Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي داود الطيالسي

Musnad Abu Dawood Tayalisi

by Abu Dawood Tiyalisi

2,890 Hadith613 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ يُوسُفُ بْنُ مِهْرَانَ · حديث 2814

2814 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُسَامَةُ رِدْفُهُ، فَسَقَيْنَاهُ مِنْ هَذَا النَّبِيذِ» يَعْنِي نَبِيذَ السِّقَاءِ

حضرت یوسف بن مہران ، حضر ت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے بیٹھے تھے ، ہم نے آپ کو اس نبیذ سے پلایا یعنی مشکیزہ کی نبیذ سے۔

«أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ وَأُسَامَةُ رِدْفُهُ، فَسَقَيْنَاهُ مِنْ هَذَا النَّبِيذِ» يَعْنِي نَبِيذَ السِّقَاءِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← يوسف بن مهران ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2814

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ يُوسُفُ بْنُ مِهْرَانَ · حديث 2815

2815 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {إِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنٍ إِلَى أَجْلٍ مُسَمًّى فَاكْتُبُوهُ} [البقرة: 282] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ: " إِنَّ أَوَّلَ مَنْ جَحَدَ آدَمُ إِنَّ اللَّهَ أَرَاهُ ذُرِّيَّتَهُ فَرَأَى رَجُلًا أَزْهَرَ، سَاطِعًا نُورُهُ، قَالَ: يَا رَبِّ، مَنْ هَذَا؟، قَالَ: هَذَا ابْنُكَ دَاوُدُ، قَالَ: يَا رَبِّ، فَمَا عُمُرُهُ؟، قَالَ: سِتُّونَ سَنَةً قَالَ: يَا رَبِّ، زِدْ فِي عُمُرِهِ قَالَ: لَا، إِلَّا أَنْ تَزِيدَهُ مِنْ عُمُرِكَ قَالَ: وَمَا عُمُرِي؟، قَالَ: أَلْفُ سَنَةٍ قَالَ آدَمُ: فَقَدْ وَهَبْتُ لَهُ أَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ: فَكَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ كِتَابًا، وَأَشْهَدَ عَلَيْهِ مَلَائِكَتَهُ، فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ وَجَاءَتْهُ الْمَلَائِكَةُ قَالَ: إِنَّهُ قَدْ بَقِيَ مِنْ عُمُرِي أَرْبَعُونَ سَنَةً قَالُوا: إِنَّكَ قَدْ وَهَبْتَهُ لِابْنِكَ دَاوُدَ قَالَ: مَا وَهَبْتُ لِأَحَدٍ شَيْئًا قَالَ: فَأَخْرَجَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْكِتَابَ، وَشَهِدَ عَلَيْهِ مَلَائِكَتُهُ "

حضرت یوسف بن مہران ، حضر ت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ عزوجل کے اس ارشاد کے متعلق فرمایا ۔ :اذاتداینتم بدین الیٰ اجل مسمی فاکتبوۃ" ، " جب تم لین دین کرو ایک مقررہ مدت تک اس کو لکھ لو ، آخر آیت تک ۔ بے شک آدم علیہ السلام سب سے پہلے ہیں ۔جنہوں نے انکار کیا ، بے شک اللہ تعالیٰ نے آپ کو آپ کی اولاد دکھائی ، تو آپ نے سفید چمکدار ایک آدمی کو دیکھا ، عرض کی : اے میرے رب ! یہ کون ہے؟ ( اللہ تعالیٰ نے ) فرمایا : یہ آپ کا بیٹا ہے ، عرض کی : اے میرے رب ! اس کی عمر کتنی ہے؟ فرمایا : ساٹھ سال ، عرض کی : اے میرے رب ! اس کی عمر میں اضافہ فرما! فرمایا: نہیں مگر یہ کہ آپ کی عمر سے اس کی عمر میں اضافہ ہوسکتا ہے، عرض کی: اے میرے رب ! میری کتنی عمر ہے؟ فرمایا : ایک ہزار سال ، ( حضرت آدم نے ) عرض کی : اے میرے رب ! میں نے اپنی عمر میں سے چالیس سال اس کو ہبہ کیے ، اللہ عزوجل نے ایک کتاب میں لکھ دیا اور اس پر فرشتوں کو گواہ بنا لیا، فرمایا: کہ جب ملک الموت آپ کی روح لینے کے لیے حاضر ہوئے ، اور دوسرے فرشتے بھی تو آپ نے فرمایا: میری عمر کے چالیس سال پاقی ہیں ، انہوں نےفرمایا: آپ نے اپنے بیٹے داؤد کو ہبہ کردئیے ہیں ،( آدم علیہ السلام نے ) فرمایا : میں نے کسی کے لیے کوئی شئے ہبہ نہیں کی، سو اللہ عزوجل نے وہ کتاب نکالی ، اور اس پر فرشتے بھی گواہ تھے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← يوسف بن مهران ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2815

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ يُوسُفُ بْنُ مِهْرَانَ · حديث 2816

2816 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ لِي جِبْرِيلُ: يَا مُحَمَّدُ، لَوْ رَأَيْتَنِي وَأَنَا آخُذُ مِنْ حَالِ الْبَحْرِ فَأَدُسُّهُ فِي فِيِّ فِرْعَوْنَ؛ مَخَافَةَ أَنْ تُدْرِكَهُ الرَّحْمَةُ "

حضرت یوسف بن مہران ، حضر ت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھ سے جبریل علیہ السلام نے کہا کہ اے محمد ! صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر آپ مجھے دیکھتے میں نے سمندر سے ایک مٹھی مٹی پکڑی اور اس کو فرعون کے منہ میں ڈال دیا، اس ڈر سے کہ وہ رحمت کو نہ پالے ( یعنی لا الٰہ الااللہ موسیٰ رسول اللہ نہ پڑھ لے) ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← يوسف بن مهران ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2816

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ يُوسُفُ بْنُ مِهْرَانَ · حديث 2817

2817 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ قَالَتِ امْرَأَتُهُ: هَنِيئًا لَكَ يَا ابْنَ مَظْعُونٍ الْجَنَّةُ قَالَ: فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهَا نَظْرَةَ غَضْبَانَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَارِسُكَ وَصَاحِبُكَ قَالَ: «مَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِهِ» فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ [ص:412] رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ يُعَدُّ مِنْ خِيَارِهِمْ، حَتَّى تُوُفِّيَتْ رُقَيَّةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَقِي بِسَلَفِنَا الْخَيِّرِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ» قَالَ: وَبَكَتِ النِّسَاءُ عَلَى رُقَيَّةَ، فَجَعَلَ عُمَرُ يَنْهَاهُنَّ أَوْ يَضْرِبُهُنَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَهْ يَا عُمَرُ» قَالَ: ثُمَّ قَالَ: «إِيَّاكُنَّ وَنَعِيقَ الشَّيْطَانِ؛ فَإِنَّهُ مَهْمَا يَكُونُ مِنَ الْعَيْنِ وَالْقَلْبِ فَمِنَ الرَّحْمَةِ، وَمَا يَكُونُ مِنَ اللِّسَانِ وَالْيَدِ فَمِنَ الشَّيْطَانِ» قَالَ: وَجَعَلَتْ فَاطِمَةُ رَحِمَهَا اللَّهُ تَبْكِي عَلَى شَفِيرِ قَبْرِ رُقَيَّةَ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ الدُّمُوعَ عَنْ وَجْهِهَا بِالْيَدِ، أَوْ قَالَ: بِالثَّوْبِ

حضرت یوسف بن مہران ، حضر ت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا وقت وصال قریب آیا تو ان کی بیوی کہنے لگی: اے ابن مظعون ! آپ کے لیے جنت مبارک ہو! کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف غصہ بھری نظر سے دیکھا ،ا س نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ کے ساتھ جنگ کرتارہا ہے اور آپ کا صحابی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں نہیں جانتا کہ اس کے ساتھ کیا کیا جائے گا؟ سو یہ بات اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر شاق گزری ، کیونکہ وہ ان ( حضرت عثمان ) کو بہتر لوگوں میں شمار کرتے تھے، حتیٰ کہ جب حضرت رقیہ شہزادی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ا س کو ہمارے پہلے بہترین عثمان بن مظعون کے ساتھ ملا دو۔ کہا کہ عورتیں حضرت رقیہ پر رونے لگیں ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کو منع کرنے لگے یا مارنے لگے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے عمر ! ان کو چھوڑ دو! کہا کہ انہوں ن( حضرت عمر ) نے پھر عرض کی : یہ رو رہی ہیں اور شیطان ہنس رہا ہے۔ ( حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ) کیونکہ جوان دونوں یعنی آنکھ اور دل سے روتا ہے وہ رحمت ہوتا ہے، اور جو زبان اور ہاتھ سے روتا ہے وہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔ کیونکہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حضرت رقیہ کی قبر کے پاس رونے لگیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے چہرہ مبارک سے کپڑے یا ہاتھ سے آنسو صاف کر رہے تھے۔

فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْهَا نَظْرَةَ غَضْبَانَ، ← امْرَأَتُهُ: هَنِيئًا لَكَ يَا ابْنَ مَظْعُونٍ الْجَنَّةُ ← لَمَّا تُوُفِّيَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← يوسف بن مهران ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2817

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
1. Book
    70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter
1. Book
    364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter541. Chapter542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter