مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَأَبُو الْمُدِلَّةِ مَوْلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ · حديث 2706
2706 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ سَعْدٍ الطَّائِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْمُدِلَّةِ مَوْلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّهُ [ص:309] سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا إِذَا كُنَّا عِنْدَكَ رَقَّتْ قُلُوبُنَا، وَكُنَّا مِنْ أَهْلِ الْآخِرَةِ، فَإِذَا فَارَقْنَاكَ وَشَمَمْنَا النِّسَاءَ وَالْأَوْلَادَ أَعْجَبَتْنَا الدُّنْيَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كُنْتُمْ تَكُونُونَ، أَوْ لَوْ أَنَّكُمْ تَكُونُونَ إِذَا فَارَقْتُمُونِي كَمَا تَكُونُونَ عِنْدِي لَصَافَحَتْكُمُ الْمَلَائِكَةُ بِأَكُفِّهَا، وَلَزَارَتْكُمْ فِي بُيُوتِكُمْ، وَلَوْ كُنْتُمْ لَا تُذْنِبُونَ لَجَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ كَيْ يَسْتَغْفِرُوا فَيَغْفِرَ لَهُمْ» قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنَا عَنِ الْجَنَّةِ، مَا بِنَاؤُهَا؟، قَالَ: «لَبِنَةٌ مِنْ ذَهَبٍ، وَلَبِنَةٌ مِنْ فِضَّةٍ، وَمِلَاطُهَا الْمِسْكُ الْأَذْفَرُ، وَحَصْبَاؤُهَا اللُّؤْلُؤُ وَالْيَاقُوتُ، وَتُرَابُهَا الزَّعْفَرَانُ مَنْ يَدْخُلُهَا يَنْعَمُ لَا يَبْؤُسُ، وَيَخْلُدُ لَا يَمُوتُ، لَا تَبْلَى ثِيَابُهُ، وَلَا يَفْنَى شَبَابُهُ»
حضرت ابوالمدلہ مولیٰ حضرت ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ ہم نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! جب ہم آپ کے پاس ہوتے ہیں تو ہمارے دل نرم ہوتے ہیں ، اور ہم اہل آخرت سے ہوتے ہیں ، پس جب ہم آپ سے جدا ہوتے ہیں تو ہم اپنی اولاد اور بیویوں کے ساتھ مشغول ہوجاتے ہیں ، اور ہم کو دنیا پسند ہوتی ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اس حالت پر رہو جس حالت میں میرے پاس ہوتے ہو تو جب تم مجھ سے جدا ہو تو تم سے فرشتے اپنی ہتھیلیوں کے ساتھ مصافحہ کریں اور تمہاری زیارت کریں تمہارے گھروں میں اور اگر تم گناہ نہیں کرتے تو اللہ عزوجل ایسی قوم کو لائے گا جو گناہ کریں گے تاکہ بخشش طلب کریں ، تو ان کو معاف کر دیا جائےگا۔ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم کو بتائیں کہ جنت کو کس سے بنایا گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی ایک اینٹ چاندی کی ہے، اور ایک اینٹ سونے کی ہے، ان کا مسالہ مشک سے ملایا گیا ہے، اس کے پیالے موتی اور یاقوت کے ہوں گے، اس کی مٹی زعفران کی ہے ، اس میں جو داخل ہوگا اس میں ایسی نعمتیں دیکھے گا جو خشک نہیں ہوں گی، وہ داخل ہوں گے تو ان کو موت نہیں آئے گی۔ان کے کپڑے پرانے نہیں ہونگے اور ان کی جوانی ختم نہیں ہوگی۔
قُلْنَا ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبُو الْمُدِلَّةِ مَوْلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّهُ [ص:309] ← سَعْدٍ الطَّائِیِّ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2706
