مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ جَابِرٍ · حديث 1781
1781 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ صَبِيحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُبْحَ رَابِعَةٍ، مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ كُلُّنَا، فَأَمَرَنَا [ص:256] فَطُفْنَا بِالْبَيْتِ، وَصَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ، وَسَعَيْنَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَحِلُّوا» قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ: حِلُّ مَاذَا؟ قَالَ: «حِلُّ مَا يَحِلُّ لِلْحَلَالِ مِنَ النِّسَاءِ وَالطِّيبِ» فَغُشِيَتِ النِّسَاءُ وَسَطَعَتِ الْمَجَامِرُ، قَالَ: وَبَلَغَهُ أَنَّ بَعْضَهُمْ يَقُولُ: أَيَنْطَلِقُ أَحَدُنَا إِلَى مِنًى، وَذَكَرَهُ يَقْطُرُ مَنِيًّا؟ فَخَطَبَهُمْ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «إِنِّي لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنَ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ، وَلَوْ لَمْ أَسُقِ الْهَدْيَ لَأَحْلَلْتُ أَنَا، فَخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ» قَالَ جَابِرٌ: فَأَقَامَ الْقَوْمُ بِحِلِّهِمْ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَهَلُّوا بِالْحَجِّ، فَكَانَ الْهَدْيُ عَلَى مَنْ وَجَدَ، وَالصِّيَامُ عَلَى مَنْ لَمْ يَجِدْ، وَأَشْرَكَ بَيْنَهُمْ فِي هَدْيِهِمُ، الْجَزُورُ عَنْ سَبْعَةٍ وَالْبَقَرَةُ عَنْ سَبْعَةٍ، وَكَانَ طَوَافُهُمْ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ طَوَافًا وَاحِدًا، وَسَعْيًا وَاحِدًا، لِحَجِّهِمْ، وَعُمْرَتِهِمْ
حضرت عطاء ، حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ صبح کے وقت آئے جب ذی الحجہ کے چار دن گزر چکے تھے ، ہم سب نے حضرت کا احرام باندھا ہوا تھا، آپ نے ہم کو حکم دیا تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا اور ہم نے دو رکعتیں اد ا کیں اور ہم نے صفا و مروہ کے درمیان سعی کی ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : حلال ہو جاؤ ! ( یعنی احرام کھول دو ) ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ! حلال ہونے سے کیا مراد ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : عورتوں کے ساتھ جماع اور خوشبو کا استعمال اب حلال ہو گیا ہے ۔ پھر عورتوں کے ساتھ ہم بستری بھی کی گئی اور خوشبوئیں بھی استعمال ہوئیں ۔ ہم میں سے کوئی منیٰ کی طرف جا رہا ہوتا تھا اس حال میں کہ اس کے ذکر سے منی کے قطرے ٹپک رہے ہوں ، تو آپ نے صحابہ کرام کو خطبہ دیا، اللہ کی حمد اور تعریف کی ، پھر فرمایا : اگر مجھے اپنے معاملے کا پہلے سے پتا ہوتا جو مجھے بعد میں پتہ چلا ہے تو میں قربانی کا جانور لاتا اور اگر قربانی کا جانور نہ لے جاتا تو میں حلالی ہو جاتا، سو تم حج کے ارکان سیکھو۔ حضرت جابر فرماتے ہیں : ایک قوم کھڑی ہوئی احرام کے ساتھ یہاں تک کہ جب ترویہ کا دن تھا، انہوں نے حج کا احرام باندھا ، فرمایا : اور ہدی اس پر لازم ہے جو اسے پالے اور روزہ اس پر ہے جو ( ہدی ) نہ پائے اور قربانی میں ان کی اجازت دی اور ان کا طواف اور صفا و مروہ کے درمیان ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی تھی ، ان کے حج اور عمرہ کے لیے ۔
جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءٍ، ← الرَّبِيعُ بْنُ صَبِيحٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1781
