مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسٍ · حديث 2191
2191 - حَدَّثَنَا يُونُسُ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ بَيْتَ أُمِّ سُلَيْمٍ وَيَنَامُ عَلَى فِرَاشِهَا، وَلَيْسَتْ ثَمَّ، قَالَ: فَأُتِيَتْ يَوْمًا، فَقِيلَ لَهَا: هُوَ ذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فِرَاشِكِ، فَانْتَهَتْ إِلَيْهِ وَقَدْ عَرِقَ عَرَقًا شَدِيدًا، وَذَلِكَ فِي الْحَرِّ، فَأَخَذَتْ قَارُورَةً فَجَعَلَتْ تَأْخُذُ مِنَ ذَلِكَ الْعَرَقِ فَتَجْعَلُهُ فِي الْقَارُورَةِ، فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا تَصْنَعِينَ؟» قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ بَرَكَتُكَ، نَجْعَلُهُ فِي طِيبِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:552]: «أَصَبْتِ»
حضرت اسحاق بن عبداللہ سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ھوازن کےلوگ حنین کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بہت زیادہ عورتیں ، بچے اور اونٹ اور گائیں لائے ۔ تو مسلمان اس دن بھاگ گئے ۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمانے لگے : اے ھوازن ! اے مہاجرین اور انصار کے گروہ ! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں ۔ اے مسلمانوں کے گروہ ! میری طرف آؤ! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ سو مشرکین کو بغیر نیزہ مارے اور بغیر کوئی تیر مارے اللہ نے شکست دے دی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دن فرمایا : جس نے کسی مشرک کو قتل کیا۔ اس کا سامان اس کے لیے ہے تو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے اس دن بیس کافر مارے تھے او ر ان کا اسلحہ لے لیا۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! تحقیق میں نے ایک شخص پر حملہ کیا اور اس کی گردن کی رگ پر تلوار ماری اور اسے اس کی گردن سے الگ کر دیا، اس پہ زرہ تھی سو دیکھئے کون اس کو لے گیا۔ تو ایک آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے اس کو لیا ہے۔ سو آپ نے وہ مجھ کو دی اور مجھے اس سے راضی کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت تھی آپ سے کسی چیز کا سوال کیا جاتا آپ عطاء کر دیتے تھے یا خاموش ہو جاتے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : نہیں ! اللہ کی قسم ! اللہ مال فئی اپنے شیروں میں سے کسی شیر کو نہیں دیتا پھر ہم اسے دے دیتے۔ پس تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : عمر نے سچ کیا ہے۔ کہا کہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس خنجر دیکھا ۔ ( حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے) کہا : میں چاہتی ہوں اگر مشرکین میں سے کوئی میرے قریب آیا میں اس کے پیٹ پہ ماروں گی۔ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے اس بات کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں کیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرائے اور آپ نے فرمایا : اے ام سلیم ! بے شک اللہ کافی ہے اور اچھا ہے۔ انہوں ( حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ ) نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! انہیں مار دئیے یہ آپ سے بھاگ جائیں گے۔
أَنَسٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2191
