Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي داود الطيالسي

Musnad Abu Dawood Tayalisi

by Abu Dawood Tiyalisi

2,890 Hadith613 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَعِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1175

1175 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِيِّ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ فِي خُطْبَتِهِ: أَلَا إِنَّ رَبِّي أَوْ إِنَّ رَبِي أَمَرَنِي أَنْ أُعَلِّمَكُمْ مَا جَهِلْتُمْ مِمَّا عَلَّمَنِي يَوْمِي هَذَا، «كُلُّ مَالٍ نَحَلْتُ عَبْدِي حَلَالٌ وَإِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ كُلَّهُمْ وَإِنَّهُمْ أَتَتْهُمُ الشَّيَاطِينُ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِينِهِمْ وَحَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ مَا أَحْلَلْتُ لَهُمْ فَأَمَرَتْهُمْ أَنْ يُشْرِكُوا بِي مَا لَمْ أُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا» وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ نَظَرَ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ فَمَقَتَهُمْ عَرَبَهُمْ وَعَجَمَهُمْ إِلَّا بَقَايَا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَقَالَ: «يَا مُحَمَّدُ إِنَّمَا بَعَثْتُكَ لِأَبْتَلِيَكَ وَأَبْتَلِيَ بِكَ وَأَنْزَلْتُ عَلَيْكَ كِتَابًا لَا [ص:405] يَغْسِلُهُ الْمَاءُ تَقْرَؤُهُ نَائِمًا وَيَقْظَانَ» وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنِي أَنْ أُحَرِّقَ قُرَيْشًا فَقُلْتُ: رَبِّ إِذًا يَثْلَغُوا رَأْسِي فَيَدَعُوهُ خُبْزَةً فَقَالَ: «اسْتَخْرِجْهُمْ كَمَا أَخْرَجُوكَ، وَاغْزُهُمْ يُغْزَ بِكَ وَأَنْفِقْ فَسَيُنْفَقُ عَلَيْكَ وَابْعَثْ جَيْشًا نَبْعَثْ خَمْسَةَ أَمْثَالِهِ، وَقَاتِلْ بِمَنْ أَطَاعَكَ مَنْ عَصَاكَ» وَقَالَ: «أَهْلُ الْجَنَّةِ ثَلَاثَةٌ ذُو سُلْطَانٍ مُقْتَصِدٌ مُتَصَدِّقٌ مُوَفَّقٌ، وَرَجُلٌ رَحِيمٌ رَقِيقُ الْقَلْبِ لِكُلِّ قُرْبَى مُسْلِمٍ، وَفَقِيرٌ عَفِيفٌ مُتَصَدِّقٌ وَأَهْلُ النَّارِ خَمْسَةٌ، الضَّعِيفُ الَّذِي لَا زَبْرَ لَهُ الَّذِينَ هُمْ فِيكُمْ تَبَعًا لَا يَبْتَغُونَ أَهْلًا وَلَا مَالًا، وَالْخَائِنُ الَّذِي لَا يَخْفَى لَهُ طَمَعٌ [ص:406] وَإِنْ دَقَّ إِلَّا خَانَهُ وَرَجُلٌ لَا يُصْبِحُ وَلَا يُمْسِي إِلَّا وَهُوَ يُخَادِعُكَ عَنْ أَهْلِكِ وَمَالِكَ» وَذَكَرَ «الْبُخْلَ أَوِ الْكَذِبَ وَالشِّنْظِيرُ الْفَحَّاشُ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: فَحَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ قَتَادَةَ فَذَكَرْنَا هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ يُونُسُ الْهَدَادِيُّ وَمَا كَانَ فِينَا أَحَدٌ أَحْفَظَ مِنْهُ: إِنَّ قَتَادَةَ لَمْ يَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ مُطَرِّفٍ قَالَ: فَعِبْنَا عَلَيْهِ ذَلِكَ قَالَ: فَاسْأَلُوهُ فَهِبْنَاهُ قَالَ وَجَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ فَقُلْنَا لِلْأَعْرَابِيِّ: سَلْ قَتَادَةَ عَنْ خُطْبَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَدِيثِ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ أَسَمِعْتَهُ مِنْ مُطَرِّفٍ؟ فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: يَا أَبَا الْخَطَّابِ أَخْبِرْنِي عَنُ خُطْبَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي حَدِيثَ عِيَاضٍ أَسَمِعْتَهُ مِنْ مُطَرِّفٍ؟ فَغَضِبَ وَقَالَ: حَدَّثَنِيهِ ثَلَاثَةٌ عَنْهُ حَدَّثَنِيهِ يَزِيدُ أَخُوهُ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، وَحَدَّثَنِيهِ الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ الْعَدَوِيُّ عَنْهُ وَذَكَرَ ثَالِثًا لَمْ يَحْفَظْهُ هَمَّامٌ

حضرت عیاض بن حمار المجاشع سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن اپنے خطبہ میں فرمایا : خبر دار بے شک میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تم کو سکھاؤں جس نے تم جاہل ہو، جو مجھے میرے رب نے آج سکھایا ہے، وہ یہ ہے: ہر وہ مال جو میں نے اپنے بندوں کو ہیبہ کر دیا ہے وہ حلال ہے اور میں نے اپنے تمام بندوں کو ہر باطل سے الگ بنایا ہے، ان کے پاس شیاطین آتے ہیں ، ان کو ان کے دین سے بہکاتے ہیں، اور میں نے ان پر حرام کر دیا جو میں نے ان کے لیے حلال کیا تھا، وہ ان کو حکم دیتا ہے میرے ساتھ شریک ٹھہرانے کا ، جس پر میں نے ان کپ رکوئی واضح دلیل نہیں اتاری ، بے شک اللہ عزوجل نے زمین والوں کی طرف دیکھا، وہ ان سب عرب و عجم والوں سے ناراض ہے۔سوائے چند اہل کتاب کے۔ اللہ نے فرمایا: اے محمد! میں آپ کو مبعوث کرتا ہوں، اس میں آپ کو آزماؤں گا اور تیرے ذریعے ان کو آزماؤں گا اور میں تجھ پر ایسی کتاب نازل فرمائی ہے جس کو پانی سے دھویا نہیں جا سکتا ہے، اس کو سوتے جاگتے پڑھئے ۔ بے شک اللہ عزوجل نے مجھے حکم دیا قریش کو جلانے کا ، تو میں نے عرض کی: اے میرے رب ! اس وقت وہ میرے سر کو کھائی ہوئی روٹی بنا دیں گے۔ اللہ نےفرمایا: ان کو نکالو جیسے تم کو انہوں نے نکالا ہے اور ان سے لڑائی کرو تمہاری مدد کی جائے گی اور ان مجاہدین پر خرچ کرو آپ پر خرچ کیا جائے گا، اور ایک لشکر بھیجیں ہم پانچ گنا فرشتے اس کی مثل بھیجیں گے اور آپ کے ماننے والے ہیں انکے ساتھ مل کر ان کو ماریں گے جو آپ کے نافرمان ہیں۔ اور فرمایا: جنت والے پانچ طرح کے لوگ ہوں گے: انصاف کرنے والا بادشاہ میانہ روی کے ساتھ صدقہ کرنے والے ، اور وہ آدمی جو رحم کرنے والا ہو ، نرم دل ہر قریبی مسلمان کے لیے ، اور فقیر مانگنےسے بچنے والا صدقہ کرنے والا۔ اور جہنم والے پانچ طرح کے لوگ ہوں گے:کمزور جن کےپاس پیسے نہ ہوں اور وہ تمہارے تابع ہوں ، وہ اپنے اہل و عیال کے لیے محنت مزدوری نہ کرتے ہوں ، اور خائن جس کی طمع مخفی نہ ہو، اگرچہ ذرہ بھر بھی ہو تو خیانت کرے، اور ایک وہ آدمی جو صبح و شام تجھے دھوکا دیتا ہے، تم کو تمہارے مال و اہل خانہ کے بارے میں ، اور بخیل کا یا جھوٹے کا ذکر کیا، اور گندی باتیں کرنے والا۔ امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ ہم کو ھمام نے بیان کیا کہ ہم حضرت قتادہ کے پاس تھے تو ہم نے اس حدیث کا ذکر کیا تو حضرت یونس ہدادی نے فرمایا کہ ہم میں سے کوئی بھی اس کا حافظ نہیں تھا، بے شک قتادہ نے یہ حدیث مطرف سے نہیں سنی ، فرمایا کہ ہم نے اس پر عیب لگایا، کہا کہ ان سے پوچھو ہم اس کو ہبہ کردیں گے، کہا کہ ان کےپاس ایک دیہاتی آیا ، اس کے بعد ہم نے دیہاتی سے کہا : قتادہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطبہ کے متعلق پوچھو، اس حدیث کے متعلق جو علی بن حماد کے حوالے سے روایت کی گئی کہ کیا آپ نے یہ مطرف سے سنی ہے؟ اس دیہاتی نے کہا : اے ابو خطاب ! مجھے بنی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطبہ کے متعلق بتائیں ، یعنی عیاض والی حدیث کے متعلق ، کیا آپ نے مطرف سے سنی ہے؟تو وہ ناراض ہوئے اور فرمایا: مجھ سے تین آدمیوں نےبیان کی، مجھ سے یزد بن عبداللہ بن شخیر کے بھائی نے بیان کی اور علاء بن زیاد العدوی نے بیان کی اور تیسرے آدمی کا بھی ذکر کیا تھا لیکن ھمام کو یاد نہیں ہے۔

عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِيِّ ← مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1175

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَعِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1176

1176 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، وَهَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ هَمَّامٌ: عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، وَقَالَ، عِمْرَانُ: عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الرَّجُلُ مِنْ قَوْمِي يَشْتُمُنِي وَهُوَ دُونِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُسْتَبَّانِ شَيْطَانَانِ يَتَهَاتَرَانِ وَيَتَكَاذَبَانِ، فَمَا قَالَا فَهُوَ عَلَى الْبَادِئِ حَتَّى يَعْتَدِيَ الْمَظْلُومُ»

حضرت عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میری قوم کا ایک آدمی مجھے گالیاں دیتا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو شخص جو گالیاں دیتے ہیں وہ شیطان ہیں جو بکواس کرتے اور جھوٹ بولتے ہیں ، گناہ کی ابتداء جھوٹ بولنے والے پر ہوتی ہے یہاں تک کہ مظلوم بھی زیادتی کرے۔

قُلْتُ ← عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، ← مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ← يزيد بن عبد الله بن الشخير وقال عمران ← هَمَّامٌ، ← قَتَادَةَ ← عمران القطان وهمام ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1176

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَعِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1177

1177 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ خَالِدًا الْحَذَّاءَ، يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، قَالَ ابْنُ الشِّخِّيرِ: عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «مَنِ الْتَقَطَ لُقَطَةً فَلْيُشْهِدْ ذَوِي عَدْلٍ» أَوْ «ذَا عَدْلٍ وَلَا يَكْتُمْ وَلَا يُغَيِّبْ فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا وَإِلَّا فَهُوَ مَالُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ» قَالَ أَبُو بِشْرٍ: وَرَأَيْتُ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ عِيَاضٍ وَلَيْسَ فِيهِ مُطَرِّفٌ

حضرت عیاض بن حماد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی گری ہوئی چیز پائے تو اسے چاہیے کہ اس پر دو عادل آدمیوں کو گواہ بنالے، اور نہ چھپائے نہ غائب کرے ، پس جب اس کا مالک آجائے تو وہ زیادہ حقدار ہے اس گمشدہ چیز ( کو وصول کرنے ) کا، ورنہ اللہ کا مال ہے جسے چاہے عطا کرتا ہے۔ ابو بشر فرماتے ہیں : اور میں نے دوسری جگہ میں دیکھا ، وہ سند اس طرح ہے: حضرت ابو داؤد نے حضرت شعبہ سے ، انہوں نے خالد سے، انہوں نے یزید سے ، انہون نے عیاض سے روایت کی اور اس سند میں مطرف نہیں ہیں ۔

يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، ← خَالِدًا الْحَذَّاءُ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1177

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَعِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1178

1178 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، قَالَ: أَهْدَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدِيَّةً أَوْ قَالَ: نَاقَةً فَقَالَ لِي: «أَسْلَمْتَ؟» فَقُلْتُ: لَا فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهَا، وَقَالَ: «إِنَّا لَا نَقْبَلُ زَبْدَ الْمُشْرِكِينَ» قُلْتُ لِلْحَسَنِ مَا زَبْدُ الْمُشْرِكِينَ؟ قَالَ: رِفْدُهُمْ

حضرت عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو میں نے ہدیہ پیش کیا ، یا فرمایا: ایک اونٹنی دی ، تو مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو مسلمان ہے؟ میں نے عرض کی : نہیں ! تو آپ نے اس اونٹنی کو قبول کرنے سے انکار کردیا ، اور فرمایا: ہم مشرکین کے زبد قبول نہیں کرتے ۔ راوی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن سے پوچھا کہ زبدالمشرکین سے کیامراد ہے ؟ فرمایا کہ ان کے کجاوے۔

رفدهم ← لَا نَقْبَلُ زَبْدَ الْمُشْرِكِينَ» قُلْتُ لِلْحَسَنِ مَا زَبْدُ الْمُشْرِكِينَ؟ ← نَاقَةً فَقَالَ لِي: «أَسْلَمْتَ؟» فَقُلْتُ: لَا فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهَا، وَقَالَ: ← أَهْدَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ هَدِيَّةً أَوْ ← عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، ← الْحَسَنِ، ← أَبُو التَّيَّاحِ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1178

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَعِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1179

1179 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، قَالَ: أَهْدَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَةً أَوْ قَالَ: هَدِيَّةً فَقَالَ: «أَسْلَمْتَ؟» قُلْتُ: لَا قَالَ: «إِنِّي نُهِيتُ عَنْ زَبْدِ الْمُشْرِكِينَ»

حضرت عیاض بن حماد رضی اللہ عنہ فرماتےہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک اونٹنی ہدیہ دی ، یا فرمایا: ہدیہ دیا ، تو مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو مسلمان ہے؟ میں نےعرض کی نہیں ! آپ نےفرمایا: ہم کو مشرکین کے ہدیے قبول کرنے سے میںع کیا گیاہے۔

زَبْدِ الْمُشْرِکِينَ ← «إِنِّي نُهِيتُ ← هَدِيَّةً فَقَالَ: «أَسْلَمْتَ؟» قُلْتُ: لَا ← أَهْدَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ نَاقَةً أَوْ ← عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← قَتَادَةَ ← عِمْرَانُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1179

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
1. Book
    70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter
1. Book
    364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter541. Chapter542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter