Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي داود الطيالسي

Musnad Abu Dawood Tayalisi

by Abu Dawood Tiyalisi

2,890 Hadith613 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ يَزِيدُ بْنُ أَبَانَ عَنْ أَنَسٍ · حديث 2217

2217 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا دُرُسْتُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبَانَ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ثَوْرَانِ عَقِيرَانِ فِي النَّارِ»

حضرت یزید ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :میں ایک قوم کے ساتھ بیٹھا جو نماز فجر سے لے کر سورج طلوع ہونے تک اللہ عزوجل کا ذکر کرتے ، وہ مجھے زیادہ محبوب ہے ان لوگوں سے جن پر سورج طلوع ہوا اور یہ کہ میں ذکر کروں اللہ کا نماز عصر سے لے کر سورج کے غروب ہونے تک ، یہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ غلام اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے آزاد کروں اور ان میں سے ہر ایک کی قیمت بارہ ہزار ہو۔ہمیں ان کی قیمت ایک ہی مجلس میں دی گئی ہو ، سو ان کی قیمت چھیانوے ہزار کے قریب پہنچ جائے اور یہاں جو کہا جاتا ہے کہ چار اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے ، اللہ کی قسم ! آپ نے آٹھ ہی فرمایا ، ان میں سے ہر ایک کی قیمت بارہ ہزار ہے۔

أَنَسٍ، رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ ← يَزِيدُ بْنُ أَبَانَ الرَّقَاشِيُّ، ← دُرُسْتُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2217

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ يَزِيدُ بْنُ أَبَانَ عَنْ أَنَسٍ · حديث 2218

2218 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا [ص:575] يَزِيدُ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَأَنْ أُجَالِسَ قَوْمًا يَذْكُرُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ إِلَى طُلُوعِ الشَّمْسِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ، وَلَأَنْ أَذْكُرَ اللَّهَ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ ثَمَانِيَةً مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ، دِيَةُ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمُ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا» فَحَسِبْنَا دِيَاتِهِمْ فِي مَجْلِسٍ فَبَلَغَتْ سِتَّةً وَتِسْعِينَ أَلْفًا، وَهَا هُنَا مَنْ يَقُولِ «أَرْبَعَةً مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ» وَاللَّهِ مَا قَالَ إِلَّا «ثَمَانِيَةً، دِيَةُ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمُ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا»

حضرت یزید رقاشی سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سال کے چھ دن کے روزے رکھنے سے منع : تین ایام تشریق کے اور ایک دن عیدالفطر کا اور ایک دن عیدالاضحیٰ کا اور خاص جمعہ کا روزہ ان دنوں کو خاص کیا گیا۔

أَنَسٍ، ← [ص:575] يَزِيدُ، ← مُحَمَّدٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2218

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ يَزِيدُ بْنُ أَبَانَ عَنْ أَنَسٍ · حديث 2219

2219 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ سِتَّةِ أَيَّامٍ مِنَ السَّنَةِ، ثَلَاثَةِ [ص:576] أَيَّامٍ مِنَ التَّشْرِيقِ، وَيَوْمِ الْفِطْرِ، وَيَوْمِ الْأَضْحَى، وَيَوْمِ الْجُمُعَةِ، مُخْتَصَّةً مِنَ الْأَيَّامِ»

حضرت یزید ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور دعا قبول ہوتی ہے۔ حضرت یزید فرماتے ہیں : اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اذان اور اقامت کے درمیان دعا رد نہیں ہوتی۔

«نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← أَنَسٍ، ← يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ ← الرَّبِيعِ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2219

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ يَزِيدُ بْنُ أَبَانَ عَنْ أَنَسٍ · حديث 2220

2220 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا نُودِيَ بِالصَّلَاةَ، فُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَاسْتُجِيبَ الدُّعَاءُ» قَالَ يَزِيدُ: وَكَانَ يُقَالُ: «الدُّعَاءُ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةُ لَا يُرَدُّ»

حضرت یزید ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ ایک دن روزہ رکھیں اور کوئی بھی افطار نہ کرے یہاں تک کہ میں اسے اجازت دوں ، پس لوگوں نے روزہ رکھا ، جب شام ہوئی تو ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آیا ، پس وہ عرض کرنے لگا : میں کل سے روزہ دار ہوں ، آپ میرے لیے اجازت دیں کہ میں افطار کر لوں ، تو آپ نے اسے اجازت دی ، اور ایک اور آدمی آیا اس نے بھی اسی طرح عرض کی تو آپ نے اس کو بھی اجازت دی، یہاں تک کہ ایک اور آدمی آیا ، اس نے عرض کی : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میرے گھر والوں میں سے دو نوجوانوں نے لگا تار دو دن سے روزے رکھے ہیں ، تو آپ ان کو بھی افطار کی اجازت دیں ! تو آپ نے اس سے اعراض کیا، پھر اس نے اپنی بات دہرائی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : وہ دو روزے کیسے ہیں ؟ کیسے وہ شخص روزہ دار ہو سکتا ہے جو لوگوں کا گوشت کھاتا ہے، تو جا! ان دونوں کو حکم دے کہ اگر دونوں روزہ دار ہوں تو وہ قے کریں ۔ پس دونوں نے ایسے ہی کیا، ان میں سے ہر ایک سے ایک لوتھڑا نکلا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا، آپ کو بتایا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر دونوں اسی حالت میں مر جائے جس حالت میں تھے تو ضرور ان دونوں کو آگ کھاتی۔

أَنَسٍ، ← يَزِيدُ: ← الرَّبِيعِ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2220

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ يَزِيدُ بْنُ أَبَانَ عَنْ أَنَسٍ · حديث 2221

2221 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَصُومُوا يَوْمًا وَلَا يُفْطِرَنَّ أَحَدٌ حَتَّى آذَنَ لَهُ، فَصَامَ النَّاسُ فَلَمَّا أَمْسَوْا جَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُ: ظَلْتُ مُنْذُ الْيَوْمِ صَائِمًا، فَأْذَنْ لِي فَلَأُفْطِرْ، فَيَأْذَنُ لَهُ، وَيَجِيءُ الرَّجُلُ فَيَقُولُ ذَلِكَ فَيَأْذَنُ لَهُ، حَتَّى جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فَتَاتَيْنِ مِنْ أَهْلِكَ ظَلَّتَا مُنْذُ الْيَوْمِ صَائِمَتَيْنِ فَأْذَنْ لَهُمَا فَلْيُفْطِرَا، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ أَعَادَ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا صَامَتَا، وَكَيْفَ صَامَ مَنْ ظَلَّ يَأْكُلُ لُحُومَ النَّاسِ، اذْهَبْ فَمُرْهُمَا أَنْ كَانَتَا صَائِمَتَيْنِ أَنْ يَسْتَقِيئَا» فَفَعَلَتَا، فَقَاءَتْ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا عَلَقَةً، فَأُتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «لَوْ مَاتَتَا وَهُمَا فِيهِمَا لَأَكَلَتْهُمَا النَّارُ»

حضرت یزید ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا : اپنی صفوں کو درست کرو اور مل کر کھڑے ہو ، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! میں شیطانوں کو تمہارے درمیان دیکھتا ہوں جیسے کہ بکری کا بچہ ہوتا ہے۔

أَنَسٍ، ← يَزِيدُ: ← الرَّبِيعِ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2221

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ يَزِيدُ بْنُ أَبَانَ عَنْ أَنَسٍ · حديث 2222

2222 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ، وَتَرَاصُّوا، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَرَى الشَّيَاطِينَ بَيْنَ صُفُوفِكُمْ كَأَنَّهَا غَنْمٌ عُفْرٌ»

حضرت یزید ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ظلم تین قسم کا ہے، ایک ظلم جس کو اللہ نہیں چھوڑتا اور ایک ظلم جس کو اللہ معاف کر دیتا ہے، اور ایک ظلم جس کو بخشا نہیں جاتا ، وہ ظلم جس کو اللہ تعالیٰ معاف نہیں کرتا وہ شرک ہے اللہ اس کو معاف نہیں کرتا ، اور وہ ظلم جس کو اللہ تعالیٰ معاف کرتا ہے وہ ظلم ہے جو اللہ اور اس کے بندے کے درمیان ہوتا ہے، اور وہ ظلم جس کو چھوڑا جاتا نہیں اللہ اس کے ذریعے بعض کا بعض سے انتقام لیتا ہے۔

النَّبِيِّ ← أَنَسٍ، ← يَزِيدُ: ← الرَّبِيعِ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2222

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ يَزِيدُ بْنُ أَبَانَ عَنْ أَنَسٍ · حديث 2223

2223 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الظُّلْمُ ثَلَاثَةٌ: فَظُلْمٌ لَا يَتْرُكُهُ اللَّهُ، وَظُلْمٌ يُغْفَرُ، وَظُلْمٌ لَا يُغْفَرُ، فَأَمَّا الظُّلْمُ الَّذِي لَا يُغْفَرُ فَالشِّرْكُ لَا يَغْفِرُهُ اللَّهُ، وَأَمَّا الظُّلْمُ الَّذِي يُغْفَرُ فَظُلْمُ الْعَبْدِ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَبِّهِ، وَأَمَّا الَّذِي لَا يُتْرَكُ فَقَصُّ اللَّهِ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ "

حضرت یزید ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا : جس نے جمعہ کے دن وضو کیا ، تو بھی ٹھیک ہے اور اچھا ہے اور غسل کیا ، تو غسل کرنا افضل ہے۔

أَنَسٍ، ← يَزِيدُ: ← الرَّبِيعِ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2223

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ يَزِيدُ بْنُ أَبَانَ عَنْ أَنَسٍ · حديث 2224

2224 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَوَضَّأِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَبِهَا وَنِعْمَتْ، وَمَنِ [ص:580] اغْتَسَلَ فَالْغُسْلُ أَفْضَلُ»

حضرت یزید فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے عرض کی: اے ابو حمزہ! آپ مشرکین سے بچوں کے متعلق کیا فرماتے ہیں ؟ تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جن کے گناہ نہیں ہوں گے ، ان کو عذاب دیا جائے گا، اور اہل جہنم سے ہوں گے ، اور جن کی نیکیاں نہیں ہوں گی تو ان سے درگزر کیا جائے گاپس وہ اہل جنت کے مملوک ہوں گے، وہ اہل جنت کے خادم ہوں گے۔

أَنَسٍ، ← يَزِيدُ: ← الرَّبِيعِ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2224

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ يَزِيدُ بْنُ أَبَانَ عَنْ أَنَسٍ · حديث 2225

2225 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ، عَنْ يَزِيدَ، قَالَ: قُلْنَا لِأَنَسٍ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، مَا تَقُولُ فِي أَطْفَالِ الْمُشْرِكِينَ؟ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:581]: «لَمْ تَكُنْ لَهُمْ سَيِّئَاتٌ، فَيُعَاقَبُوا بِهَا، فَيَكُونُوا مِنْ أَهْلِ النَّارِ، وَلَمْ تَكُنْ لَهُمْ حَسَنَاتٌ، فَيُجَازَوْا بِهَا فَيَكُونُوا مِنْ مُلُوكِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، هُمْ خَدَمُ أَهْلِ الْجَنَّةِ»

حضرت یزید ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھا پھر وہ مر گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا گیا کہ وہ مر گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ابھی وہ ہمارے ساتھ تھا، عرض کی : جی ہاں۔تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : گویا اس کی پکڑ غصہ پر ہوئی اور محروم وہ ہے جو وصیت سے محروم رہا۔

قُلْنَا لِأَنَسٍ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، مَا تَقُولُ فِي أَطْفَالِ الْمُشْرِكِينَ؟ فَقَالَ: ← يَزِيدُ: ← الرَّبِيعِ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2225

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ يَزِيدُ بْنُ أَبَانَ عَنْ أَنَسٍ · حديث 2226

2226 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا دُرُسْتُ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ مَاتَ، فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَدْ مَاتَ، قَالَ: «الَّذِي كَانَ عِنْدَنَا آنِفًا؟» قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَأَنَّهَا أَخْذَةٌ عَلَى غَضَبٍ، وَالْمَحْرُومُ مَنْ حُرِمَ وَصِيَّتَهُ»

حضرت حفصہ بن سیرین سے روایت ہے ، فرماتی ہیں کہ مجھ سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یحییٰ بن ابی عمرہ کیسے فوت ہوئے ہیں ؟ میں نے کہا : طاعون سے ، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : طاعون ہر مسلمان کے لیے شہادت ہے۔

أَنَسٍ، ← يَزِيدُ: ← دُرُسْتُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2226

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
1. Book
    70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter
1. Book
    364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter541. Chapter542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter