مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَأَبُو الْعَبَّاسِ الْمَكِّيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو · حديث 2368
2368 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ الْمَكِّيَّ، وَكَانَ شَاعِرًا وَكَانَ لَا يُتَّهَمُ عَلَى الْحَدِيثِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْذِنُهُ فِي الْجِهَادِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:14]: «أَحَيٌّ وَالِدَاكَ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ»
حضرت ابو العباس کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا مجھے تیرے متعلق خبر نہیں دی گئی ، کہ تو ساری رات قیام کرتا ہے اور دن کو روزہ رکھتا ہے، اگر تو یہ کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں آنکھ دھنس جائے اور دل تھکاوٹ سے چور چور ہو جائے ، اس کا روزہ نہیں ہے جو ہمیشہ رکھے ، ہر ماہ میں تین دن روزے رکھنا سارے زمانے کے روزوں کے برابر ہے، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں اس سے زیادہ دن رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا : تو حضرت داؤد علیہ السلام والے روزے رکھا کر ، وہ ایک دن روزے رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے اور جب دشمن سے سامنا ہوتا تھا تو بھاگتے نہیں تھے۔
ففیھما فجاھد۔ ← نَعَمْ ← أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ يَسْتَأْذِنُهُ فِي الْجِهَادِ فَقَالَ النَّبِيُّ [ص:14]: «أَحَيٌّ وَالِدَاكَ؟» ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبَا الْعَبَّاسِ الْمَكِّيَّ، وَكَانَ شَاعِرًا وَكَانَ لَا يُتَّهَمُ عَلَى الْحَدِيثِ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2368
