مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَمَا رُوِيَ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، وَاسْمُهُ نَضْلَةُ بْنُ عُبَيْدٍ · حديث 962
962 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ أَبِي الْمِنْهَالِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَرْزَةَ، وَسَأَلَهُ أَبِي فَقَالَ: كَيْفَ كَانَتْ صَلَاتُكُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: «كَانَ يُصَلِّي بِنَا الْهَجِيرَ الَّتِي تُسَمُّونَهَا أَنْتُمُ الظُّهْرَ حِينَ تَدْحَضُ الشَّمْسُ، وَيُصَلِّي بِنَا الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ - وَنَسِيتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ - وَكَانَ يُصَلِّي بِنَا الْعِشَاءَ لَا يُبَالِي أَنْ يُؤَخِّرَهَا إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ وَكَانَ لَا يُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَلَا الْحَدِيثَ بَعْدَهَا، وَكَانَ يُصَلَّى بِنَا الْفَجْرَ فَيَنْصَرِفُ أَحَدُنَا وَهُوَ يَعْرِفُ جَلِيسَهُ، وَكَانَ يَقْرَأُ فِيهَا مِنَ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ»
حضرت سیار بن سلامہ ابومنہال سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابو برزہ سے سنا کہ انہوں نے اپنے والد سے پوچھا کہ آپ کی نماز یں رسول اللہ ﷺ‘ کے ساتھ کیسی ہوتی تھیں؟ فرمایا کہ آپ ہم کو دو پہر کی نماز پڑھاتے تھے سورج ڈھل جانے کے بعد‘ جس کا نام تم نے ظہر رکھا ہے اور عصر پڑھاتے تھے جب سورج ابھی چمک رہا ہوتا تھا اور میں بھول گیا ہوں جو آپ نے مغرب کے متعلق بتایا تھا اور ہم کو عشاء کی نماز آپ تہائی رات تک مؤخر کر کے پڑھاتے تھے اور آپ نہ اس سے پہلے سونا پسند کر تے تھے نہ اس کے بعد‘ اور آپ ہم کو فجر پڑھاتے تھے کہ ہم میں کوئی جاتا تو وہ بیٹھے ہوۓ کو پہچان لیتا تھا اور آپ فجر کی نماز میں ساٹھ سے سو تک آیتیں تلاوت کر تےتھے۔
كيف كانت صلاتكم مع رسول الله ← أبا برزة وسأله أبي ← سيار بن سلامة أبي المنهال أنه ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 962
