مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ النِّسَاءِ فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ أَبِيهَا · حديث 1470
1470 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ فِرَاسِ بْنِ يَحْيَى، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، مَا يُغَادِرُ مِنَّا وَاحِدَةً، إِذْ جَاءَتْ فَاطِمَةُ تَمْشِي مَا تُخْطِئُ مِشْيَتُهَا [ص:6] مِنْ مِشْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، فَلَمَّا رَآهَا قَالَ: «مَرْحَبًا بِابْنَتِي» فَأَقْعَدَهَا عَنْ يَمِينِهِ، أَوْ عَنْ يَسَارِهِ، ثُمَّ سَارَّهَا بِشَيْءٍ فَبَكَتْ، فَقُلْتُ لَهَا أَنَا مِنْ بَيْنِ نِسَائِهِ: خَصَّكِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْنِنَا بِالسِّرَارِ وَأَنْتِ تَبْكِينَ؟ ثُمَّ سَارَّهَا بِشَيْءٍ فَضَحِكَتْ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهَا: أَقْسَمْتُ عَلَيْكِ بِحَقِّي، أَوْ بِمَا لِي عَلَيْكِ مِنَ الْحَقِّ، لَمَا أَخْبَرْتِينِي، قَالَتْ: مَا كُنْتُ لِأُفْشِيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرَّهُ، قَالَتْ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْتُهَا، فَقَالَتْ: أَمَّا الْآنَ فَنَعَمْ، أَمَّا بُكَائِي، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِي: «إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ يَعْرِضُ عَلَيَّ الْقُرْآنَ كُلَّ عَامٍ مَرَّةً، فَعَرَضَهُ عَلَيَّ الْعَامَ مَرَّتَيْنِ، وَلَا أُرَى أَجَلِي إِلَّا قَدِ اقْتَرَبَ» فَبَكَيْتُ، فَقَالَ لِي: «اتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي؛ فَإِنِّي أَنَا لَكِ نِعْمَ السَّلَفُ» ، ثُمَّ قَالَ: «يَا فَاطِمَةُ، أَمَا تَرْضَيْنَ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ» ، «أَوْ سَيِّدَةَ نِسَاءِ هَذِهِ الْأُمَّةِ» ، فَضَحِكْتُ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھیں ،اس بیماری میں جس میں آپ نے وصال فرمایا اور ہم میں سے کوئی بھی آپ سے جدا نہیں ہونا چاہتا تھا،اچانک حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ آئیں ،آپ کا چلنا رسول اللہ ﷺ کی طرح چلنا تھا جب آپ نے انہیں (یعنی اپنے لخت جگر کو )دیکھا تو فرمایا :میری بیٹی خوش آمدید !پھر آ پ نے انہیں اپنے دائیں یا بائیں جانب بٹھا لیا پھر آپ کے ساتھ کوئی راز کی بات کی تو آپ رو پڑیں ،میں نے ان سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ اپنی بیویوں کے درمیان آپ کو راز کے لیئے خاص کیا تو آ پ رو پڑیں پھر آپ کے ساتھ کوئی سرگوشی کی تو آپ ہنس پڑیں ۔میں نے ان سے کہا میں آپ کو قسم دیتی ہوں اس حق کی جو میرا آپ پر (ماں ہونے کے حوالے سے حق )ہے ،آپ مجھے اس کی وجہ بتائیں ۔تو حضڑت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں رسول اللہ ﷺ کے راز کو ظاہر نہیں کروں گی ۔پس جب نبی اکرم ﷺ کا وصال ہو گیا تو میں نے آپ سے پوچھا ،آپ نے فرمایا :اب بتاتی ہوں رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ بے شک جبریل میرے پاس ہر سال قرآن کا ایک مرتبہ دور کرتے ہیں اس سا ل انہوں نے میرے ساتھ دو مرتبہ دور کیا ہے مجھے یقین ہے کہ میری موت کا وقت قریب ہے تو میں رو پڑی پھر مجھ سے آ پ نے فرمایاتو اللہ سے ڈرنا اور صبر کرنا ،کیونکہ میں تیرے لیئے آگے بہترین پیش رو ہوں گا ۔پھر فرمایا :اے فاطمہ !کیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ تو تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار یا اس امت کی سردار ہو قیامت کے دن ،تو میں ہنس دی ۔
عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← فِرَاسِ بْنِ يَحْيَى، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1470
