مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَيَزِيدُ بْنُ سُفْيَانَ أَبُو الْمُهَزِّمِ · حديث 2677
2677 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ سُفْيَانَ التَّمِيمِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " جُعْتُ جُوعًا شَدِيدًا فَصَلَّيْتُ الْمَغْرِبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ تَعَرَّضْتُ لِأَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ فَأَخَذَ بِيَدِي، فَسَأَلْتُهُ عَنْ آيَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ أَنَا أَعْلَمُ بِهَا مِنْهُ، فَمَشَيْتُ مَعَهُ حَتَّى بَلَغَ مَنْزِلَهُ، وَأَنَا أَرْجُو أَنْ يُدْخِلَنِي فَيُعَشِّيَنِي، فَلَمَّا بَلَغَ [ص:284] الْمَنْزِلَ أَرْسَلَ يَدَهُ مِنْ يَدِي وَدَخَلَ، ثُمَّ تَعَرَّضْتُ لِعُمَرَ فَفَعَلَ بِي مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ تَعَرَّضْتُ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَسَأَلْتُهُ عَمَّا سَأَلْتُهُمَا عَنْهُ، عَنْ آيَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ، فَلَمَّا بَلَغْنَا الْمَنْزِلَ قَالَ: ادْخُلْ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَتَعَشَّى، فَدَخَلْتُ فَقَالَ: يَا فَاطِمَةُ، عَشِّي أَبَا هُرَيْرَةَ، وَدَخَلَ الْخَلَاءَ فَأَطَالَ الْجُلُوسَ فِيهِ، وَكَذَلِكَ كَانَ يَفْعَلُ، فَدَعَتْ لِي بِجَرْدَقَةٍ، فَأَكَلْتُ، ثُمَّ دَعَتْ لِي بِسَوِيقٍ فَشَرِبْتُ، وَخَرَجَ عَلِيٌّ فَقَالَ: يَا فَاطِمَةُ، أَعَشَّيْتِ أَبَا هُرَيْرَةَ؟، قَالَتْ: نَعَمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ فَقَالَ: وَاللَّهِ لَأَنْ أَكُونَ وَلِيتُ مِنْ ذَلِكَ مَا وَلِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ أَوْ قَالَ: أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ "
حضرت یزید بن سفیان تمیمی ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے ایک دن شدید بھوک لگی، سو میں نے مغرب کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پڑھی ، پھر میں نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو اشارہ کیا، آپ نے میرا ہاتھ پکڑا تو میں نے آپ سے قرآن کی ایک آیت کے متعلق پوچھا، آپ مجھ سے زیادہ جانتے تھے، میں آپ کے ساتھ چلا یہاں تک کہ آپ اپنے گھر پہنچ گئے اور میں نے خیال کیا کہ مجھے اندر داخل کریں گے اور مجھے کھانا کھلائیں گے، سو جب وہ اپنے گھر پہنچے تو میرا ہاتھ اپنے ہاتھ سے چھوڑ دیا اور گھر چلے گئے، پھر میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے درپے ہوا، آپ نے بھی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرح اشارہ کیا، میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے درپے ہوا ، تو میں نے ان سے بھی وہی سوال کیا جو دونوں سے سوال کیا قرآن کی آیت کے متعلق ، جب ہم گھر پہنچے آپ نے فرمایا: اے ابوہریرہ ! داخل ہو جاؤ! میں تمہیں کھانا کھلاؤں ! تو میں داخل ہوگیا ۔ انہوں نے فرمایا: اے فاطمہ ! ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کھانا کھلا اور خود بیت الخلاء میں داخل ہو گئے ، دیر تک بیٹھے رہے، آپ اسی طرح کرتے تھے، میرے لیے جروقہ منگوائی گئی میں نے کھائیں ، پھر میرے لیے ستو منگوائے گئے تو میں نے پئے اور حضرت علی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے فاطمہ ! کیاابو ہریرہ کو کھانا دیا ہے؟ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : جی ہاں! سو یہ بات حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو آپ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں اس کام کا ولی بن جاؤ ں یہ مجھے سرخ اونٹوں سے زیادہ پسند ہے ، یا فرمایا: اس دن سے زیادہ پسند ہے جس دن سورج طلوع ہوا ہو۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← يَزِيدَ بْنِ سُفْيَانَ التَّمِيمِيِّ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2677
