مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 227
227 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى عَلَى قَوْمٍ يُلَقِّحُونَ النَّخْلَ فَقَالَ: «مَا يَصْنَعُ هَؤُلَاءِ؟» قُلْتُ: يُلَقِّحُونَ النَّخْلَ يَجْعَلُونَ الذِّكْرَ فِي الْأُنْثَى قَالَ: «مَا أَظُنُّ هَذَا يُغْنِي شَيْئًا» ، ثُمَّ قَالَ: «إِنْ كَانَ يَنْفَعُهُمْ فَلْيَصْنَعُوهُ لَا تُؤَاخِذُونِي بِالظَّنِّ وَلَكِنْ إِذَا قُلْتُ لَكُمْ شَيْئًا عَنِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنِّي لَا أَكْذِبُ عَلَى اللَّهِ شَيْئًا»
حضرت موسیٰ بن طلحہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نبی اکرم ﷺکے ساتھ تھا ‘آپ ایک ایسی قوم کے پاس آۓ جو کھجوروں میں پیوند کاری کر رہے تھے‘آپ نے فرمایا: یہ کیا کر رہے ہو؟ میں نے عرض کی: یہ کھجوروں میں پیوند کاری کر رہے ہیں‘ مذکر کو مؤنث کر رہے ہیں‘ فرمایا: میرا گمان ہے کہ یہ کوئی بے نیاز کر نے والی چیز نہیں ( جو کر رہے ہو ) چر فر مایا: اگر تم کونفع ہوتا ہے تو کر لو ‘میرے گمان پر میری گرفت نہ کرنالیکن جب میں تمہیں اللہ عز وجل کے حوالہ سے ( کوئی حکم) بیان کروں تو اس کو لے لینا۔ کیونکہ میں اللہ کی ذات پر جھوٹ نہیں با ندھتا۔
«إِنْ كَانَ يَنْفَعُهُمْ فَلْيَصْنَعُوهُ لَا تُؤَاخِذُونِي بِالظَّنِّ وَلَكِنْ إِذَا قُلْتُ لَكُمْ شَيْئًا ← «مَا أَظُنُّ هَذَا يُغْنِي شَيْئًا» ثُمَّ ← «مَا يَصْنَعُ هَؤُلَاءِ؟» قُلْتُ: يُلَقِّحُونَ النَّخْلَ يَجْعَلُونَ الذِّكْرَ فِي الْأُنْثَى ← كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ فَأَتَى عَلَى قَوْمٍ يُلَقِّحُونَ النَّخْلَ ← أَبِيهِ ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،
Hadith 227
