مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ جَارِيَةُ · حديث 2720
2720 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ أُسَيْدِ بْنِ جَارِيَةَ حَلِيفِ بَنِي زُهْرَةَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةَ رَهْطٍ عَيْنًا، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَاصِمَ بْنَ ثَابِتِ بْنِ أَبِي الْأَقْلَحِ، وَهُوَ جَدُّ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، فَانْطَلَقُوا، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْهَدَّةِ [ص:325]، بَيْنَ عُسْفَانَ وَمَكَّةَ ذُكِرُوا لِحَيٍّ مِنْ هُذَيْلٍ، يُقَالُ لَهُمْ بَنُو لِحْيَانَ فَنَفَرُوا لَهُمْ بِمِائَةِ رَجُلٍ رَامٍ فَاتَّبَعُوا آثَارَهُمْ حَتَّى وَجَدُوا مَأْكَلَهُمُ التَّمْرَ فَقَالُوا: هَذَا تَمْرُ يَثْرِبَ فَلَمَّا أَحَسَّ بِهِمْ عَاصِمٌ وَأَصْحَابُهُ لَجَأُوا إِلَى فَدْفَدٍ، فَقَالُوا: انْزِلُوا وَلَكُمُ الْعَهْدُ وَالْمِيثَاقُ أَلَّا نَقْتُلَ مِنْكُمْ، فَقَالَ عَاصِمٌ: أَمَّا أَنَا، فَلَا أَنْزِلُ فِي ذِمَّةِ كَافِرٍ الْيَوْمَ، اللَّهُمَّ بَلِّغْ نَبِيَّكَ السَّلَامَ فَقَاتَلُوهُمْ، فَقُتِلَ مِنْهُمْ سَبْعَةٌ، وَنَزَلَ ثَلَاثَةٌ فِي الْعَهْدِ وَالْمِيثَاقِ، فَلَمَّا اسْتَمْكَنُوا مِنْهُمْ حَلُّوا أَوْتَارَ قِسِيِّهِمْ فَكَتَّفُوهُمْ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ مِنْهُمْ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ قَالَ: هُوَ وَاللَّهِ أَوَّلُ الْغَدْرِ، فَتَعَالَجُوهُ فَقَتَلُوهُ، فَانْطَلَقُوا بِخُبَيْبِ بْنِ عَدِيٍّ وَزَيْدِ بْنِ الدَّثِنَةِ فَانْطَلَقُوا بِهِمَا إِلَى مَكَّةَ فَبَاعُوهُمَا، وَذَلِكَ بَعْدَ وَقْعَةِ بَدْرٍ، فَاشْتَرَى بَنُو الْحَارِثِ خُبَيْبًا، وَقَدْ كَانَ قَتَلَ الْحَارِثَ يَوْمَ بَدْرٍ قَالَتْ بِنْتُ الْحَارِثِ: فَكَانَ خُبَيْبٌ أَسِيرًا عِنْدَنَا، فَوَاللَّهِ إِنْ رَأَيْتُ أَسِيرًا قَطُّ كَانَ خَيْرًا مِنْ خُبَيْبٍ، وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ قِطْفًا مِنْ عِنَبٍ وَمَا بِمَكَّةَ يَوْمَئِذٍ مِنْ ثَمَرَةٍ، وَإِنْ هُوَ إِلَّا رِزْقٌ رَزَقَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خُبَيْبًا [ص:326] قَالَتْ: فَاسْتَعَارَ مِنِّي مُوسَى يَسْتَحِدُّ بِهِ لِلْقَتْلِ قَالَتْ: فَأَعَرْتُهُ إِيَّاهُ، وَدَرَجَ بُنَيٌّ لِي وَأَنَا غَافِلَةٌ، فَرَأَيْتُهُ مُجْلِسَهُ عَلَى صَدْرِهِ قَالَتْ: فَفَزِعْتُ فَزْعَةً عَرَفَهَا خُبَيْبٌ قَالَتْ: فَفَطِنَ بِي فَقَالَ: أَتَحْسَبِينِي أَنِّي قَاتِلُهُ، مَا كُنْتُ لِأَفْعَلَهُ قَالَتْ: فَلَمَّا اجْتَمَعُوا عَلَى قَتْلِهِ قَالَ لَهُمْ: دَعُونِي أُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ قَالَتْ: فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ: لَوْلَا أَنْ تَحْسَبُوا أَنَّ بِي جَزَعًا لَزِدْتُ قَالَ: فَكَانَ خُبَيْبٌ أَوَّلُ مَنْ سَنَّ الصَّلَاةَ لِمَنْ قُتِلَ صَبْرًا ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ أَحْصِهِمْ عَدَدًا، وَاقْتُلْهُمْ بَدَدًا، وَلَا تُبْقِ مِنْهُمْ أَحَدًا ثُمَّ قَالَ: [البحر الطويل] فَلَسْتُ أُبَالِي حَيْثُ أُقْتَلُ مُسْلِمًا ... عَلَى أَيِّ حَالٍ كَانَ فِي اللَّهِ مَصْرَعِي وَذَلِكَ فِي جَنْبِ الْإِلَهِ وَإِنْ يَشَأْ ... يُبَارَكْ عَلَى أَوْصَالِ شِلْوٍ مُمَزَّعِ قَالَ: وَبَعَثَ الْمُشْرِكُونَ إِلَى عَاصِمِ بْنِ ثَابِتٍ لِيُؤْتَوْا مِنْ لَحْمِهِ [ص:327] بِشَيْءٍ، وَكَانَ قَتَلَ رَجُلًا مِنْ عُظَمَائِهِمْ، فَبَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِثْلَ الظُّلَّةِ مِنَ الدَّبْرِ فَحَمَتْهُ مِنْ رُسُلِهِمْ، فَلَمْ يَسْتَطِيعُوا أَنْ يَأْخُذُوا مِنْ لَحْمِهِ شَيْئًا "
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بارہ آدمیوں کا لشکر بھیجا ، ان پر امیر عاصم بن ثابت بن ابی افلح کو بنایا جو عاصم بن عمر کے دادا ہیں ، وہ چلے یہاں تک کہ جب مقام ھدہ پر پہنچے جو عسفان اور مکہ کے درمیان ایک جگہ ہے تو قبیلہ حی بن ہذیل کو پتہ چلا ، ان کو بنو لحیان کہا جاتا ہے ، و ہ اپنے سو تیر انداز آدمیوں کو لے کر نکلے ، ان کا پیچھا کیا یہاں تک کہ انہوں نے پایا ، یہاں انہوں نے کھجوریں کھائی تھیں ، انہوں نے کہا : یہ یثرب کی کھجوریں ہیں ، جب اس کا علم عاصم اور اس کے ساتھیوں کو ہوا تو انہوں نے ایک پہاڑ کی پناہ لی ۔ ان کافروں نے کہا : اتو ! تمہارے لیے پختہ وعدہ ہے ، ہم تم میں سے کسی کو قتل نہیں کریں گے۔ حضرت عاصم نے فرمایا : بہر حال میں اپنے آپ کو کافر کے ذمہ میں نہیں اتاروں گا، آپ اے اللہ ! اپنے نبی کو سلام پہنچادے کہ انہوں نے ( آپ کے غلاموں ) کو قتل کر دیا ۔ ان میں سے سات کو قتل کردیا ، تین کو وعدہ اور میثاق پر اتار لیا، جب وہ ان کے قابو میں آگئے تو انہوں نے اپنی کمان کی رسیاں اتار کر ان کو باندھنا شروع کیا، میں نے ان تینوں میں سے ایک کو دیکھا ، اس نے کہا: اللہ کی قسم یہ پہلی وعدہ خلافی ہے۔ ان کوباندھا گیا ، اس کے بعد ان کو قتل کر دیا گیا ۔ وہ خبیب بن عدی اور زید بن دثنہ دونوں کو مکہ لے گئے ، وہاں دونوں کو فروخت کر دیا ، یہ واقعہ بدر کے بعد کا ہے۔ بنو حارث نے خبیب کو خریدا ، حضرت خبیب نے بدر کے دن حارث کو قتل کیا تھا۔بنت حارث نے کہا : خبیب ہمارا قیدی ہے، اللہ کی قسم ! میں نے خبیب سے بہتر قیدی نہیں دیکھا، اللہ کی قسم ! میں نے اس کو انگور کھاتے ہوئے دیکھا ہے، حالانکہ مکہ میں کوئی پھل ہی نہیں ، یہ اللہ نے خبیب کو رزق دیا ہے۔ بنت حارث کہتی ہے : خبیب نے مجھ سے استرا مانگا ، زیر ناف بال کاٹنے کے لیے ، میں نے اس کو عاریتاً دیا ، میرا بیٹا اس کی گود میں چلا گیا اس حال میں کہ میں اس سے غافل تھی، میں نے اس کو خبیب کے سینے پر دیکھا تو پریشان ہوئی ، خبیب کو میری پریشانی معلوم کر لی ، خبیب نے کہا : کیا تو گمان کرتی ہے کہ میں اسے قتل کردوں گا ، میں ہر گز ایسا کرنے والا نہیں ہوں ۔ پھر کہا: جب وہ سارے میرے قتل کے لیے جمع ہوئے ، میں نے ان سے کہا : مجھے دو رکعت نفل ادا کرنے دو ، پھر حضرت خبیب نے فرمایا :اگر مجھے تمہارے متعلق یہ بات معلوم نہ ہوتی کہ ڈر کی وجہ سے نما ز لمبی کررہا ہے تو میں نماز لمبی کرتا ۔ راوی حدیث فرماتے ہیں کہ حضرت خبیب نے سب سے پہلے قتل کے وقت نماز پڑھنے کا طریقہ شروع کیا۔ پھر عرض کی: اے اللہ ان کو گنا، ان کو ہلاک کر ، ان میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑنا ۔ پھر یہ اشعار پڑھے: مجھے کوئی پرواہ نہیں جب میں مسلمان ہونے کی حالت میں قتل کیا جارہا ہوں ، کسی حالت میں ہوں ، میں اللہ کی راہ میں قتل ہوا، میرا شہید ہونا اللہ کی راہ کے لیے ہے ، وہ چاہے تو بوسید ہ اور ریزہ ریزہ جوڑوں کو برکت دے۔ کافروں نے حضرت عاصم بن ثابت کی طرف بھیجا کہ ان کے جسم کے کسی حصہ کا گوشت لے کر آؤں کیونکہ حضرت عاصم نے کافروں کے کسی مردار کو مارا تھا، اللہ عزوجل نے ان کی حفاظت کے لیے شہد کی مکھیاں بھیجیں ، جو ان پر سایہ کیے ہوئے تھیں ، لہذا کافر ان کے جسم کا گوشت لینے میں ناکام رہے۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← كَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي هُرَيْرَةَ ← عُمَيْرِ بْنِ أُسَيْدِ بْنِ جَارِيَةَ حَلِيفِ بَنِي زُهْرَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2720
