مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَأَبُو الطُّفَيْلِ · حديث 2820
2820 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ الْغَنَوِيِّ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ عَلَى بَعِيرٍ بِالْبَيْتِ، وَأَنَّ ذَلِكَ [ص:415] سُنَّةٌ قَالَ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا قُلْتُ: مَا صَدَقُوا وَكَذَبُوا؟، قَالَ: صَدَقُوا؛ طَافَ عَلَى بَعِيرٍ وَلَيْسَ بِسُنَّةٍ؛ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يُضْرَبُ النَّاسُ عَنْهُ وَلَا يُدْفَعُ، فَطَافَ عَلَى بَعِيرٍ كَيْ يَسْمَعُوا كَلَامَهُ، وَلَا تَنَالَهُ أَيْدِيهِمْ قُلْتُ: يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَمَلَ بِالْبَيْتِ، وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ قَالَ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا قُلْتُ: مَا صَدَقُوا وَكَذَبُوا؟، قَالَ: صَدَقُوا؛ قَدْ «رَمَلَ» وَكَذَبُوا؛ لَيْسَتْ بِسُنَّةٍ؛ إِنَّ قُرَيْشًا قَالَتْ: دَعُوا مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ حَتَّى يَمُوتُوا مَوْتَ النَّغَفِ فَلَمَّا صَالَحُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَنْ يَجِيئُوا مِنْ الْعَامِ الْقَابِلِ فَيُقِيمُوا بِمَكَّةَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ، وَالْمُشْرِكُونَ مِنْ قِبَلِ قُعَيْقِعَانَ قَالَ لِأَصْحَابِهِ: «ارْمُلُوا» وَلَيْسَ بِسُنَّةٍ قُلْتُ: يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ سَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ قَالَ: صَدَقُوا؛ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أُرِيَ الْمَنَاسِكَ عَرَضَ لَهُ [ص:416] شَّيْطَانٌ عِنْدَ الْمَسْعَى، فَسَابَقَهُ، فَسَبَقَهُ إِبْرَاهِيمُ، ثُمَّ انْطَلَقَ بِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ حَتَّى أَتَى بِهِ مِنًى، فَقَالَ: مُنَاخُ النَّاسِ هَذَا، ثُمَّ انْتَهَى إِلَى جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ، فَعَرَضَ لَهُ شَيْطَانٌ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى ذَهَبَ بِهِ إِلَى جَمْرَةِ الْوُسْطَى، فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ، فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى ذَهَبَ، ثُمَّ أَتَى جَمْرَةَ الْقُصْوَى، فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى ذَهَبَ، ثُمَّ أَتَى بِهِ جَمْعًا فَقَالَ: هَذَا الْمَشْعَرُ الْحَرَامُ، ثُمَّ أَتَى بِهِ عَرَفَةَ فَقَالَ: هَذِهِ عَرَفَةُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَتَدْرِي لِمَ سِمِّيَتْ عَرَفَةَ؟، قَالَ: لَا قَالَ: لِأَنَّ جِبْرِيلَ قَالَ لَهُ: أَعَرَفْتَ؟ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَتَدْرِي كَيْفَ كَانَتِ التَّلْبِيَةُ؟ قَالَ: إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَمَّا أُمِرَ أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ أُمِرَتِ الْجِبَالُ فَخَفَضَتْ رُءُوسَهَا وَرُفِعَتْ لَهَا الْقُرَى، فَأَذَّنَ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ
حضرت ابوالطفیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عرض کی : آپ کی قوم کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف اونٹ پر کیا اور بے شک یہ سنت ہے۔ آپ نے فرمایا : انہوں نے سچ بھی کہا اور جھوٹ بھی بولا۔ میں نے عرض کی :سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا : سچ یہ ہے کہ آپ نے اونٹ پر طواف کیا ہے اور( جھوٹ یہ ہے) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو مار بھی رہے تھے اور ہٹا بھی رہے تھے، بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار تھے تو صحابہ کرام اس اونٹنی کو مار بھی رہے تھے اور اس کو ہنکا بھی رہے تھے تاکہ اپنی کلام سنا سکیں ان کے ہاتھ نہیں پہنچ رہے تھے ، میں نے عرض کی: وہ گمان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمل کیا ہے، اور بلاشبہ یہ سنت ہے؟ ( حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ) فرمایا: انہوں نے سچ بھی کاہ اورجھوٹ بھی کہا، میں نے عرض کی : سچ کیا ہے اور جھوٹ کیاہے؟ آپ نے فرمایا : سچ یہ ہے کہ آپ نے رمل کیا اور جھوٹ یہ ہے کہ یہ سنت نہیں ہے۔ ( وجہ رمل یہ ہے کہ ) قریش نے کہا کہ محمد اور اس کے ساتھیوں کو چھوڑ دو یہاں تک کہ وہ مرجائیں، پس جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے صلح کی کہ ہم آئندہ سال آئیں گے تو مکہ میں تین دن ٹھہریں گے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ آئے ، اور مشرکین قعیقان کی جانب تھے ، آپ نے صحابہ سے فرمایا: رمل کرو ! اور یہ سنت نہیں ہے۔ میں نے عرض کی: آپ کی قوم کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفا و مروہ کے درمیان سعی کی، اور بلاشبہ یہ سنت ہے۔ آپ نے فرمایا : انہوں نے سچ کہا ، بے شک ابراہیم علیہ السلام کو جب حج کے ارکان کا حکم ہوا تو شیطان آپ کے سامنے سعی کے مقام پر آیا ، سو اس نے آپ سے دور لگائی ، تو حضرت ابراہیم علیہ السلام اس سے سبقت لے گئے ، پھر حضرت جبریل علیہ السلام ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کو لے چلے یہاں تک کہ آپ کو منیٰ میں لے آئے ، فرمایا : یہاں لوگ قربانی کریں گے، پھر انہیں جمرہ عقبہ کے پاس لے کر آئے ، پھر شیطان آپ کے سامنے ہوا، آپ نے اس کو سات کنکریاں ماریں یہاں تک کہ وہ جمرہ وسطیٰ کے پاس چلا گیا ، شیطان اس جگہ بھی آپ کے سامنے ہوا اس جگہ بھی آپ نے اس کو سات کنکریاں ماریں ۔ یہا تک کہ وہ چلا گیا، پھر آپ جمرہ قصویٰ کے پاس آئے ، اس جگہ بھی شیطان آپ کے سامنے ہوا تو آپ نے اس جگہ بھی اس کو سات کنکریاں ماریں ، پھر آپ کو حضرت جبریل علیہ السلام مزدلفہ لے کر آئے ، عرض کی : یہ مشعر حرام ہے، پھر آپ کو عرفہ لے کر آئے ، عرض کی : یہ عرفہ ہے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا آپ جانتے ہیں کہ عرفہ کو عرفہ کیوں کہتےہیں ؟ عرض کی : نہیں! فرمایا کیونکہ جبریل علیہ السلام نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے عرض کی تھی کہ کیا آپ نے پہچان لیا ( کہ کس وجہ سے اسکو عرفہ کہتے ہیں)۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ابراہیم علیہ السلام کو جب حکم دیا گیا کہ لوگوں کے لیے حج کا اعلان کرو ، تو پہاڑوں کو حکم دیا گیا تو انہوں نے اپنے سر کو جھکا دیا اور آبادیاں آپ کے سامنے اٹھا دی گئیں، سو انہوں نے لوگوں میں حج کا اعلان کیا۔
قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ يَزْعُمُ قَوْمُکَ ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← أَبِي عَاصِمٍ الْغَنَوِيِّ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2820
