مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ · حديث 2292
2292 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّكُمْ تَتَّبِعُونَ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبٍّ دَخَلْتُمُوهُ» فَقِيلَ: مَنْ هُمْ؟ قَالَ: «الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى»
حضرت عطاء بن یسار ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا: کیا ہم بروز قیامت اپنےرب کو دیکھ سکیں گے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً فرمایا: کیا تمہیں دوپہر کے وقت سورج کو دیکھنے میں دشواری ہوتی ہے جبکہ اس کے بالمقابل کوئی بادل بھی نہ ہو۔ ابو داؤد نے " تشکون " کا قول نقل فرمایا ہے یعنی کیا تمہیں اس بات میں شک ہے ۔ تو وہ عرض گزار ہوئے : نہیں ! پھر فرمایا: جب چودھویں شب کو آسمان پر چاند موجود ہو اور اس کے بالمقابل بادل بھی نہ ہو تو کیا چاند کو دیکھنے سے تمہیں تکلیف ہوتی ہے؟ تو عرض کیا : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! نہیں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس کیفیت کے ساتھ تم دنیا میں سورج یا چاند کو دیکھتے ہو، اسی کیفیت کے ساتھ تم قیامت کے دن ذات الٰہی کا دیدار کرو گے، قیامت کے دن ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا کہ ہر گروہ اس کی پیروی کرے جس کی وہ دنیا میں عبادت کیا کرتا تھا۔ اس اعلان کے بعد جس قدر لوگ بتوں وغیرہ کو معبود سمجھتے تھے سب جہنم میں گر جائیں گے یہاں تک کہ وہ وہی لوگ باقی بچیں گے جو صرف عبادت الٰہی کرتے تھے، خواۃ اچھے ہوں یا برے اور کچھ لوگ اہل کتاب میں سے بھی باقی رہیں گے ۔ ان سے دریافت کیا جائے گا: تم کسے لائق عبادت سمجھا کرتے تھے؟ تو وہ کہیں گے : ہم اللہ تعالیٰ کے بیٹے عزیز کی عبادت کیا کرتے تھے ، تو انہیں کہا جائے گا : تم جھوٹے ہو، اللہ تعالیٰ کی نہ تو کوئی بیوی ہے اور نہ کوئی بیٹا ، اب تم کیا چاہتے ہو؟ تو وہ کہیں گے: اے رب ہم پیاسے ہیں ہم کو پانی پلا! پھر انہیں اشارہ کیا جائے گا کہ تم پانی کی طرف کیوں نہیں جاتے ، پھر ان کے لیے جہنم کو بلند کیا جائے گا، وہ جہنم سراب کی طرح دکھائی دے گی جس کا بعض حصہ بعض لوگوں کو توڑ کر رکھ دے گا یہاں تک کہ دوزخ میں گر جائیں گے ۔ پھر عیسائیوں کو بلایا جائے گا، ان سے پوچھا جائے گا : تم کس کی عبادت کرتے تھے؟ تو وہ کہیں گے : ہم اللہ تعالیٰ کے بیٹے عیسیٰ علیہ السلام کی عبادت کرتے تھے، تو انہیں بھی کہا جائے گا : تم بھی جھوٹے ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نہ بیوی ہے اور نہ کوئی اولاد ہے، تم کیا چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے : اے ہمارے رب ! ہم پیاسے ہیں ہمیں سیراب فرما! تو انہیں اشارہ کیا جائے گا : تم پانی کی طرف کیوں نہیں جاتے ؟ تو ان کے لیے جہنم کو اٹھایا جائے گا، وہ جہنم سراب کی طرح دکھائی دے گی۔ جس کا ایک حصہ لوگوں کو توڑ پھوڑ کر رکھ دے گا، یہاں تک کہ وہ بھی جہنم میں گر جائیں گے۔ صرف وہی لوگ باقی رہیں گے جو ( دنیامیں ) اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کرتے تھے خواہ وہ نیک ہوں یا بد ، پھر اللہ تعالیٰ ان کی طرف متوجہ ہو کر ان سے پوچھے گا: اب تمہیں کس کا انتظار ہے ؟ ہر گروہ اپنے معبود کی اتباع کرے گا اور اہل ایمان عرض کریں گے : ہم دنیا میں ان لوگوں سے دور رہے اور نہ ہی ہم نے ان کی سنگت اختیار کی ۔ ہم اپنے رب کے منتظر ہیں جس کی ہم عبادت کیا کرتے تھے ۔ اللہ پوچھے گا: کیا تمہارے پاس کوئی الٰہی نشانی ہے جس کیوجہ سے تم اپنے رب کو پہچان سکو؟ تو وہ جواباً عرض کریں گے : ہاں ! پھر اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی پنڈلی ظاہر فرمائے گا تو وہی باقی رہے گا جو شخص محجدنیا میں اس کی رضا کے لیے سجدہ کرتا تھا، تو اسے سجدہ کرنے کی اجازت دی جائے گی اور جو شخص کسی منافقت یا ریاکاری کے لیے دنیا میں سجدہ کرتا تھا، اسے سجدہ کی اجازت نہیں ہو گی، مگر اس کی پیٹھ ایک تختے کی طرح ہو جائے گی اور جب بھی وہ سجدہ کرنے کا ارادہ کرے گا پیٹھ کے بل گر پڑے گا۔ پھر مسلمان اپنا سر سجدے سے اٹھا ئیں گے تو رب کہے گا: میں تمہارا رب ہوں ، مسلمان کہیں گے : تو ہمارا رب ہے۔ پھر جہنم کے اوپر پل صراط بچھایا جائے گا اور شفاعت کی اجازت دی جائے گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائیں گے : اے میرے رب ! سلامتی عطا فرما ! سلامتی عطاء فرما! اہل ایمان پل صراط سے گزر جائیں گے ، پوچھا گیا : پل صراط کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ایک پھسلانے والی چیز ہوگی جس میں دندانے دار کانٹے ہوں گے اور ایک چوڑا کانٹا ہوگا اور اس میں ایک لوہے کا مڑا ہواکانٹا ہو گا، اسے سعدان کہا جاتا ہے ۔ بعض مسلمان اس پل سے پلک جھپکنے میں گزر جائیں گے ، بعض بجلی کی طرح کچھ آندھی کی طرح ، بعض تیز رفتار اعلیٰ نسل گھوڑوں کی طرح اور بعض اونٹوں کی طرح ، یہ سب صحیح سلامت پار کر پہنچ جائیں گے، جو مؤمن دوزخ سے چھٹکارہ پا لیں گے تو قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے!وہ اپنے مسلمان بھائیوں کو جو جہنم میں پڑے ہوں گے جہنم سے نجات دلانے کے لیے ( بطور ناز) اللہ تعالیٰ سے جھگڑا کرتے ہوئے کہیں گے : اے ہمارے رب ! ہمارے بھائی ہمارے ساتھ نماز ، روزہ اور حج کیا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ چلو جسے بھی تم پہنچانتے ہو اسے نکالو! تو ان لوگوں پر دوزخ کی آگ حرام کر دی جائے گی، تو وہ چلیں گے اور انہیں دوزخ سے نکالیں گے حالانکہ جہنم کی آگ نے کچھ لوگوں کو گھٹنوں تک پکڑا ہوگا اور بعض لوگوں کو نصف پنڈلیوں کو ۔ تو اہل جنت بہت زیادہ افراد کو دوزخ سے آزاد کرائیں گے، پھر وہ واپس پلٹ کر عرض کریں گے : اے ہمارے رب! ان لوگوں میں سے کوئی بھی باقی نہیں بچا جن کے نکالنے کا تو نے حکم دیا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ حکم دے گا : پھر جاؤ جس کے دل میں ایک دینار کے برابر بھی نیکی موجود ہے تم اسے دوزخ سے نکال لاؤ۔ وہ جائیں گے اور بہت سے افراد دوزخ سے نکال لائیں گے۔ پھر جنتی واپس آکر عرض کریں گے : اے اللہ ! ہم نے ان تمام لوگوں کو دوزخ سے نکال دیا ہے جن کے نکالنے کا تو نے حکم دیا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا: جاؤ ! جس کے دل میں آدھا دینار بھی بھلائی موجود ہے اسے دوزخ سے آزاد کراؤ! وہ جائیں گے اور بہت سے دوزخیوں کو دوزخ سے نکال لائیں گے ۔ پھر واپس آکر عرض کریں گے : اے اللہ ! جن کے نکالنے کا تو نے حکم دیا تھا ہم نے انہیں نکال لیا ہے، اب کوئی بھی باقی نہیں بچا ۔ پھر حکم الٰہی ہو گا : جاؤ! جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر بھی نیکی ہو اسے بھی دوزخ سے نکالو۔ پھر وہ لوگ جائیں گے اور بہت زیادہ اہل جہنم کو جہنم سے نکال لائیں گے اور کہیں گے : اے ہمارے رب ! جن لوگوں کو نکالنے کا حکم دیا تھا ہم نے ان میں سے کسی کو نہیں چھوڑا ۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے : اگر تم اس حدیث کی تصدیق نہیں کرتے تو قرآن کی یہ آیت پڑھو: " اللہ تعالیٰ ایک ذرے کے برابر بھی کسی پر زیادتی نہیں فرمائے گا: ملائکہ نے شفاعت کر دی، انبیاء علہیم السلام نے شفاعت کردی اور اہل ایمان نے شفاعت کردی ، اب صرف ارحم الراحمین کی ذات باقی ہے ۔ آپ فرماتے ہیں کہ پھر اللہ تعالیٰ ایک مٹھی بھر کر دوزخ میں سے لوگوں کو نکالے گا جنہوں نے بالکل کوئی بھی نیکی نہیں کی ہوگی اور وہ لوگ جل کر کوئلہ بن چکے ہوں گے، اللہ تعالیٰ انہیں جنت کے دروازے پر آب حیات کی نہروں میں ڈال دے گا، وہ اپنے مردے پن سے ایسے نکلیں گے جیسے سیلاب کی مٹی میں سے دانہ اگ پڑتا ہے، کیا تم نے نہیں دیکھا جو دانہ پتھر یا درخت کے پاس سوراخ پر ہوتا ہے وہ سبز رنگ یا زرد رنگ کا بن جاتا ہے اور جو دانہ سائے کی طرف ہوتا ہے ، اس کا پودا سفید رنگ کا ہوتا ہے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ تو زرعی معاملات کو اس طرح بیان فرما رہے ہیں جس طرح آپ جنگلوں میں جانور چراتے ہوں ، پھر آپ نے فرمایا : وہ لوگ اس نہر سے موتیوں کی طرح چمکتے ہوئے نکلیں گے کہ ان کی گردنوں میں سونے کے پٹے ہوں گے ، پھر اعلان ہوگا : یہ اللہ تعالیٰ کے آزاد کردہ وہ لوگ ہیں جنہیں بغیر کسی عمل اور بھلائی کے دوزخ سے نکالا گیا ہے، پھر ان سے کہا جائے گا : جنت میں داخل ہو جاؤ! جس چیز کو تم دیکھو گے وہ تمہاری ہوگی۔ پھر وہ عرض کریں گے : مولا ! تو نے ہمیں اتنا عطاء کیا ہے حالانکہ دونوں جہانوں میں سے کسی کو عطا نہیں کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میرے پاس تمہارے لیے اس سے بہتر چیز ہے ۔ تو وہ عرض کریں گے : اس سے بہتر اور کیا چیز ہے ؟ اللہ تعالی فرماتے گا : وہ میری رضا ہے ، اس کے بعد کبھی بھی تم سے ناراض نہیں ہوں گا۔
اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← خَارِجَةَ بْنِ مُصْعَبٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2292
