Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي داود الطيالسي

Musnad Abu Dawood Tayalisi

by Abu Dawood Tiyalisi

2,890 Hadith613 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ · حديث 2292

2292 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّكُمْ تَتَّبِعُونَ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبٍّ دَخَلْتُمُوهُ» فَقِيلَ: مَنْ هُمْ؟ قَالَ: «الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى»

حضرت عطاء بن یسار ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا: کیا ہم بروز قیامت اپنےرب کو دیکھ سکیں گے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً فرمایا: کیا تمہیں دوپہر کے وقت سورج کو دیکھنے میں دشواری ہوتی ہے جبکہ اس کے بالمقابل کوئی بادل بھی نہ ہو۔ ابو داؤد نے " تشکون " کا قول نقل فرمایا ہے یعنی کیا تمہیں اس بات میں شک ہے ۔ تو وہ عرض گزار ہوئے : نہیں ! پھر فرمایا: جب چودھویں شب کو آسمان پر چاند موجود ہو اور اس کے بالمقابل بادل بھی نہ ہو تو کیا چاند کو دیکھنے سے تمہیں تکلیف ہوتی ہے؟ تو عرض کیا : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! نہیں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس کیفیت کے ساتھ تم دنیا میں سورج یا چاند کو دیکھتے ہو، اسی کیفیت کے ساتھ تم قیامت کے دن ذات الٰہی کا دیدار کرو گے، قیامت کے دن ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا کہ ہر گروہ اس کی پیروی کرے جس کی وہ دنیا میں عبادت کیا کرتا تھا۔ اس اعلان کے بعد جس قدر لوگ بتوں وغیرہ کو معبود سمجھتے تھے سب جہنم میں گر جائیں گے یہاں تک کہ وہ وہی لوگ باقی بچیں گے جو صرف عبادت الٰہی کرتے تھے، خواۃ اچھے ہوں یا برے اور کچھ لوگ اہل کتاب میں سے بھی باقی رہیں گے ۔ ان سے دریافت کیا جائے گا: تم کسے لائق عبادت سمجھا کرتے تھے؟ تو وہ کہیں گے : ہم اللہ تعالیٰ کے بیٹے عزیز کی عبادت کیا کرتے تھے ، تو انہیں کہا جائے گا : تم جھوٹے ہو، اللہ تعالیٰ کی نہ تو کوئی بیوی ہے اور نہ کوئی بیٹا ، اب تم کیا چاہتے ہو؟ تو وہ کہیں گے: اے رب ہم پیاسے ہیں ہم کو پانی پلا! پھر انہیں اشارہ کیا جائے گا کہ تم پانی کی طرف کیوں نہیں جاتے ، پھر ان کے لیے جہنم کو بلند کیا جائے گا، وہ جہنم سراب کی طرح دکھائی دے گی جس کا بعض حصہ بعض لوگوں کو توڑ کر رکھ دے گا یہاں تک کہ دوزخ میں گر جائیں گے ۔ پھر عیسائیوں کو بلایا جائے گا، ان سے پوچھا جائے گا : تم کس کی عبادت کرتے تھے؟ تو وہ کہیں گے : ہم اللہ تعالیٰ کے بیٹے عیسیٰ علیہ السلام کی عبادت کرتے تھے، تو انہیں بھی کہا جائے گا : تم بھی جھوٹے ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نہ بیوی ہے اور نہ کوئی اولاد ہے، تم کیا چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے : اے ہمارے رب ! ہم پیاسے ہیں ہمیں سیراب فرما! تو انہیں اشارہ کیا جائے گا : تم پانی کی طرف کیوں نہیں جاتے ؟ تو ان کے لیے جہنم کو اٹھایا جائے گا، وہ جہنم سراب کی طرح دکھائی دے گی۔ جس کا ایک حصہ لوگوں کو توڑ پھوڑ کر رکھ دے گا، یہاں تک کہ وہ بھی جہنم میں گر جائیں گے۔ صرف وہی لوگ باقی رہیں گے جو ( دنیامیں ) اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کرتے تھے خواہ وہ نیک ہوں یا بد ، پھر اللہ تعالیٰ ان کی طرف متوجہ ہو کر ان سے پوچھے گا: اب تمہیں کس کا انتظار ہے ؟ ہر گروہ اپنے معبود کی اتباع کرے گا اور اہل ایمان عرض کریں گے : ہم دنیا میں ان لوگوں سے دور رہے اور نہ ہی ہم نے ان کی سنگت اختیار کی ۔ ہم اپنے رب کے منتظر ہیں جس کی ہم عبادت کیا کرتے تھے ۔ اللہ پوچھے گا: کیا تمہارے پاس کوئی الٰہی نشانی ہے جس کیوجہ سے تم اپنے رب کو پہچان سکو؟ تو وہ جواباً عرض کریں گے : ہاں ! پھر اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی پنڈلی ظاہر فرمائے گا تو وہی باقی رہے گا جو شخص محجدنیا میں اس کی رضا کے لیے سجدہ کرتا تھا، تو اسے سجدہ کرنے کی اجازت دی جائے گی اور جو شخص کسی منافقت یا ریاکاری کے لیے دنیا میں سجدہ کرتا تھا، اسے سجدہ کی اجازت نہیں ہو گی، مگر اس کی پیٹھ ایک تختے کی طرح ہو جائے گی اور جب بھی وہ سجدہ کرنے کا ارادہ کرے گا پیٹھ کے بل گر پڑے گا۔ پھر مسلمان اپنا سر سجدے سے اٹھا ئیں گے تو رب کہے گا: میں تمہارا رب ہوں ، مسلمان کہیں گے : تو ہمارا رب ہے۔ پھر جہنم کے اوپر پل صراط بچھایا جائے گا اور شفاعت کی اجازت دی جائے گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائیں گے : اے میرے رب ! سلامتی عطا فرما ! سلامتی عطاء فرما! اہل ایمان پل صراط سے گزر جائیں گے ، پوچھا گیا : پل صراط کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ایک پھسلانے والی چیز ہوگی جس میں دندانے دار کانٹے ہوں گے اور ایک چوڑا کانٹا ہوگا اور اس میں ایک لوہے کا مڑا ہواکانٹا ہو گا، اسے سعدان کہا جاتا ہے ۔ بعض مسلمان اس پل سے پلک جھپکنے میں گزر جائیں گے ، بعض بجلی کی طرح کچھ آندھی کی طرح ، بعض تیز رفتار اعلیٰ نسل گھوڑوں کی طرح اور بعض اونٹوں کی طرح ، یہ سب صحیح سلامت پار کر پہنچ جائیں گے، جو مؤمن دوزخ سے چھٹکارہ پا لیں گے تو قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے!وہ اپنے مسلمان بھائیوں کو جو جہنم میں پڑے ہوں گے جہنم سے نجات دلانے کے لیے ( بطور ناز) اللہ تعالیٰ سے جھگڑا کرتے ہوئے کہیں گے : اے ہمارے رب ! ہمارے بھائی ہمارے ساتھ نماز ، روزہ اور حج کیا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ چلو جسے بھی تم پہنچانتے ہو اسے نکالو! تو ان لوگوں پر دوزخ کی آگ حرام کر دی جائے گی، تو وہ چلیں گے اور انہیں دوزخ سے نکالیں گے حالانکہ جہنم کی آگ نے کچھ لوگوں کو گھٹنوں تک پکڑا ہوگا اور بعض لوگوں کو نصف پنڈلیوں کو ۔ تو اہل جنت بہت زیادہ افراد کو دوزخ سے آزاد کرائیں گے، پھر وہ واپس پلٹ کر عرض کریں گے : اے ہمارے رب! ان لوگوں میں سے کوئی بھی باقی نہیں بچا جن کے نکالنے کا تو نے حکم دیا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ حکم دے گا : پھر جاؤ جس کے دل میں ایک دینار کے برابر بھی نیکی موجود ہے تم اسے دوزخ سے نکال لاؤ۔ وہ جائیں گے اور بہت سے افراد دوزخ سے نکال لائیں گے۔ پھر جنتی واپس آکر عرض کریں گے : اے اللہ ! ہم نے ان تمام لوگوں کو دوزخ سے نکال دیا ہے جن کے نکالنے کا تو نے حکم دیا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا: جاؤ ! جس کے دل میں آدھا دینار بھی بھلائی موجود ہے اسے دوزخ سے آزاد کراؤ! وہ جائیں گے اور بہت سے دوزخیوں کو دوزخ سے نکال لائیں گے ۔ پھر واپس آکر عرض کریں گے : اے اللہ ! جن کے نکالنے کا تو نے حکم دیا تھا ہم نے انہیں نکال لیا ہے، اب کوئی بھی باقی نہیں بچا ۔ پھر حکم الٰہی ہو گا : جاؤ! جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر بھی نیکی ہو اسے بھی دوزخ سے نکالو۔ پھر وہ لوگ جائیں گے اور بہت زیادہ اہل جہنم کو جہنم سے نکال لائیں گے اور کہیں گے : اے ہمارے رب ! جن لوگوں کو نکالنے کا حکم دیا تھا ہم نے ان میں سے کسی کو نہیں چھوڑا ۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے : اگر تم اس حدیث کی تصدیق نہیں کرتے تو قرآن کی یہ آیت پڑھو: " اللہ تعالیٰ ایک ذرے کے برابر بھی کسی پر زیادتی نہیں فرمائے گا: ملائکہ نے شفاعت کر دی، انبیاء علہیم السلام نے شفاعت کردی اور اہل ایمان نے شفاعت کردی ، اب صرف ارحم الراحمین کی ذات باقی ہے ۔ آپ فرماتے ہیں کہ پھر اللہ تعالیٰ ایک مٹھی بھر کر دوزخ میں سے لوگوں کو نکالے گا جنہوں نے بالکل کوئی بھی نیکی نہیں کی ہوگی اور وہ لوگ جل کر کوئلہ بن چکے ہوں گے، اللہ تعالیٰ انہیں جنت کے دروازے پر آب حیات کی نہروں میں ڈال دے گا، وہ اپنے مردے پن سے ایسے نکلیں گے جیسے سیلاب کی مٹی میں سے دانہ اگ پڑتا ہے، کیا تم نے نہیں دیکھا جو دانہ پتھر یا درخت کے پاس سوراخ پر ہوتا ہے وہ سبز رنگ یا زرد رنگ کا بن جاتا ہے اور جو دانہ سائے کی طرف ہوتا ہے ، اس کا پودا سفید رنگ کا ہوتا ہے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ تو زرعی معاملات کو اس طرح بیان فرما رہے ہیں جس طرح آپ جنگلوں میں جانور چراتے ہوں ، پھر آپ نے فرمایا : وہ لوگ اس نہر سے موتیوں کی طرح چمکتے ہوئے نکلیں گے کہ ان کی گردنوں میں سونے کے پٹے ہوں گے ، پھر اعلان ہوگا : یہ اللہ تعالیٰ کے آزاد کردہ وہ لوگ ہیں جنہیں بغیر کسی عمل اور بھلائی کے دوزخ سے نکالا گیا ہے، پھر ان سے کہا جائے گا : جنت میں داخل ہو جاؤ! جس چیز کو تم دیکھو گے وہ تمہاری ہوگی۔ پھر وہ عرض کریں گے : مولا ! تو نے ہمیں اتنا عطاء کیا ہے حالانکہ دونوں جہانوں میں سے کسی کو عطا نہیں کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میرے پاس تمہارے لیے اس سے بہتر چیز ہے ۔ تو وہ عرض کریں گے : اس سے بہتر اور کیا چیز ہے ؟ اللہ تعالی فرماتے گا : وہ میری رضا ہے ، اس کے بعد کبھی بھی تم سے ناراض نہیں ہوں گا۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← خَارِجَةَ بْنِ مُصْعَبٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2292

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ · حديث 2293

2293 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ الضُّبَعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ أُنَاسًا قَالُوا فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ تُضَارُّونَ - قَالَ أَبُو دَاوُدَ: يَعْنِي هَلْ تَشُكُّونَ - فِي الشَّمْسِ بِالظَّهِيرَةِ صَحْوًا لَيْسَ فِيهَا سَحَابٌ؟ " قَالُوا: لَا، قَالَ: «فَهَلْ تُضَارُّونَ فِي الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ صَحْوًا لَيْسَ فِيهَا سَحَابٌ؟» قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: " مَا [ص:630] تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا كَمَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ أَحَدِهِمَا، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ تَبِعَتْ كُلُّ أُمَّةٍ مَا كَانَتْ تَعْبُدُ، وَلَا يَبْقَى أَحَدٌ كَانَ يَعْبُدُ غَيْرَ اللَّهِ مِنَ الْأَنْصَابِ وَالْأَزْلَامِ إِلَّا تَسَاقَطُوا فِي النَّارِ، حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقَ إِلَّا مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ، مِنْ بَرٍّ أَوْ فَاجِرٍ وَغُبَّرِ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَيُقَالُ: مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ؟ فَيَقُولُونَ: كُنَّا نَعْبُدُ عُزَيْرًا ابْنَ اللَّهِ، فَيُقَالُ: كَذَبْتُمْ مَا اتَّخَذَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ صَاحِبَةٍ وَلَا وَلَدٍ، فَمَاذَا تَبْغُونَ؟ فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا عَطِشْنَا فَاسْقِنَا، فَيُشَارُ إِلَيْهِمْ: أَلَا تَرِدُونَ؟ فَتُرْفَعُ لَهُمْ جَهَنَّمُ كَأَنَّهَا سَرَابٌ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا، حَتَّى تَسَاقَطُوا فِي النَّارِ، ثُمَّ يُدْعَى النَّصَارَى، فَيُقَالُ لَهُمْ: مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ، فَيَقُولُونَ: كُنَّا نَعْبُدُ الْمَسِيحَ ابْنَ اللَّهِ، فَيُقَالُ: كَذَبْتُمْ مَا اتَّخَذَ اللَّهُ مِنْ صَاحِبَةٍ وَلَا وَلَدٍ، فَمَاذَا تَبْغُونَ؟ قَالُوا: رَبَّنَا، عَطِشْنَا فَاسْقِنَا، فَيُشَارُ إِلَيْهِمْ [ص:631]: أَلَا تَرِدُونَ؟ وَتُرْفَعُ لَهُمْ جَهَنَّمُ كَأَنَّهَا سَرَابٌ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا، حَتَّى يَتَسَاقَطُوا فِي النَّارِ حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقَ إِلَّا مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ، عَزَّ وَجَلَّ، مِنْ بَرٍّ أَوْ فَاجِرٍ، أَتَاهُمْ رَبُّ الْعَالَمِينَ، فَقَالَ: «مَاذَا تَنْتَظِرُونَ؟ تَبِعَتْ كُلُّ أُمَّةٍ مَا كَانَتْ تَعْبُدُ» فَيَقُولُونَ: فَارَقْنَا النَّاسَ فِي الدُّنْيَا، فَلَمْ نَصْحَبْهُمْ، فَنَحْنُ نَنْتَظِرُ رَبَّنَا الَّذِي كُنَّا نَعْبُدُ، فَيَقُولُ: «هَلْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ رَبِّكُمْ آيَةٌ تَعْرِفُونَهَا؟» فَيَقُولُونَ: نَعَمْ، فَيُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ فَلَا يَبْقَى أَحَدٌ كَانَ يَسْجُدُ لِلَّهِ طَائِعًا فِي الدُّنْيَا، إِلَّا أُذِنَ لَهُ فِي السُّجُودِ، وَلَا يَبْقَى أَحَدٌ كَانَ يَسْجُدُ رِيَاءً أَوْ نِفَاقًا إِلَّا صَارَ ظَهْرُهُ طَبَقَةً وَاحِدَةً، كُلَّمَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ خَرَّ لِقَفَاهُ " قَالَ: ثُمَّ يَرْفَعُونَ رُءُوسَهُمْ فَيَقُولُ: «أَنَا رَبُّكُمُ» فَيَقُولُونَ: أَنْتَ رَبُّنَا فَيُوضَعُ الْجِسْرُ وَتَحُلُّ الشَّفَاعَةُ، وَيَقُولُ: رَبِّ سَلِّمْ سَلِّمْ فَيَمُرُّ الْمُؤْمِنُونَ عَلَى الْجِسْرِ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْجِسْرُ؟ قَالَ: دَحْضٌ مَزَلَّةٌ، وَإِنَّ فِيهِ لَخَطَاطِيفَ وَكَلَالِيبَ وَشَوْكَةً مُفَلْطَحَةً، فِيهَا شَوْكَةٌ [ص:632] عُقَيْفَاءُ، يُقَالُ لَهَا: السَّعْدَانُ، يَمُرُّ الْمُؤْمِنُونَ كَطَرْفِ الْعَيْنِ، وَكَالْبَرْقِ، وَكَالرِّيحِ، وَكَأَجَاوِدِ الْخَيْلِ وَالرِّكَابِ، فَنَاجٍ مُسَلَّمٌ، وَمَخْدُوشٌ مُرْسَلٌ، وَمَكْدُوسٌ فِي النَّارِ، فَإِذَا خَلَصَ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ النَّارِ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا أَنْتُمْ بِأَشَدَّ مُنَاشَدَةً لِي فِي الْحَقِّ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي إِخْوَانِهِمُ الَّذِينَ فِي النَّارِ، فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا إِخْوَانَنَا الَّذِينَ كَانُوا يُصَلُّونُ مَعَنَا، وَيَصُومُونَ مَعَنَا , وَيَحُجُّونَ مَعَنَا، فَيَقُولُ: «انْطَلِقُوا فَمَنْ عَرَفْتُمْ وَجْهَهُ فَأَخْرِجُوهُ» وَتُحَرَّمُ صُوَرُهُمْ عَلَى النَّارِ، فَيَنْطَلِقُونَ فَيُخْرِجُونَهُمْ، قَدْ أَخَذَتِ الرَّجُلَ النَّارُ إِلَى كَعْبَيْهِ، وَإِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ، فَيُخْرِجُونَ خَلْقًا كَثِيرًا، ثُمَّ يَرْجِعُونَ فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا، مَا تَرَكْنَا فِي النَّارِ أَحَدًا مِمَّنْ أَمَرْتَنَا أَنْ نُخْرِجَهُ، فَيَقُولُ: «ارْجِعُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ دِينَارٍ مِنْ خَيْرٍ فَأَخْرِجُوهُ» قَالَ: فَيَذْهَبُونَ، فَيُخْرِجُونَ خَلْقًا كَثِيرًا، ثُمَّ يَرْجِعُونَ فَيَقُولُونَ: مَا تَرَكْنَا فِي النَّارِ أَحَدًا مِمَّنْ أَمَرْتَنَا أَنْ نُخْرِجَهُ، فَيَقُولُ: «ارْجِعُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ نِصْفَ مِثْقَالٍ مِنْ خَيْرٍ فَأَخْرِجُوهُ» فَيَرْجِعُونَ فَيُخْرِجُونَ خَلْقًا كَثِيرًا، ثُمَّ يَرْجِعُونَ فَيَقُولُونَ: مَا تَرَكْنَا فِي النَّارِ أَحَدًا مِمَّنْ أَمَرْتَنَا أَنْ نُخْرِجَهُ إِلَّا أَخْرَجْنَاهُ، فَيَقُولُ: «ارْجِعُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ [ص:633] فَأَخْرِجُوهُ» فَيَذْهَبُونَ فَيُخْرِجُونَ خَلْقًا كَثِيرًا، ثُمَّ يَرْجِعُونَ فَيَقُولُونَ: مَا تَرَكْنَا فِي النَّارِ أَحَدًا مِمَّنْ أَمَرْتَنَا أَنْ نُخْرِجَهُ إِلَّا أَخْرَجْنَاهُ وَكَانَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ يَقُولُ: فَإِنْ لَمْ تُصَدِّقُوا بِهَذَا الْحَدِيثِ فَاقْرَءُوا هَذِهِ الْآيَةَ: {إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ الْآيَةَ} فَيَقُولُ عَزَّ وَجَلَّ:: «شَفَعَتِ الْمَلَائِكَةُ، وَشَفَعَ النَّبِيُّونَ، وَشَفَعَ الْمُؤْمِنُونَ، فَلَمْ يَبْقَ إِلَّا أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ» قَالَ: فَيَقْبِضُ اللَّهُ، عَزَّ وَجَلَّ، قَبْضَةً مِنَ النَّارِ فَيَخْرُجُ مِنْهَا قَوْمًا لَمْ يَعْمَلُوا خَيْرًا قَطُّ، قَدْ صَارُوا حُمَمًا، فَيُلْقَوْنَ فِي نَهَرٍ مِنْ أَفْوَاهِ الْجَنَّةِ يُسَمَّى نَهَرَ الْحَيَاةِ، فَيَخْرُجُونَ مِنْ جِيَفِهِمْ كَمَا تَخْرُجُ الْحَبَّةُ مِنْ حَمِيلِ السَّيْلِ، أَلَمْ تَرَوْا إِلَيْهَا مَا يَكُونُ إِلَى الشَّجَرَةِ وَالْحَجَرِ يَكُونُ خَضْرَاءَ، أَوْ صَفْرَاءَ، أَوْ مَا يَكُونُ مِنْهَا فِي الظِّلِّ يَكُونُ أَبْيَضَ؟ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ [ص:634]، كَأَنَّكَ كُنْتَ تَرْعَى بِالْبَادِيَةِ فَيَخْرُجُونَ كَاللُّؤْلُؤِ فِي رِقَابِهِمُ الْخَاتَمُ، فَيُقَالُ: هَؤُلَاءِ عُتَقَاءُ اللَّهِ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنَ النَّارِ بِغَيْرِ عَمَلٍ عَمِلُوهُ وَلَا خَيْرٍ قَدَّمُوهُ، فَيُقَالُ: ادْخُلُوا الْجَنَّةَ فَمَا رَأَيْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ لَكُمْ، فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ، فَيَقُولُ: لَكُمْ عِنْدِي مَا هُوَ أَفْضَلُ مِنْ هَذَا؟ فَيَقُولُونَ: يَا رَبِّ، وَمَا هُوَ أَفْضَلُ مِنْ هَذَا؟ فَيَقُولُ: «رِضَائِي، فَلَا أَسْخَطُ عَلَيْكُمْ بَعْدَهُ أَبَدًا»

حضرت عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر جلوہ افروز تھے، اور ہم آپ کے ارد گرد بیٹھے تھے، آپ نے فرمایا : میں تم پر اپنے بعد دنیا کی سرسبزی اور خوبصورتی کے عام ہونے کا خوف رکھتا ہوں ، ایک آدمی نے عرض کی : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کیا بھلائی شر لاتی ہے؟ اس کو کہا گیا: تجھے کیا ہے کہ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گفتگو کررہا ہے اور آپ تیرے ساتھ گفتگو نہیں کر رہے ہیں اور ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ پر وحی کا نزول ہورہا ہے ، پس آپ کو افاقہ ہوا تو آپ نے اپنے ماتھے کے پسینہ کو صاف کیا، آپ نے فرمایا : سائل کہاں ہے؟ گویا آپ نے اس کی تعریف کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : خیر شر نہیں لاتی ہے ، بلاشبہ یہ موسم ربیع میں اگنے والی ، کھانے والی گھاس جیسی ہے جو جانور کے پیٹ کو پھلا کر خراب کر کے مار دیتی ہے مگر وہ جانور جو سبز گھاس چرتا ہے ، وہ اس کو کھاتا رہتا ہے حتیٰ کہ اس کی کوکھیں بھر جاتی ہیں پھر وہ سورج کی دھوپ کے سامنے ہوتا ہے تو پیشاب اور گوبر کرتا ہے اور ( دوبارہ ) اس کو چر لیتا ہے ، اور یہ دنیا کا مال سرسبز اور میٹھا ہے، مسلمان کا بہترین مال جو اس سے مسکین و یتیم اور مسافر لے یا اس کی مچل جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اور وہ شخص بغیر حق کے مال لیتا ہے، وہ اس شخص کی طرح ہے جو کھاتا ہے اور سیر نہیں ہوتا، اور وہ ( وہ مال اس کے خلاف ) قیامت کے دن گواہی دے گا۔

فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ أُنَاسًا ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ الضُّبَعِيُّ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2293

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ · حديث 2294

2294 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ [ص:635]، قَالَ: جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ، فَقَالَ: «إِنَّمَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ بَعْدِي مَا يُفْتَحُ عَلَيْكُمْ مِنْ زُهْرَةِ الدُّنْيَا وَزِينَتِهَا» فَقَالَ رَجُلٌ: أَوَ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ، فَسَكَتَ، فَقِيلَ لَهُ: مَا شَأْنُكَ تُكَلِّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يُكَلِّمُكَ، وَرُئِينَا أَنَّهُ يُنْزَلُ عَلَيْهِ، فَأَفَاقَ فَمَسَحَ عَنْهُ الرُّحَضَاءَ، فَقَالَ: «أَيْنَ السَّائِلُ؟» وَكَأَنَّهُ حَمِدَهُ، فَقَالَ: «إِنَّهُ لَا يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ، وَإِنَّ مِمَّا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ حَبَطًا أَوْ يُلِمُّ إِلَّا آكِلَةَ الْخُضَرِ، فَإِنَّهَا أَكَلَتْ حَتَّى إِذَا امْتَلَأَتْ خَاصِرَتَاهَا، ثُمَّ اسْتَقْبَلَتْ عَيْنَ الشَّمْسِ، فَبَالَتْ، وَثَلَطَتْ، وَرَتَعَتْ، وَإِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرٌ حُلْوٌ، وَنِعْمَ مَالُ الْمُسْلِمِ هُوَ لِمَنْ أَعْطَى مِنْهُ الْمِسْكِينَ وَالْيَتِيمَ وَابْنَ السَّبِيلِ» أَوْ كَالَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّهُ مَنْ يَأْخُذُهُ بِغَيْرِ حَقِّهِ كَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ، وَيَكُونُ عَلَيْهِ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ "

حضرت سہیل بن ابو صالح اپنے والد سے وہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا: تم سونے کو سونے کے بدلے نہ بیچو مگر برابر برابر چاندی کو چاندی کے بدلے نہ فروخت کرو مگر برابر برابر۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2294

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter
1. Book
    70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter
1. Book
    364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter
307. Chapter
308. Chapter
309. Chapter
310. Chapter
311. Chapter
312. Chapter
313. Chapter
314. Chapter
315. Chapter
316. Chapter
317. Chapter
318. Chapter
319. Chapter
320. Chapter
321. Chapter
322. Chapter
323. Chapter
324. Chapter
325. Chapter
326. Chapter
327. Chapter
328. Chapter
329. Chapter
330. Chapter
331. Chapter
332. Chapter
333. Chapter
334. Chapter
335. Chapter
336. Chapter
337. Chapter
338. Chapter
339. Chapter
340. Chapter
341. Chapter
342. Chapter
343. Chapter
344. Chapter
345. Chapter
346. Chapter
347. Chapter
348. Chapter
349. Chapter
350. Chapter
351. Chapter
352. Chapter
353. Chapter
354. Chapter
355. Chapter
356. Chapter
357. Chapter
358. Chapter
359. Chapter
360. Chapter
361. Chapter
362. Chapter
363. Chapter
403. Chapter
404. Chapter
405. Chapter
406. Chapter
407. Chapter
408. Chapter
409. Chapter
410. Chapter
411. Chapter
412. Chapter
413. Chapter
414. Chapter
415. Chapter
416. Chapter
417. Chapter
418. Chapter
419. Chapter
420. Chapter
421. Chapter
422. Chapter
423. Chapter
424. Chapter
425. Chapter
426. Chapter
427. Chapter
428. Chapter
429. Chapter
430. Chapter
431. Chapter
432. Chapter
433. Chapter
434. Chapter
435. Chapter
436. Chapter
437. Chapter
438. Chapter
439. Chapter
440. Chapter
441. Chapter
442. Chapter
443. Chapter
444. Chapter
445. Chapter
446. Chapter
447. Chapter
448. Chapter
449. Chapter
450. Chapter
451. Chapter
452. Chapter
453. Chapter
454. Chapter
455. Chapter
456. Chapter
457. Chapter
458. Chapter
459. Chapter
460. Chapter
461. Chapter
462. Chapter
463. Chapter
464. Chapter
465. Chapter
466. Chapter
467. Chapter
468. Chapter
469. Chapter
470. Chapter
471. Chapter
472. Chapter
473. Chapter
474. Chapter
475. Chapter
476. Chapter
477. Chapter
478. Chapter
479. Chapter
480. Chapter
481. Chapter
482. Chapter
483. Chapter
484. Chapter
485. Chapter
486. Chapter
487. Chapter
488. Chapter
489. Chapter
490. Chapter
491. Chapter
492. Chapter
493. Chapter
494. Chapter
495. Chapter
496. Chapter
497. Chapter
498. Chapter
499. Chapter
500. Chapter
501. Chapter
502. Chapter
503. Chapter
504. Chapter
505. Chapter
506. Chapter
507. Chapter
508. Chapter
509. Chapter
510. Chapter
511. Chapter
512. Chapter
513. Chapter
514. Chapter
515. Chapter
516. Chapter
517. Chapter
518. Chapter
519. Chapter
520. Chapter
521. Chapter
522. Chapter
523. Chapter
524. Chapter
525. Chapter
526. Chapter
527. Chapter
528. Chapter
529. Chapter
530. Chapter
531. Chapter
532. Chapter
533. Chapter
534. Chapter
535. Chapter
536. Chapter
537. Chapter
538. Chapter
539. Chapter
540. Chapter
541. Chapter
542. Chapter
543. Chapter
544. Chapter
545. Chapter
546. Chapter
547. Chapter
548. Chapter
549. Chapter
550. Chapter
551. Chapter
552. Chapter
553. Chapter
554. Chapter
555. Chapter
556. Chapter
557. Chapter
558. Chapter
559. Chapter
560. Chapter
561. Chapter
562. Chapter
563. Chapter
564. Chapter
565. Chapter
566. Chapter
567. Chapter
568. Chapter
569. Chapter
570. Chapter
571. Chapter
572. Chapter
573. Chapter
574. Chapter
575. Chapter
576. Chapter
577. Chapter
578. Chapter
579. Chapter
580. Chapter
581. Chapter
582. Chapter
583. Chapter
584. Chapter
585. Chapter
586. Chapter
587. Chapter
588. Chapter
589. Chapter
590. Chapter
591. Chapter
592. Chapter
593. Chapter
594. Chapter
595. Chapter
596. Chapter
597. Chapter
598. Chapter
599. Chapter
600. Chapter
601. Chapter
602. Chapter
603. Chapter
604. Chapter
605. Chapter
606. Chapter
607. Chapter
608. Chapter
609. Chapter
610. Chapter