مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 573
573 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْعَائِذِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ فَقَالَ: لَا أُحَدِّثُكَ إِلَّا مَا سَمِعْتُ [ص:467] عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَحَابِّينَ فِيَّ، وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَوَاصِلِينَ فِيَّ، وحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَصَافِينَ فِيَّ، أَوْ قَالَ: حَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَبَاذِلِينَ فِيَّ "
حضرت ابو ادریس عائذی فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس آ یا ‘آپ نے فرمایا: کیا میں تجھے حضرت محمد ﷺ کی حدیث نہ سناؤں؟ جو میں نے آپ کی زبان مبارک سے سنی ( آپ نے فرمایا کہ اللہ عز وجل فرماتا ہے: )میری ذات کے لیے آپس میں محبت کرنے والوں کے لیے میری محبت واجب ہوگئی‘ اور میری محبت میری رضا کے لیے دو ملنے والوں کے لیے واجب ہوگئی‘ اور میری رضا کے لیے آ پس میں خرچ کر نے والوں کے لیے میری محبت واجب ہوگئی ۔
أبي إدريس العائذي ← الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 573
