مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ طِخْفَةُ الْغِفَارِيُّ · حديث 1436
1436 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَجَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طِخْفَةَ الْغِفَارِيُّ فَقَالَ لَهُ أَبُو سَلَمَةَ: حَدِّثْنَا حَدِيثَ أَبِيكَ فَقَالَ: نَعَمْ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ الضِّيفَانَ كَثُرُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَأْخُذُ بِيَدِ ضَيْفِهِ وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَأْخُذُ بِيَدِ ضَيْفِهِ، فَانْطَلَقَ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَحْلِهِ فَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ أَعِنْدَكِ شَيْءٌ؟» قَالَتْ: نَعَمْ حَيْسَةٌ صَنَعْتُهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «فَهَاتِيهَا» قَالَ: فَأُتِيَ بِهَا فَأَكَلْنَا حَتَّى مَا نَنْظُرُ إِلَيْهَا ثُمَّ قَالَ: «يَا عَائِشَةُ أَعِنْدَكِ شَرَابٌ تَسْقِينَا؟» قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَبَنٌ يَسِيرٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَتْنَا بِهِ فَشَرِبْنَا حَتَّى مَا نَنْظُرُ إِلَيْهِ ثُمَّ نِمْنَا فَلَمَّا كَانَ الصُّبْحُ أَوْ لَمَّا أَصْبَحْنَا جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوقِظُنَا وَكَذَلِكَ [ص:675] كَانَ يَفْعَلُ قَالَ: فَأَتَى عَلَيَّ وَأَنَا نَائِمٌ عَلَى وَجْهِي فَقَالَ: «مَنْ هَذَا؟» فَقُلْتُ: أَنَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ هَذِهِ ضِجْعَةٌ يَكْرَهُهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ»
حضرت حارث بن عبدالرحمن ٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت عبداللہ بن طخفہ الغفاری کے پاس تھےمیرے کہ آپ کو حضرت ابو سلمہ نے کہا ہم کو اپنے والد کے حوالہ سے حدیث بیان کریں ،فرمایا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس مہمان بہت زیادہ ہو گئے تو ایک آدمی نے ایک مہمان کا ہاتھ پکڑ لیا اور ایک نے ایک اور کا ہاتھ پکڑ لیا تو رسول اللہ ﷺ ہم کو اپنے گھر لے کر چلے ،پس فرمایا اے عائشہ ! کیا تیرے پاس کوئی شے ؟انہوں (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ )نے عرض کی :جی ہاں !حیسہ ہے جو میں نے حضوراکرم ﷺ کے لیئے بنا یا تھا ۔آپ ﷺ نے فرمایا اس کو لے آؤ کہا کہ وہ لایا گیا ،سو ہم نے کھایا یہاں تک کہ ہم نے کوئی شے نہ چھوڑی ۔پھر آپ ﷺ نے فرمایا اےعائشہ ! کیا تیرے پاس پینے کو کوئی شے ہے تو ہم کو پلاؤ ؟انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ تھوڑا سا دودھ ہے اللہ کے رسول ﷺ کے لیئے ۔سو ہمارےپاس لایا گیا ہم دونوں نے اس سے پیا یہاں تک کہ ہم نے کوئی شے نہیں چھوڑی ،پھر ہم سو گئے ،جب صبح ہوئی یا ہم نے صبح کی تو رسول اللہ ﷺ ہم کو جگانے لگے،اور آپ ایسےہی کرتے تھے۔کہا کہ آپ میرے پاس آئے ہیں ،میں اپنے چہرے کے بل لیٹا ہوا تھا ۔تو آپ نے فرمایا یہ کون ہے ؟میں نے عرض کی :یا رسول اللہ ! میں ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :اس طرح لیٹنے کو اللہ عزو جل نا پسند فرماتا ہے ۔
الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1436
