مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَعِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1175
1175 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِيِّ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ فِي خُطْبَتِهِ: أَلَا إِنَّ رَبِّي أَوْ إِنَّ رَبِي أَمَرَنِي أَنْ أُعَلِّمَكُمْ مَا جَهِلْتُمْ مِمَّا عَلَّمَنِي يَوْمِي هَذَا، «كُلُّ مَالٍ نَحَلْتُ عَبْدِي حَلَالٌ وَإِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ كُلَّهُمْ وَإِنَّهُمْ أَتَتْهُمُ الشَّيَاطِينُ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِينِهِمْ وَحَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ مَا أَحْلَلْتُ لَهُمْ فَأَمَرَتْهُمْ أَنْ يُشْرِكُوا بِي مَا لَمْ أُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا» وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ نَظَرَ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ فَمَقَتَهُمْ عَرَبَهُمْ وَعَجَمَهُمْ إِلَّا بَقَايَا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَقَالَ: «يَا مُحَمَّدُ إِنَّمَا بَعَثْتُكَ لِأَبْتَلِيَكَ وَأَبْتَلِيَ بِكَ وَأَنْزَلْتُ عَلَيْكَ كِتَابًا لَا [ص:405] يَغْسِلُهُ الْمَاءُ تَقْرَؤُهُ نَائِمًا وَيَقْظَانَ» وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنِي أَنْ أُحَرِّقَ قُرَيْشًا فَقُلْتُ: رَبِّ إِذًا يَثْلَغُوا رَأْسِي فَيَدَعُوهُ خُبْزَةً فَقَالَ: «اسْتَخْرِجْهُمْ كَمَا أَخْرَجُوكَ، وَاغْزُهُمْ يُغْزَ بِكَ وَأَنْفِقْ فَسَيُنْفَقُ عَلَيْكَ وَابْعَثْ جَيْشًا نَبْعَثْ خَمْسَةَ أَمْثَالِهِ، وَقَاتِلْ بِمَنْ أَطَاعَكَ مَنْ عَصَاكَ» وَقَالَ: «أَهْلُ الْجَنَّةِ ثَلَاثَةٌ ذُو سُلْطَانٍ مُقْتَصِدٌ مُتَصَدِّقٌ مُوَفَّقٌ، وَرَجُلٌ رَحِيمٌ رَقِيقُ الْقَلْبِ لِكُلِّ قُرْبَى مُسْلِمٍ، وَفَقِيرٌ عَفِيفٌ مُتَصَدِّقٌ وَأَهْلُ النَّارِ خَمْسَةٌ، الضَّعِيفُ الَّذِي لَا زَبْرَ لَهُ الَّذِينَ هُمْ فِيكُمْ تَبَعًا لَا يَبْتَغُونَ أَهْلًا وَلَا مَالًا، وَالْخَائِنُ الَّذِي لَا يَخْفَى لَهُ طَمَعٌ [ص:406] وَإِنْ دَقَّ إِلَّا خَانَهُ وَرَجُلٌ لَا يُصْبِحُ وَلَا يُمْسِي إِلَّا وَهُوَ يُخَادِعُكَ عَنْ أَهْلِكِ وَمَالِكَ» وَذَكَرَ «الْبُخْلَ أَوِ الْكَذِبَ وَالشِّنْظِيرُ الْفَحَّاشُ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: فَحَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ قَتَادَةَ فَذَكَرْنَا هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ يُونُسُ الْهَدَادِيُّ وَمَا كَانَ فِينَا أَحَدٌ أَحْفَظَ مِنْهُ: إِنَّ قَتَادَةَ لَمْ يَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ مُطَرِّفٍ قَالَ: فَعِبْنَا عَلَيْهِ ذَلِكَ قَالَ: فَاسْأَلُوهُ فَهِبْنَاهُ قَالَ وَجَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ فَقُلْنَا لِلْأَعْرَابِيِّ: سَلْ قَتَادَةَ عَنْ خُطْبَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَدِيثِ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ أَسَمِعْتَهُ مِنْ مُطَرِّفٍ؟ فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: يَا أَبَا الْخَطَّابِ أَخْبِرْنِي عَنُ خُطْبَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي حَدِيثَ عِيَاضٍ أَسَمِعْتَهُ مِنْ مُطَرِّفٍ؟ فَغَضِبَ وَقَالَ: حَدَّثَنِيهِ ثَلَاثَةٌ عَنْهُ حَدَّثَنِيهِ يَزِيدُ أَخُوهُ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، وَحَدَّثَنِيهِ الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ الْعَدَوِيُّ عَنْهُ وَذَكَرَ ثَالِثًا لَمْ يَحْفَظْهُ هَمَّامٌ
حضرت عیاض بن حمار المجاشع سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن اپنے خطبہ میں فرمایا : خبر دار بے شک میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تم کو سکھاؤں جس نے تم جاہل ہو، جو مجھے میرے رب نے آج سکھایا ہے، وہ یہ ہے: ہر وہ مال جو میں نے اپنے بندوں کو ہیبہ کر دیا ہے وہ حلال ہے اور میں نے اپنے تمام بندوں کو ہر باطل سے الگ بنایا ہے، ان کے پاس شیاطین آتے ہیں ، ان کو ان کے دین سے بہکاتے ہیں، اور میں نے ان پر حرام کر دیا جو میں نے ان کے لیے حلال کیا تھا، وہ ان کو حکم دیتا ہے میرے ساتھ شریک ٹھہرانے کا ، جس پر میں نے ان کپ رکوئی واضح دلیل نہیں اتاری ، بے شک اللہ عزوجل نے زمین والوں کی طرف دیکھا، وہ ان سب عرب و عجم والوں سے ناراض ہے۔سوائے چند اہل کتاب کے۔ اللہ نے فرمایا: اے محمد! میں آپ کو مبعوث کرتا ہوں، اس میں آپ کو آزماؤں گا اور تیرے ذریعے ان کو آزماؤں گا اور میں تجھ پر ایسی کتاب نازل فرمائی ہے جس کو پانی سے دھویا نہیں جا سکتا ہے، اس کو سوتے جاگتے پڑھئے ۔ بے شک اللہ عزوجل نے مجھے حکم دیا قریش کو جلانے کا ، تو میں نے عرض کی: اے میرے رب ! اس وقت وہ میرے سر کو کھائی ہوئی روٹی بنا دیں گے۔ اللہ نےفرمایا: ان کو نکالو جیسے تم کو انہوں نے نکالا ہے اور ان سے لڑائی کرو تمہاری مدد کی جائے گی اور ان مجاہدین پر خرچ کرو آپ پر خرچ کیا جائے گا، اور ایک لشکر بھیجیں ہم پانچ گنا فرشتے اس کی مثل بھیجیں گے اور آپ کے ماننے والے ہیں انکے ساتھ مل کر ان کو ماریں گے جو آپ کے نافرمان ہیں۔ اور فرمایا: جنت والے پانچ طرح کے لوگ ہوں گے: انصاف کرنے والا بادشاہ میانہ روی کے ساتھ صدقہ کرنے والے ، اور وہ آدمی جو رحم کرنے والا ہو ، نرم دل ہر قریبی مسلمان کے لیے ، اور فقیر مانگنےسے بچنے والا صدقہ کرنے والا۔ اور جہنم والے پانچ طرح کے لوگ ہوں گے:کمزور جن کےپاس پیسے نہ ہوں اور وہ تمہارے تابع ہوں ، وہ اپنے اہل و عیال کے لیے محنت مزدوری نہ کرتے ہوں ، اور خائن جس کی طمع مخفی نہ ہو، اگرچہ ذرہ بھر بھی ہو تو خیانت کرے، اور ایک وہ آدمی جو صبح و شام تجھے دھوکا دیتا ہے، تم کو تمہارے مال و اہل خانہ کے بارے میں ، اور بخیل کا یا جھوٹے کا ذکر کیا، اور گندی باتیں کرنے والا۔ امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ ہم کو ھمام نے بیان کیا کہ ہم حضرت قتادہ کے پاس تھے تو ہم نے اس حدیث کا ذکر کیا تو حضرت یونس ہدادی نے فرمایا کہ ہم میں سے کوئی بھی اس کا حافظ نہیں تھا، بے شک قتادہ نے یہ حدیث مطرف سے نہیں سنی ، فرمایا کہ ہم نے اس پر عیب لگایا، کہا کہ ان سے پوچھو ہم اس کو ہبہ کردیں گے، کہا کہ ان کےپاس ایک دیہاتی آیا ، اس کے بعد ہم نے دیہاتی سے کہا : قتادہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطبہ کے متعلق پوچھو، اس حدیث کے متعلق جو علی بن حماد کے حوالے سے روایت کی گئی کہ کیا آپ نے یہ مطرف سے سنی ہے؟ اس دیہاتی نے کہا : اے ابو خطاب ! مجھے بنی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطبہ کے متعلق بتائیں ، یعنی عیاض والی حدیث کے متعلق ، کیا آپ نے مطرف سے سنی ہے؟تو وہ ناراض ہوئے اور فرمایا: مجھ سے تین آدمیوں نےبیان کی، مجھ سے یزد بن عبداللہ بن شخیر کے بھائی نے بیان کی اور علاء بن زیاد العدوی نے بیان کی اور تیسرے آدمی کا بھی ذکر کیا تھا لیکن ھمام کو یاد نہیں ہے۔
عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِيِّ ← مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1175
