مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ · حديث 1309
1309 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ. قَالَ: أَبُو دَاوُدَ: وَأَخْبَرَنِي ابْنُ فَضَالَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنَ الْأَسْدِ عَلَى عَمِلٍ - أَوْ قَالَ: عَلَى الصَّدَقَةِ - فَلَمَّا جَاءَ جَاءَ بِمَالَيْنِ فَقَالَ: هَذَا مَالُكُمْ، وَهَذِهِ هَدِيَّةٌ أُهْدِيَتْ إِلَيَّ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ خَطِيبًا ثُمَّ قَالَ: " مَا بَالُ رِجَالٍ نَبْعَثُهُمْ عَلَى بَعْضِ مَا وَلَّانَا اللَّهُ فَيَجِيءُ بِمَالَيْنِ فَيَقُولُ: هَذَا مَالُكُمْ وَهَذِهِ هَدِيَّةٌ أُهْدِيَتْ إِلَيَّ، أَفَلَا جَلَسَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ أَوْ فِي بَيْتِ أُمِّهِ يَنْظُرُ أَيُهْدَى إِلَيْهِ أَمْ لَا؟ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَأْخُذُ أَحَدٌ مِنْ هَذَا الْمَالِ شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ عَلَى عُنُقِهِ، إِنْ كَانَ بَعِيرًا جَاءَ لَهُ رُغَاءٌ وَإِنْ كَانَتْ [ص:539] بَقَرَةً جَاءَ لَهَا خُوَارٌ وَإِنْ كَانَتْ شَاةً جَاءَتْ تَيْعَرُ " ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ عُفْرَةَ إِبْطَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ اللَّهُمَّ اشْهَدْ» قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ بَصُرَ عَيْنَايَ وَسَمِعَ أُذُنَيَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالشَّاهِدُ عَلَى ذَلِكَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ تَحُكُّ رُكْبَتِي رُكْبَتَهُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبیلہ اسد کے ایک آدمی کو زکوٰۃ کا عامل مقرر کیا ' جب وہ آیا تو وہ دو مال لے کر آیا ' اس نے کہا: یہ آپ کا مال ہے اور یہ میرے لیے ہدیہ ہیں ' سو یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے ' آپ نے فرمایا : ان مردوں کاکیا حال ہے جن کو ہم بھیجتے ہیں ان کاموں پر جن کا اللہ نے ہم کو ولی بنایا ہے ' تو وہ دو مال لے کر آتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ تمہارا مال ہے اور یہ مجھے ہدیہ دیا ہے ' وہ اپنے باپ یا اپنی ماں کے گھر میں کیوں نہیں بیٹھا رہتا کہ پھر دیکھے کہ اس کے پاس ہدیہ آتا ہے یانہیں ! اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے !جو بھی آدمی اللہ کے مال سے کوئی چیز بغیر حق کے لے ' وہ قیامت کے دن اسے اپنی گردن پر اٹھائے ہوئے ہو گا ' اگر وہ اونٹ ہو گا تو وہ اس کے اوپر بلبلا رہا ہو گا ' اور اگر گائے ہو گی تو وہ ڈکار رہی ہو گی ' اگر بکری ہو گی تو وہ آئے گی تو ممیا رہی ہو گی ۔ پھر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اپنے ہاتھ بلند کیے یہاں تک کہ میں نے آپ کی بغل کی سفیدی دیکھی ' پھر آپ نے فرمایا : اے اللہ ! کیا میں نے تیر ا حکم پہنچا دیا! اے اللہ ! گواہ رہنا ۔ حضر ت ابو حمید ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی دونوں آنکھوں سے دیکھا اور اپنے دونوں کانوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد سنا ' اس بات کے گواہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں ' نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں میرا گھٹنا زید بن ثابت کے گھٹنے کو چھو رہا تھا ۔
أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1309
