مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ عُمَرُ بْنُ خَلْدَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ · حديث 2497
2497 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْمُعْتَمِرِ عَنْ عُمَرَ بْنِ خَلْدَةَ، قَالَ: أَتَيْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ فِي صَاحِبٍ لَنَا أُصِيبَ، يَعْنِي أَفْلَسَ، فَأَصَابَ رَجُلٌ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: هَذَا الَّذِي قَضَى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ «مَنْ أَفْلَسَ أَوْ مَاتَ فَأَدْرَكَ رَجُلٌ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ، إِلَّا أَنْ يَدَعَ الرَّجُلُ وَفَاءً»
حضرت عمر بن خلدہ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں کہ ہم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اپنے ایک صاحب کے معاملہ میں جس کا مال گم ہو گیا تھا، یعنی وہ مفلس ہوگیا تھا تو ایک آدمی کو بعینہ اس کا سامان ملا ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ وہی مسئلہ ہے کہ جس کو مفلس قرار دیا گیا، یا جو مر گیا۔ تو ایک آدمی نے اس کے سامان کی مثل سامان پایا تو وہ اس کا زیادہ حق دار ہے، مگر یہ آدمی اس کو پورا پورا دے دے۔
عُمَرَ بْنِ خَلْدَةَ ← أَبُو الْمُعْتَمِرِ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ
Hadith 2497
