مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَبُو الْوَدَّاكِ عَنْ أَبِي سَعِيدً · حديث 2289
2289 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْوَدَّاكِ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: لَمَّا أَصَبْنَا سَبْيَ خَيْبَرَ، سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَزْلِ، فَقَالَ: «لَيْسَ مِنْ كُلِّ الْمَاءِ يَكُونُ الْوَلَدُ، وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَخْلُقَ شَيْئًا لَمْ يَمْنَعْهُ شَيْءٌ»
حضرت ابو وداک فرماتے ہیں کہ میں دباء میں نہیں پیتا ، حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے سننے کے بعد آپ نے فرمایا کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک نوجوان نشہ کی حالت میں لایا گیا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے شراب نہیں پی، میں نے دباء سے پی ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم پر اس کو ہاتھوں اور جوتوں سے مارا گیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دباء میں نبیذ بنانے سے منع کیا۔
الْعَزْل ← لَمَّا أَصَبْنَا سَبْيَ خَيْبَرَ، سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبَا الْوَدَّاكِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2289
