مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَبُو مِجْلَزٍ وَغَيْرُهُ عَنْ أَبِي مُوسَى · حديث 514
514 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ أَبُو زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، قَالَ: صَلَّى الْأَشْعَرِيُّ وَهُوَ فِيمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ بِأَصْحَابِهِ الْعِشَاءَ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَةً قَرَأَ فِيهَا بِمِائَةٍ مِنَ النِّسَاءِ، أَوِ الْبَقَرَةِ، فَقِيلَ لَهُ: مَا هَذَا؟ قَالَ: «مَا أَلَوْتُ أَنْ أَضَعَ قَدَمَيَّ حَيْثُ وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْ أَصْنَعَ مَا صَنَعَ»
حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ حضرت (ابوموسٰی) اشعری رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان عشاء کی نماز پڑھی‘ پھر ایک رکعت پڑھی اور اس میں سورۃ النسا ، اور سورۃ البقر ہ کی سو آیات پڑھیں‘ آپ سے عرض کیا گیا: یہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا میں نہیں چاہتا کہ میں اپنا قدم وہاں رکھوں جہاں رسول اللہ ﷺنے رکھا ہے اور میں وہ کروں جو آ پ ﷺ نے نہیں کیا ہے۔
اَبِیْ مِجْلَزٍ، ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← ثَابِتُ أَبُو زَيْدٍ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ
Hadith 514
