا: فَعِنْدَهَا نُفَارِقُكَ، لَوْ كَانَ وَلِيُّكَ غَيْرَهُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ لَبَايَعْنَاكَ وَصَدَّقْنَاكَ قَالَ: «فَمَا يَمْنَعُكُمْ أَنْ تُصَدِّقُوهُ؟» قَالُوا: إِنَّهُ عَدُوُّنَا مِنَ الْمَلَائِكَةِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَى قَلْبِكَ بِإِذْنِ اللَّهِ} [البقرة: 97] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، وَنَزَلَتْ: {فَبَاءُوا بِغَضَبٍ عَلَى غَضِبٍ}
حضرت شہر بن حوشب سے روایت ہے کہ مجھ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ یہودیوں کا ایک گروہ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا ، انہوں نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم آپ سے سوال کرنا چاہتے ہیں ان سوالوں کا جواب صرف نبی ہی جانتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو چاہو سوال کرو لیکن مجھ سے اللہ کے ذمہ اور اس پر جو حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے بیٹوں سے لیا تھا ، اس کے مطابق وعدہ کرو کہ میں اگر تم کو بتا دوں جس کو تم چاہتے ہو تو تم میری اسلام پر بیعت کرو گے۔ انہوں نے عرض کی: آپ کے ساتھ وعدہ کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: مجھ سے جو تم چاہو پوچھو، انہوں نے عرض کی : ہم کو چار چیزوں کے متعلق بتائیں ! ہم کو بتائیں اس کھانے کے متعلق جو حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے اوپر حرام کیا ہوا تھا تورات کے نازل ہونے سے پہلے ؟ اور ہمیں بتائیے کہ اس نبی کی نیند کیسے ہوتی ہے؟ اور فرشتوں میں آپ کا دوست کوں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم پر اللہ کا وعدہ اور میثاق ہے، اگر میں تمہیں بتا دیتا ہوں تو تم میری بیعت کرو گے، تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بہت مضبوط وعدہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تمیں تم کو اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل کی ہے ، کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کے بندے حضرت یعقوب علیہ السلام سخت بیمار ہو گئے تھے، ان کی بیماری لمبی ہوگئی تھی، تو انہوں نے اللہ کے لیے نذرمانی کہ اگر انہیں اس مرض سے شفاء مل گئی تو میں ضرور اس دودھ کو اپنے اوپر حرام کرلوں گا جو سب سے زیادہ محبوب ہے اور اس کھانے کو جو سب سے زیادہ محبوب ہے، اور انہیں پینے والی چیز اونٹنی کا دودھ تھا اور محبوب ترین کھانا اونٹ تھا۔ تو ان یہودیوں نے کہا: اللہ کی قسم ! ہاں ! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ ! تو اس پر گواہ رہنا ۔ اپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ، وہی ہے جس نے تورات حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اتاری ، کیا تم جانتے ہو کہ مرد کا پانی سفید گاڑھا ہوتا ہے اور عورت کا پانی پتلا زرد ہوتا ہے، سو جوان دونوں میں سے غالب آجائے بچہ اس کےمشابہ ہوگا اللہ کے حکم سے ، اور اگر مرد کا پانی عورت کے پانی پر غالب ہوجائے تو لڑکا ہوگا ۔اللہ کے حکم سے ، اگر عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آجائے تو بچی ہوگی اللہ کے حکم سے انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! ہاں ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! تو ان پ رگواہ رہنا ! آپ نے فرمایا : میں تم کو اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل فرمائی ہے، کیا تم جانتے ہو کہ یہ نبی ہے جس کی انکھیں سوتی ہیں اور اس کا دل نہیں سوتا ہے، انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرض کی : اے اللہ تو اس پر گواہ رہنا! انہوں نے عرض کیا: اب آپ بتائیں کہ فرشتوں میں سے آپ کا دوست کون سا فرشتہ ہے؟ ہم آپ پرا سلام لائیں گے یا آپ سے جد ا ہوجائیں گے۔ ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے دوست جبریل علیہ السلام ہیں ، اللہ عزوجل نے کسی نبی کو نہیں بھیجا مگر یہ اس کے دوست ہیں انہوں نے کہا : ہم آپ سے جدا ہوتے ہیں ، اگر آپ پر کوئی اور فرشتہ دوست ہوتا تو ہم آپ کی بیعت بھی کرتے اور ہم آپ کی تصدیق بھی کرتے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تمہیں کون سی رکاوٹ ہے کہ تم نے اس کی تصدیق نہیں کی ؟ انہون نے کہا : وہ فرشتوں میں سے ہمارا دشمن ہے، پس اللہ عزوجل نے یہ آیت اتاری : ۔" من کان عدو لجبریل فانہ نزلہ علی قلبک باذن اللہ " آخرت آیت تک اور یہ نازل ہوئی : " فبائو ا بغضب علی غضب" وہ اللہ کے غضب پر غصب کے مستحق ہوئے"۔
حَضَرَتْ عِصَابَةٌ مِنَ الْيَهُودِ يَوْمًا إِلَى النَّبِيِّ فَقَالُوا: ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2854
