مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ مَالِكُ بْنُ نَضْلَةَ أَبُو أَبِي الْأَحْوَصِ · حديث 1399
1399 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاقَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ، يَقُولُ: أَتَى أَبِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرُبَّمَا قَالَ: عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَآهُ قَشِفَ الْهَيْئَةِ فَقَالَ: «هَلْ لَكَ مِنْ مَالٍ؟» قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: «مَنْ أَيِّ الْمَالِ؟» قُلْتُ: مِنْ كُلِّ الْمَالِ مِنَ الْإِبِلِ وَالرَّقِيقِ وَالْخَيْلِ وَالْغَنَمِ قَالَ: «فَإِذَا آتَاكَ اللَّهُ مَالًا فَلْيُرَ عَلَيْكَ أَثَرُهُ» ثُمَّ قَالَ: " هَلْ تُنْتَجُ إِبِلُ أَهْلِكَ صِحَاحًا آذَانُهَا فَتَعْمَدَ إِلَى مُوسَى فَتَقْطَعَ آذَانَهَا فَتَقُولَ: هَذِهِ بُحُرٌ، وَتَشُقَّهَا أَوْ تَشُقَّ جُلُودَهَا فَتَقُولَ: هَذِهِ صُرُمٌ وَتُحَرِّمَهَا عَلَيْكَ [ص:637] وَعَلَى أَهْلِكَ؟ فَكُلُّ مَالٍ آتَاكَ اللَّهُ لَكَ حِلٌّ " قَالَ شُعْبَةُ: هَذَا يَقُولُهَا أَحْيَانًا وَأَحْيَانًا لَا يَقُولُهَا: «وَمُوسَى اللَّهِ أَحَدُّ مِنْ مُوسَاكَ، وَسَاعِدُ اللَّهِ أَشَدُّ مِنْ سَاعِدَيْكَ» وَرُبَّمَا قَالَ: «وَمُوسَى اللَّهِ أَحَدُّ وَسَاعِدُ اللَّهِ أَشَدُّ»
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو الا حوص رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میرے والد نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ،اور کھبی کہتے :میرے والد نے روایت بیان کی کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے انہیں بری حالت میں دیکھا ،آپ نے فرمایا :کیا تیرے پاس مال نہیں ہے ؟میں نے عرض کی :جی ہاں !ہے ۔فرمایا کونسا مال ہے؟میں نے عرض کی :ہر قسم کا مال ہے اونٹ و غلام ،گھوڑے ،بکریاں وغیرہ وغیرہ ۔آپ نے فرمایا :جب اللہ نے تجھے مال دیا ہے تو وہ چاہتا ہے کہ تجھ پر اس کا اثر بھی دکھائی دے۔پھر آپ نے فرمایا :کیا تم میں سے کسی کے ہاں صحیح و سلامت کانوں والا اونٹ کا بچہ پیدا ہوتا ہے ،پھر تم استرے سے اس کے کان کاٹ دیتے ہواور کہتے ہو کہ کہ بحر ہے ،اس کا چمڑا کاٹ دیتے ہو اور کہتے ہو کہ یہ صرم ہے اس کو اپنے اوپر اور اپنےاہل خانہ پر حرام خیا ل کرتے ہو۔؟فرمایا سو ہر مال جو اللہ نے تم کو دیا ہے وہ تمھارے لیئے حلال ہے ۔حضرت شعبہ کھبی یہ فرماتے تھے ،اور کھبی یہ نہیں فرماتے تھے کہ اللہ کا استرا تمھارے استرے سے زیادہ تیز ہے ،اور اللہ کی کلائی (جیسے اس کی شان کے لائق ہے)تمھاری کلائی سے زیادہ تیز ہے،بسا اوقات یہ فرماتے ہیں کہ اللہ کا استرا اور اللہ کی کلائی بہت زیادہ سخت ہے۔
أَبِيهِ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ فَرَآهُ قَشِفَ الْهَيْئَةِ ← أَتَى أَبِي النَّبِيَّ وَرُبَّمَا ← أَبَا الْأَحْوَصِ، ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1399
