Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي داود الطيالسي

Musnad Abu Dawood Tayalisi

by Abu Dawood Tiyalisi

2,890 Hadith613 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ مَا رَوَى أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَوَى عَنْهُ أَبُو نَضْرَةَ · حديث 2265

2265 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، سَمِعَ أَبَا نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ مَخَافَةُ النَّاسِ» أَوْ «مَهَابَةُ النَّاسِ» قَالَ شُعْبَةُ أَحَدَهُمَا «أَنْ يَتَكَلَّمَ بِحَقٍّ يَعْلَمُهُ» ، فَمَا زَالَ الْأَمْرُ يُنْسَى حَتَّى قَصَّرْنَا

حضرت ابو نضرہ ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب تین آدمی سفر میں ہوں تو ان میں سے ایک ان کی امامت کرائے ، اور وہ ان امامت کرے جو ان میں سے زیادہ قاری ہو۔

شُعْبَةُ أَحَدَهُمَا «أَنْ يَتَكَلَّمَ بِحَقٍّ يَعْلَمُهُ» فَمَا زَالَ الْأَمْرُ يُنْسَى حَتَّى قَصَّرْنَا ← «لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ مَخَافَةُ النَّاسِ» أَوْ «مَهَابَةُ النَّاسِ» ← النَّبِيِّ ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبَا نَضْرَةَ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2265

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ مَا رَوَى أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَوَى عَنْهُ أَبُو نَضْرَةَ · حديث 2266

2266 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً فِي سَفَرٍ، فَلْيَؤُمَّهُمْ أَحَدُهُمْ، وَأَحَقُّهُمْ بِالْإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ»

حضرت ابو نضرہ ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا ، تو اس نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میرے باغ میں گوہ ہیں وہ میرے اہل خانہ کا عام کھانا ہے، تو آپ اس سے خاموش رہے، ہم نے اس کو کہا کہ دوبارہ پوچھ، اس نے دوبارہ پوچھا تو آپ خاموش رہے، پھر ہم نے اس کو کہا کہ تیسری بار پوچھ ، اس نے دوبارہ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے دیہاتی ! بے شک اللہ عزوجل نے بنی اسرائیل میں ایک جماعت پر غصہ فرمایا تو ان کے جانوروں کو مسخ کر دیا جو زمین میں چلتے تھے، میں نہیں جانتا شاید کہ یہ ان ہی میں سے ہے۔ میں اس سے تجھے منع کرتا ہوں اور نہ اس کا تجھے حکم دیتا ہوں۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2266

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ مَا رَوَى أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَوَى عَنْهُ أَبُو نَضْرَةَ · حديث 2267

2267 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ بَشِيرُ بْنُ عُقْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ [ص:611] النَّبِيَِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي فِي حَائِطٍ مَضَبَّةٍ، وَإِنَّهُ عَامَّةُ طَعَامِ أَهْلِي، فَسَكَتَ عَنْهُ، فَقُلْنَا: عَاوِدْهُ، فَعَاوَدَهُ، فَسَكَتَ، ثُمَّ قُلْنَا: عَاوِدْهُ، فَعَاوَدَهُ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: «يَا أَعْرَابِيُّ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ غَضِبَ عَلَى سِبْطَيْنِ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَمَسَخَهُمْ دَوَابًّا يَدِبُّونَ فِي الْأَرْضِ، فَلَا أَدْرِي لَعَلَّهَا بَعْضُهَا، وَلَسْتُ بِنَاهِيكَ، وَلَا آمُرُكَ بِهَا»

حضرت ابو نضرہ ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے نعلین میں نماز پڑھی ، تو لوگوں نے بھی اپنے جوتوں میں نماز پڑھی ، پھر آپ نے ان سے نعلین اتار دئیے، تو صحابہ کرام نے بھی نماز کے اندر ہی اتار دئیے ، پس جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا: تم کو نمازکی حالت میں جوتے اتارنے پر کس نے ابھارا تھا؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم نے آپ کو دیکھا ، آپ نے ایسے کیا ہے ، تو ہم نے بھی ایسے ہی کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے جبریل امین علیہ السلام نے بتایا تھا کہ اس میں گندگی ہے، پس جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو وہ اپنی جوتی دیکھ لے ، اگر اس کے جوتوں میں نجاست ہو تو ان کو اتار لے ورنہ ان میں نماز پڑھ لے۔

أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ [ص:611] النَّبِيَِّ فَقَالَ: ← أَبُو نَضْرَةَ، ← أبو عقيل بشير بن عقبة ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2267

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ مَا رَوَى أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَوَى عَنْهُ أَبُو نَضْرَةَ · حديث 2268

2268 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَةَ السَّعْدِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي نَعْلَيْهِ، فَصَلَّى النَّاسُ فِي نِعَالِهِمْ، ثُمَّ أَلْقَى نَعْلَيْهِ، فَأَلْقَى النَّاسُ نِعَالَهُمْ وَهُمْ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ: «مَا حَمَلَكُمْ عَلَى إِلْقَاءِ نِعَالِكُمْ فِي الصَّلَاةِ؟» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْنَاكَ فَعَلْتَ فَفَعَلْنَا، قَالَ: «إِنَّ جِبْرِيلَ أَخْبَرَنِي أَنَّ فِيهَا أَذًى، فَإِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَنْظُرْ فَإِنْ رَأَى فِي نَعْلَيْهِ أَذًى، وَإِلَّا فَلْيُصَلِّ فِيهِمَا»

حضرت ابو نضرہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ہم ایک کنویں پر آئے ، اس میں مردار پڑھا ہوا تھا، بعض لوگوں نے اس سے وضو کر لیا اور بعض لوگ رک گئے یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی تشریف لے آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں میں سب سے آخر میں آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : وضو کرو اور پیو،بے شک پانی کو کوئی شئے پلید نہیں کرتی۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← أَبُو نَعَامَةَ السَّعْدِيُّ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2268

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ مَا رَوَى أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَوَى عَنْهُ أَبُو نَضْرَةَ · حديث 2269

2269 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا قَيْسٌ، عَنْ طَرِيفِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْنَا عَلَى غَدِيرٍ فِيهِ جِيفَةٌ، فَتَوَضَّأَ بَعْضُ الْقَوْمِ وَأَمْسَكَ بَعْضُ الْقَوْمِ حَتَّى [ص:614] يَجِيءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُخْرَيَاتِ النَّاسِ، فَقَالَ: «تَوَضَّئُوا وَاشْرَبُوا، فَإِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ»

حضرت ابو نضرہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کے بعد سورج کے غروب ہونے تک خطبہ دیا، اس کو یاد کرلیا جس نے یاد کرنا تھا اور بھول گیا جس نے بھولنا تھا، آپ نے فرمایا: خبر دار !دنیا سر سبز اور میٹھی ہے ، اور بے شک اللہ عزوجل تم کو خلیفہ بنانے والا ہے اس میں وہ دیکھے گا تم کیا عمل کرتے ہو، خبر دار ! دنیاسے بچ کر رہو اور عورتوں سے بچو! خبردار بے شک بنی آدم کو مختلف گروہوں میں پیدا کیا گیا ہے، ان میں سے کچھ ایمان والے پیدا ہوئے ، اور حالت ایمان میں زندہ رہے اور کچھ کافر پیدا ہوئے ، کافر زندہ رہے اور کافر ہی مرے، ان میں کچھ کافر پیدا ہوئے ،کافر زندہ رہے اور مؤمن مرے ، اور ان میں سے کچھ ایمان والے پیدا ہوئے ، مؤمن زندہ رہے اور کافر مرے ، سن لو ! بہتر تجارت وہ ہے جو اچھی طرح قرض دے اور اچھی طرح مطالبہ کرے اور خبر دار ! براتاجر وہ ہے جو بری طرح قرض دے اور بری طرح طلب کرے ، پس جب اچھی طرح دینا ہو اور بری طرح طلب کرنا اور بری طرح ادا کرنا تو یہ ایک دوسرے کا بدلہ ہوگا۔ خبردار! اور برے مرد وہ ہیں جن کو جلدی غصہ آئے۔اور دیر سے جائے ، خبر دار ! اوربہترین لوگ وہ ہیں جن کو جلدی غصہ آئے اور جلدی جائے ، اگر جلدی غصہ آئے اور جلدی چلے جائے تو یہ اس کا بدلہ ہے اور جب دیر سے غصہ آئے اور دیر سے جائے تو یہ اس کا بدلہ ہے۔ خبر دار ! غصہ ایک چنگاری ہے جو انسان کے پیٹ میں جلتی ہے ، کیا تم نہیں دیکھتے کہ اس میں آنکھیں سرخ ہو جاتی ہیں ۔اور اس کی رگیں پھول جاتی ہیں ، سو جب معاملہ اس طرح کا ہو جائے تو زمین زمین پر ہو۔ خبر دار ! ہر دھوکے باز کا دھوکہ بازی کے مطابق ایک جھنڈا ہوگا ( جو قیامت کے دن اس کی سرین پر لگایا جائے گا) ۔ امام حسن فرماتے ہیں کہ اس کی سرین کے پاس لگایا جائے گا۔ پھر ابو سعید کی حدیث کی طرف لوٹتے ہیں کہ آپ نے پھر ارشاد فرمایا : خبر دار ! سب سےبڑا دھوکا اس آدمی کا ہوگا جو ملک کا حکمران ہوگا، خبردار! تم میں سے کسی کے رعب کی وجہ سے حق بات کہنے سے نہ ڈرے ، جب کہ اس کو معلوم ہو ۔خبر دار ! بے شک دنیا باقی نہیں رہے گی اس میں سے جو گزر چکی ہے، مگر جو تمہارے آج کے گزرے ہوئے دن کے ساتھ اس وقت کی ہے۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← طَرِيفِ بْنِ سُفْيَانَ، ← قَيْسٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2269

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ مَا رَوَى أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَوَى عَنْهُ أَبُو نَضْرَةَ · حديث 2270

2270 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَةً بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَى مُغَيْرِبَانِ الشَّمْسِ، حَفِظَهَا مَنْ حَفِظَهَا، وَنَسِيَهَا مَنْ نَسِيَهَا، فَقَالَ: «أَلَا إِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، وَإِنَّ اللَّهَ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا فَيَنْظُرُ كَيْفَ تَعْمَلُونَ، أَلَا فَاتَّقُوا الدُّنْيَا، وَاتَّقُوا النِّسَاءَ، أَلَا إِنَّ بَنِي آدَمَ خُلِقُوا عَلَى طَبَقَاتٍ شَتَّى، مِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ مُؤْمِنًا، وَيَحْيَا مُؤْمِنًا، وَيَمُوتُ مُؤْمِنًا، وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ كَافِرًا، وَيَحْيَا كَافِرًا، وَيَمُوتُ كَافِرًا، وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ كَافِرًا، وَيَحْيَا كَافِرًا، وَيَمُوتُ مُؤْمِنًا، وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ مُؤْمِنًا، وَيَحْيَا مُؤْمِنًا، وَيَمُوتُ كَافِرًا، أَلَا إِنَّ خَيْرَ التُّجَّارِ مَنْ كَانَ حَسَنَ الْقَضَاءِ حَسَنَ الطَّلَبِ [ص:615]، أَلَا وَشَرُّ التُّجَّارِ مَنْ كَانَ سَيِّئَ الْقَضَاءِ سَيِّئَ الطَّلَبِ، فَإِذَا كَانَ حَسَنَ الْقَضَاءِ سَيِّئَ الطَّلَبِ، أَوْ حَسَنَ الطَّلَبِ سَيِّئَ الْقَضَاءِ فَإِنَّهَا بِهَا، أَلَا وَإِنَّ شَرَّ الرِّجَالِ مَنْ كَانَ سَرِيعَ الْغَضَبِ بَطِيءَ الْفَيْءِ، أَلَا وَخَيْرُ الرِّجَالِ مَنْ كَانَ بَطِيءَ الْغَضَبِ سَرِيعَ الْفَيْءِ، فَإِذَا كَانَ سَرِيعَ الْغَضَبِ سَرِيعَ الْفَيْءِ فَإِنَّهَا بِهَا، وَإِذَا كَانَ بَطِيءَ الْغَضَبِ بَطِيءَ الْفَيْءِ فَإِنَّهَا بِهَا، أَلَّا إِنَّ الْغَضَبَ جَمْرَةٌ تَوَقَّدُ فِي جَوْفِ ابْنِ آدَمَ، أَلَمْ تَرَ إِلَى حُمْرَةِ عَيْنَيْهِ، وَانْتِفَاخِ أَوْدَاجِهِ، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَالْأَرْضَ الْأَرْضَ، أَلَا إِنَّ لِكُلَّ غَادِرٍ لِوَاءً بِقَدْرِ غَدْرَتِهِ» قَالَ الْحَسَنُ: يُنْصَبُ عِنْدَ اسْتِهِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ ثُمَّ قَالَ: «أَلَا وَلَا غَادِرَ أَعْظَمُ غَدْرًا مِنْ أَمِيرِ عَامَّةٍ، أَلَا لَا يَمْنَعَنَّ رَجُلًا مَهَابَةُ النَّاسِ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِحَقٍّ إِذَا عَلِمَهُ، أَلَا إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا فِيمَا مَضَى مِنْهَا إِلَّا كَمَا بَقِّيَ مِنْ يَوْمِكُمْ هَذَا فِيمَا مَضَى مِنْهُ»

حضرت ابو نضرہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حنین کیطرف گئے ، رمضان شریف کے اٹھارہ روز گزر گئے تھے ، تو کچھ لوگوں نے روزہ رکھا ہوا تھا اور کچھ لوگوں نے افطار کیا ہوا تھا، اس کو معیوب نہ سمجھا گیا، یا فرمایا کہ روزہ دار کو اس کے روزہ پر اور افطار کرنے والے کو اس کے افطار پر عیب نہیں لگایا گیا۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2270

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ مَا رَوَى أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَوَى عَنْهُ أَبُو نَضْرَةَ · حديث 2271

2271 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: «خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى حُنَيْنٍ لِثَمَانِ عَشْرَةَ لَيْلَةً خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ، فَصَامَ طَوَائِفُ مِنَ النَّاسِ، وَأَفْطَرَ آخَرُونَ، فَلَمْ يُعَبْ» أَوْ قَالَ: «وَلَمْ يَعِبْ عَلَى الصَّائِمِ صَوْمَهُ وَلَا عَلَى الْمُفْطِرِ إِفْطَارَهُ»

حضرت ابونضرہ ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ میں ارشاد فرمایا : خبر دار !تم میں سے کوئی آدمی لوگوں کے خوف کی وجہ سے حق بات کہنے سے نہ رکے، جب کہ حق اس کو معلوم ہو۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2271

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ مَا رَوَى أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَوَى عَنْهُ أَبُو نَضْرَةَ · حديث 2272

2272 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّيَّانِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي خُطْبَتِهِ: «أَلَا لَا يَمْنَعَنَّ رَجُلًا مَخَافَةُ النَّاسِ أَنْ يَقُولَ الْحَقَّ إِذَا عَلِمَهُ»

حضرت ابو نضرہ ، حضرت سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قیامت کے دن ہر دھوکہ باز کے لیے جھنڈا ہو گا۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← الْمُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّيَّانِ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2272

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ مَا رَوَى أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَوَى عَنْهُ أَبُو نَضْرَةَ · حديث 2273

2273 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُسْتَمِرُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ لِكُلَّ غَادِرٍ لِوَاءً يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

حضرت ابو نضرہ ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بہترین خوشبو صرف مشک کی خوشبو ہے۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبُو نَضْرَةَ، ← المستمر ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2273

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ مَا رَوَى أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَوَى عَنْهُ أَبُو نَضْرَةَ · حديث 2274

2274 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُسْتَمِرُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَطْيَبُ الطِّيبِ الْمِسْكُ»

حضرت ابو نضر ہ ، حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ ع سے روایت کرتے ہیں کہ ان کو یا اصحاب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھوک لگی ، ان کے بعض اہل خانہ نے ان سے کہا کہ اگر آپ رسول اللہ کے پاس جائیں تو آپ تمہیں کوئی چیز دیں گے ، سو وہ چل پڑے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے پایا ، اور آپ فرما رہے تھے: جو غنی ہونا چاہتا ہے اللہ اس کو غنی کر دیتا ہے، اور جو سوال سے بچتا ہے اللہ اس کو سوال سے بچا لیتا ہے، اور جس نے ہم سے سوال کیا اور ہمارے پاس کوئی چیز پائی ، تو ہم اس کو دے دیں گے ۔ حضرت ابو سعید خدری) فرماتے ہیں کہ وہ آدمی چلا گیا نہ اس نے سوال کیا اور نہ اس کے بعد انہوں نے کسی سے سوال کیا۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← المستمر ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2274

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ مَا رَوَى أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَوَى عَنْهُ أَبُو نَضْرَةَ · حديث 2275

2275 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَهُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّهُ أَصَابَهُ جُوعٌ أَوْ أَصَابَ رَجُلًا جُوعٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ بَعْضُ أَهْلِهِ: لَوْ أَتَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَخَ لَكَ، فَانْطَلَقَ، فَوَجَدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ: «مَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ، وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ سَأَلْنَا فَوَجَدْنَا شَيْئًا أَعْطَيْنَاهُ» قَالَ: فَرَجَعَ، فَمَا سَأَلَهُ، وَلَا سَأَلَ أَحَدًا بَعْدَهُ

حضرت ابو نضرہ ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ میں سے ایک کو پیچھے دیکھا ، آپ نے فرمایا : میری اقتدا ء کرو بعد والے تمہاری اقتداء کریں گے، ہمیشہ کچھ لوگ پیچھے ہوتے رہتے ہیں یہاں تک کہ اللہ بھی ان کو پیچھے کر دیتا ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّهُ أَصَابَهُ جُوعٌ أَوْ أَصَابَ رَجُلًا جُوعٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← أَبِي نَضْرَةَ ← أَبِي بِشْرٍ، ← شُعْبَةُ، وَهُشَيْمٌ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2275

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ مَا رَوَى أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَوَى عَنْهُ أَبُو نَضْرَةَ · حديث 2276

2276 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي أَصْحَابِهِ تَأَخُّرًا، فَقَالَ: «ائْتَمُّوا بِي، وَلْيَأْتَمَّ بِكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ، وَلَا يَزَالُ قَوْمٌ يَتَأَخَّرُونَ حَتَّى يُؤَخِّرَهُمُ اللَّهُ»

حضرت ابو نضرہ ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فجر سے پہلے وتر پڑھ لو۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← أَبُو الْأَشْهَبِ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2276

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
1. Book
    70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter
1. Book
    364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter541. Chapter542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter