مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ · حديث 1461
1461 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَى عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ وَهُوَ [ص:704] يَسُومُ بِمِرْطٍ فِي السُّوقِ فَقَالَ: مَا تَصْنَعُ يَا عَمْرُو؟ قَالَ: أَشْتَرِي هَذَا فَأَتَصَدَّقُ بِهِ فَقَالَ لَهُ: فَأَنْتَ إِذًا، قَالَ: ثُمَّ مَضَى ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ: يَا عَمْرُو مَا صَنَعَ الْمِرْطُ؟ قَالَ: اشْتَرَيْتُهُ فَتَصَدَّقْتُ بِهِ قَالَ: عَلَى مَنْ؟ قَالَ: عَلَى الرَّقِيقَةِ؟ قَالَ: وَمَنْ رَقِيقَةٌ؟ قَالَ: امْرَأَتِي، قَالَ: وَتَصَدَّقْتَ بِهِ عَلَى امْرَأَتِكَ؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا أَعْطَيْتُمُوهُنَّ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ لَكُمْ صَدَقَةٌ» فَقَالَ: يَا عَمْرُو لَا تَكْذِبْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَاللَّهِ لَا أُفَارِقُكَ حَتَّى تَأْتِيَ عَائِشَةَ فَتَسْأَلَهَا، قَالَ: فَانْطَلَقَا حَتَّى دَخَلَا عَلَى عَائِشَةَ فَقَالَ لَهَا عَمْرٌو: يَا أُمَّتَاهُ هَذَا عُمَرُ يَقُولُ لِي: لَا تَكْذِبْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَشَدْتُكِ بِاللَّهِ أَسَمِعْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا أَعْطَيْتُمُوهُنَّ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ لَكُمْ صَدَقَةٌ» ؟ قَالَتْ: اللَّهُمَّ نَعَمْ، اللَّهُمَّ نَعَمْ
حضرت عبداللہ بن عمرو بن امیہ الضمری اپنے والد سے رایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ،حضرت عمرو بن امیہ الضمری کے پاس آئے اور یہ بازار میں چادریں فروخت کررہے تھے۔(حضرت عمر رضی اللہ عنہ )نے فرمایا اے عمرو تو کیا کرتا ہے ؟(حضرت عمرو)نے عرض کی میں اس سے کوئی شے خریدتا ہوں اور اسے کے بعد صدقہ کرتا ہوں ۔حضرت عمر چلے گئے پھر واپس لوٹے فرمایا :اے عمرو تو نے چادر سے کیا کیا ؟عرض کی میں نے اس کو فروخت کیا اور میں نے اس کو صدقہ کردیا فرمایا کس پر ؟عرض کی اپنی لونڈی پر :کون سی لونڈی ؟عرض کی میری بیوی ،فرمایا تو نے اپنی بیوی پر صدقہ کیاہے ؟عرض کی میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے اللہ کی قسم !تم جوشے اپنے بیوی بچوں کو دو وہ تمھارے لیئے صدقہ ہے ۔حضرت عمر نے فرمایا اے عمرو ! رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ نہ بولو،کہا کہ اللہ کی قسم ! میں آپ سے جدا نہیں ہونگا یہاں تک کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکے پاس جاؤں آپ سے پوچھوں ۔پس وہ دونوں چلے یہاں تک کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ،حضرت عمرو نے آپ سے عرض کی اے امی جان ! یہ حضرت عمر ہیں ،مجھے کہتے ہیں کہ تم رسول اللہ ﷺ پرجھوٹ نہ باندھو ہم آ پ کو اللہ کی قسم دیتے ہیں ! کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے سنا ہے کہ تم ان (عورتوں )کو کوئی شہ دو وہ تمھارے لیئے صدقہ ہو گی ؟حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا :اللہ کی قسم !ہاں (یعنی میں نےسنا ہے)۔
أَبِيهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ، ← محمد بن أبي حميد ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1461
