مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ · حديث 2498
2498 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَتَوَضَّأُ عَلَى سَطْحٍ لَنَا، فَقُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، مِمَّ تَتَوَضَّأُ؟، قَالَ: مِنْ أَثْوَارِ أَقِطٍ أَكَلْتُهُ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارِ»
حضرت ابراہیم بن عبداللہ بن قارظ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ ہماری چھت پر وضو کررہے تھے، میں نے عرض کی : اے ابو ہریرہ ! آپ وضو کیوں کر رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : میں نے پنیر کے چند ٹکڑے کھائے ہیں ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس چیز کو آگ پر پکایا گیا اس ( یعنی اس کے کھانے پر وضو کرنا ہے( یعنی لغوی وضو ہاتھ دھونا اور کلی کرنا ) ۔
إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ ← عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ
Hadith 2498
