مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَبُو عَيَّاشٍ الزُّرَقِيُّ · حديث 1444
1444 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ، قَالَ: «كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُسْفَانَ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ صَلَاةُ الظُّهْرِ وَعَلَى خَيْلِ الْمُشْرِكِينَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ» قَالَ: «فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصْحَابِهِ الظُّهْرَ» فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: إِنَّ لَهُمُ صَلَاةً بَعْدَ هَذِهِ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ أَبْنَائِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ يَعْنُونَ صَلَاةَ الْعَصْرِ " فَنَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فَأَخْبَرَهُ وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَإِذَا كُنْتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلَاةَ} [النساء: 102] الْآيَةَ إِلَى آخِرِهَا فَحَضَرَتِ الْعَصْرُ فَصَفَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ صَفَّيْنِ وَعَلَيْهِمُ السِّلَاحُ فَكَبَّرَ وَالْعَدُوُّ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرُوا جَمِيعًا وَرَكَعُوا جَمِيعًا ثُمَّ سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ وَالْآخَرُونَ قِيَامٌ يَحْرُسُونَهُمْ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ إِلَى الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ وَسَجَدَ الْآخَرُونَ ثُمَّ تَقَدَّمَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ، وَتَأَخَّرَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ [ص:684] فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً أُخْرَى فَرَكَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ وَالْآخَرُونَ قِيَامٌ يَحْرُسُونَهُمْ فَلَمَّا فَرَغُوا سَجَدَ هَؤُلَاءِ ثُمَّ سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَالَ أَبُو عَيَّاشٍ: «فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الصَّلَاةَ مَرَّتَيْنِ مَرَّةً بِعُسْفَانَ وَمَرَّةً فِي أَرْضِ بَنِي سُلَيْمٍ»
حضرت ابو عیاش الزرقی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم مقام عسفان میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے،ظہر کی نماز کا وقت ہوا اور مشرکوں کے گھوڑوں پر خالد بن ولید تھے ،کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کو ظہر کی نماز پڑھائی ،مشرکیں کہنے لگے:ان کو اس نماز کے بعد والی نماز زیادہ محبوب ہے ،اپنے بیٹوں اور اپنے اموال اور اپنی جانوں سے ،ان کی مراد عصر کی نماز تھی ۔سو حضرت جبریل علیہ اسلام ،رسول اللہ ﷺ کے پاس ظہر اور عصر کے درمیان آئے ،آپ کو بتایا اور یہ آیت نازل ہوئی "واذا کنت فیھم "پوری آیت آخر تک ،سو نماز عصر کا وقت ہوا تورسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ اکرام کی دو صفیں بنائیں اور وہ اسلحہ زیب تن کیئے ہوئے تھے،سوآپ نے تکبیر کہی اور دشمن نبی اکرم ﷺ کے سامنے تھے تو تمام صحابہ اکرم نے بھی تکبیر کہی اور تمام نے اکھٹے رکوع کیا ،پھر رسول اللہ ﷺ نے سجدہ کیا اور اس صف نے بھی سجدہ کیا جو آپ کےساتھ تھی اور دوسری صف والے کھڑے رہے ان کی حفاظت کے لیئے ۔پس جب رسول اللہ ﷺ سجدے سے فارغ ہوئے اور دوسری رکعت کے لیئے کھڑے ہوئے تو دوسری صف والوں نے سجدہ کیا پھر یہ پہلی صف والوں کی جگہ چلے گئے آپ نے ان کو دوسری رکعت پڑھائی سو تمام لوگوں نے اکھٹے رکوع کیا پھر رسول اللہ ﷺ نے سجدہ کیا اور اس صف والوں نے سجدہ کیا جو آپ کے قریب تھے اور دوسرے ان کی حفاظت کے لیئے کھڑے رہے جب یہ سجدہ سے فارغ ہوئے تو انہوں نے سجدہ کیا ،پھر رسول اللہ ﷺ نے سلام پھیردیا ۔حضر ت ابو عیاش فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے یہ نماز دو مرتبہ پڑھائی ،ایک مرتبہ مقام عسفان میں اور ایک مرتبہ بنی سلیم کے علاقے میں ۔
أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← وَرْقَاءُ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ
Hadith 1444
