Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي داود الطيالسي

Musnad Abu Dawood Tayalisi

by Abu Dawood Tiyalisi

2,890 Hadith613 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَبُو مِجْلَزٍ وَغَيْرُهُ عَنْ أَبِي مُوسَى · حديث 514

514 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ أَبُو زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، قَالَ: صَلَّى الْأَشْعَرِيُّ وَهُوَ فِيمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ بِأَصْحَابِهِ الْعِشَاءَ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَةً قَرَأَ فِيهَا بِمِائَةٍ مِنَ النِّسَاءِ، أَوِ الْبَقَرَةِ، فَقِيلَ لَهُ: مَا هَذَا؟ قَالَ: «مَا أَلَوْتُ أَنْ أَضَعَ قَدَمَيَّ حَيْثُ وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْ أَصْنَعَ مَا صَنَعَ»

حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ حضرت (ابوموسٰی) اشعری رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان عشاء کی نماز پڑھی‘ پھر ایک رکعت پڑھی اور اس میں سورۃ النسا ، اور سورۃ البقر ہ کی سو آیات پڑھیں‘ آپ سے عرض کیا گیا: یہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا میں نہیں چاہتا کہ میں اپنا قدم وہاں رکھوں جہاں رسول اللہ ﷺنے رکھا ہے اور میں وہ کروں جو آ پ ﷺ نے نہیں کیا ہے۔

اَبِیْ مِجْلَزٍ، ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← ثَابِتُ أَبُو زَيْدٍ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Hadith 514

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَبُو مِجْلَزٍ وَغَيْرُهُ عَنْ أَبِي مُوسَى · حديث 515

515 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: «مَنْ صَامَ الدَّهْرَ ضُيِّقَتْ عَلَيْهِ جَهَنَّمُ هَكَذَا» وَعَقَدَ عَلَى تِسْعِينَ لَمْ يَرْفَعْهُ شُعْبَةُ وَرَفَعَهُ سَعِيدٌ

حضرت ابوتمیمہ ‘حضرت ابوموسٰی اشعری رضی الله عنه سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جس نے ہمیشہ روز ہ رکھا اس پر جہنم اس طرح تنگ ہو جاۓ گی اور آپ نے نوے ( کے عدد ) کا حلقہ بنایا ۔ شعبہ نے اس حدیث کو مرفوع نہیں ذکر کیا اور سعید نے مرفوع ذکر کیا۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي تَمِيمَةَ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 515

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَبُو مِجْلَزٍ وَغَيْرُهُ عَنْ أَبِي مُوسَى · حديث 516

516 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ صَامَ الدَّهْرَ ضُيِّقَتْ عَلَيْهِ جَهَنَّمُ هَكَذَا وَعَقَدَ تِسْعِينَ»

حضرت ابوتمیمہ‘ حضرت ابوموسٰی اشعری رضی اللہ عنہ سے وہ نبی اکر مﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جس نے ہمیشہ روزہ رکھا اس پر ہم اس طرح تنگ ہو جاۓ گی اور آپ نے نوے( کے عدد ) کا حلقہ بنایا۔

"مَنْ صَامَ الدَّهْرَ ضُيِّقَتْ عَلَيْهِ جَهَنَّمُ هَكَذَا"، وَعَقَدَ تِسْعِينَ. ← النَّبِيِّ ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي تَمِيمَةَ، ← الضَّحَّاكِ بْنِ يَسَارٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 516

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَبُو مِجْلَزٍ وَغَيْرُهُ عَنْ أَبِي مُوسَى · حديث 517

517 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: «مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ كَمَثَلِ الْعَطَّارِ إِنْ لَمْ يُحِذْكَ مِنْ عِطْرِهِ أَصَابَكَ مِنْ رِيحِهِ وَمَثَلُ جَلِيسِ السُّوءِ كَصَاحِبِ الْكِيرِ إِنْ لَمْ يُصِبْكَ مِنْ نَارِهِ أَصَابَكَ مِنْ دُخَانِهِ» لَمْ يَرْفَعْهُ أَبُو دَاوُدَ

حضرت انس ( بن مالک )رضی اللہ عنہ حضرت ابوموسٰی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: نیک آدمی کے ساتھ اٹھنے والے کی مثال عطار کی سی ہے اس کی خوشبو تجھے پہنچ کر رہے گی اور برے آدمی کے پاس بیٹھنے والے کی مثال لو ہار کی سی ہے‘ اگر تجھ تک آگ نہ بھی پہنچے تو اس کا دھواں تجھ تک ضرور پہنچے گا۔ ابوداؤ د نے اسے مرفوع بیان نہیں کیا۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 517

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَبُو مِجْلَزٍ وَغَيْرُهُ عَنْ أَبِي مُوسَى · حديث 518

518 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ [ص:416]، قَالَ: سَمِعْتُ طَارِقَ بْنَ شِهَابٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُنِيخٌ بِالْبَطْحَاءِ فَقَالَ لِي: «كَيْفَ أَهْلَلْتَ؟» قَالَ: قُلْتُ: لَبَّيْكَ بِإِهْلَالٍ كَإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَحْسَنْتَ طُفْ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ أَحِلَّ» ، فَفَعَلْتُ وَأَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ بَنِي قَيْسٍ فَفَلَتَ رَأْسِي فَجَعَلْتُ أُفْتِي بِهِ النَّاسَ فَقَالَ لِي رَجُلٌ: يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ رُوَيْدًا بِبَعْضِ فُتْيَاكَ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي شَأْنِ النُّسُكِ بَعْدَكَ قَالَ: قُلْتُ: مَنْ أَفْتَيْتُهُ بِشَيْءٍ فَلْيَتَّئِدْ فَإِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَادِمٌ عَلَيْهِ فَبِهِ فَائْتَمُّوا قَالَ: فَقَدِمَ فَأَتَيْتُهُ فَذَكَرْتُ لَهُ فَقَالَ: إِنْ نَأْخُذْ بِكِتَابِ اللَّهِ فَإِنَّ كِتَابَ اللَّهِ يَأْمُرُنَا بِالتَّمَامِ وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَحِلَّ حَتَّى بَلَغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ

حضرت طارق بن شہاب‘ حضرت ابوموسٰی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ میں نبی اکر مﷺ کی بارگاہ میں آ یا ‘اس حال میں کہ آپ بطحاء کے مقام میں ٹھہرے ہوۓ تھے‘ آپ نے مجھے فر مایا تم نے کس نیت سے احرام باندھا؟ کہا کہ میں نے عرض کی "لَبَّيْكَ بِإِهْلَالٍ كَإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‘‘ ا ٓپ ﷺ نے فرمایا :تو نے اچھا کیا ‘بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کر و پھر احرام کھول دے‘ سو میں نے ایسے ہی کیا اور میں بنی قیس کی ایک عورت کے پاس آیا ‘اس نے میرے سر کی جو یں نکالیں اور میں لوگوں کو یہی فتوی ٰدیتا رہا۔ تو ایک آدی نے مجھے آ کر کہا :اے عبداللہ بن قیس! فتویٰ دینے میں جلدی سے مت کام لیجئے کیونکہ تیرے بعد امیر المومنین ( حضرت عمر فاروق رضي الله عنه )نے مناسک حج کے حوالے سے کچھ نئے احکامات جاری کیے ہیں۔ میں نے لوگوں کو کہا کہ جسے میں نے حج کے حوالے سے کوئی فتویٰ دیا ہو وہ رک جائے کیونکہ امیرالمؤمنین آنے والے ہیں ان کی اقتداء کرنا۔ کہا کہ آپ ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ ) جب آۓ تو میں نے آپ سے اس حوالے سے گفتگو کی ( کہ کیا آپ نے حج کے نئے احکامات جاری کیے ہیں ) آپ ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ ) نے فرمایا: اگر ہم کتاب اللہ کو لیں تو بے شک کتاب اللہ ہمیں اسے مکمل کرنے کا حکم دیتی ہے اور اگر ہم اللہ کے رسول ﷺ کی سنت کولیں تو بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی کے جانور کے اپنے مقام تک پہنچنے تک احرام نہیں کھولا تھا۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 518

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَبُو مِجْلَزٍ وَغَيْرُهُ عَنْ أَبِي مُوسَى · حديث 519

519 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يُونُسَ [ص:417] بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ، أَنَّ الْأَشْعَرِيَّ، صَلَّى بِأَصْحَابِهِ صَلَاةً فَلَمَّا جَلَسَ فِي صَلَاتِهِ قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ خَلْفَهُ: أُقِرَّتِ الصَّلَاةُ بِالْبِرِّ وَالزَّكَاةِ فَلَمَّا قَضَى الْأَشْعَرِيُّ صَلَاتَهُ قَالَ: أَيُّكُمُ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا؟ فَأَرَمَّ الْقَوْمُ فَقَالَ: يَا حِطَّانُ لَعَلَّكَ قُلْتَهَا قُلْتُ: مَا قُلْتُهَا وَلَقَدْ رَهِبْتُ أَنْ تَبْكَعَنِي بِهَا، فَقَالَ الْأَشْعَرِيُّ: أَمَا تَعْلَمُونَ مَا تَقُولُونَ فِي صَلَاتِكُمْ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا فَعَلَّمَنَا سُنَّتَنَا وَبَيَّنَ لَنَا صَلَاتَنَا فَقَالَ: " أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ فَإِذَا كَبَّرَ الْإِمَامُ فَكَبِّرُوا وَإِذَا قَالَ: وَلَا الضَّالِّينَ فَقُولُوا: آمِينَ يُجِبْكُمُ اللَّهُ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا فَإِنَّ الْإِمَامَ يَرْكَعُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ " قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَتِلْكَ بِتِلْكَ وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ يَسْمَعِ اللَّهُ لَكُمْ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَإِذَا كَبَّرَ وَسَجَدَ فَكَبِّرُوا وَاسْجُدُوا فَإِنَّ الْإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ "، قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَتِلْكَ بِتِلْكَ فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ فَلْيَكُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدِكُمْ: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ الطَّيِّبَاتُ [ص:418] الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ "

حضرت حطان بن عبداللہ رقاشی سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ( ابوموسٰی ) اشعری رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو نماز پڑ ھائی جب نماز میں بیٹھے تو لوگوں میں سے ایک آدمی نے پیچھے سے کہا نماز کو نیکی اور زکو ٰۃسےقرار دیا گیا ہے ‘جب حضرت ابوموسٰی رضی اللہ عنہ نے اپنی نماز مکمل کی تو آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوۓ‘ فرمایا: تم میں سے کس نے اس طرح کہا؟ تو قوم خاموش ہوگئی‘ آ پ نے فرمایا: اے حطان! شاید تو نے یہ کلمات کہے ہوں ‘میں نے کہا: میں نے یہ کلمات نہیں کہے ‘اور بے شک میں بھی ڈر رہا تھا کہ آپ مجھے بیوقوف نہ کہیں ۔ حضرت ابوموسٰی اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تم نہیں جانتے کہ تم کو اپنی نماز میں کیا پڑھنا چاہیے؟ بے شک رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک مرتبہ خطبہ دیا او رہم کو سنتیں سکھلا ئیں اور ہمیں نماز کا طریقہ بتلا یا‘ فرمایا: اپنی صفیں سیدھی رکھا کرو پھر ایک جوتم میں سے قاری ہو ‘وہ تمہاری امامت کرائے اور جب وہ اللہ اکبر کے تو تم بھی اللہ اکبر کہواور جب وہ ولا لضالین کہے تو تم آمین کہو اللہ تمہاری پکا رقبول کرے گا اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور کیونکہ اما م تم سے پہلے اٹھے گا اور تم سے پہلے رکوع کرے گا ۔ اور اللہ کے نبی ﷺنے فرمایا :یہ تو برابر برابر ہوگیا اور جب امام سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم کہو اللھم ربنا لک الحمد‘ اللہ تمہاری سنے گا اور بے شک اللہ عزوجل نے اپنے نبی کریم مﷺ کی زبان پر کہا ہے: سمع اللہ لمن حمدہ اور جب امام اللہ اکبر کہے اور سجدہ کرے تو تم بھی اللہ اکبر کہو اور سجدہ کرو ‘بےشک امام تم سے پہلے سجدہ کرتا ہے اور تم سے پہلے اٹھتا ہے ۔ اللہ کے نبی ﷺنے فرمایا : یہ برابر برابر ہو گیاپس جب اما م قعدہ میں بیٹھے تو تم سے ہر ایک سب سے پہلے یہ پڑ ھے التحيات’’ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ‘‘

حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ، ← يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 519

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَبُو مِجْلَزٍ وَغَيْرُهُ عَنْ أَبِي مُوسَى · حديث 520

520 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ الْأَشْعَرِيَّ، اسْتَأْذَنَ عَلَى عُمَرَ ثَلَاثًا فَلَمْ يَأْذَنْ لَهُ فَرَجَعَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ: مَا رَدَّكَ؟ فَقَالَ: إِنِّي اسْتَأْذَنْتُ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا اسْتَأْذَنَ الْمُسْتَأْذِنُ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَلْيَرْجِعْ» ، فَقَالَ: لَتَأْتِيَنِّي بِمَنْ يَعْلَمُ هَذَا أَوْ لَأَفْعَلَنَّ بِكَ وَلَأَفْعَلَنَّ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: جَاءَنِي الْأَشْعَرِيُّ يُرْعَدُ قَدِ اصْفَرَّ وَجْهُهُ فَقَامَ عَلَى حَلْقَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلًا [ص:419] عَلِمَ مِنْ هَذَا عِلْمًا إِلَّا قَامَ بِهِ فَإِنِّي قَدْ خِفْتُ هَذَا الرَّجُلَ عَلَى نَفْسِي فَقُلْتُ: أَنَا مَعَكَ فَقَالَ آخَرُ: وَأَنَا مَعَكَ فَسُرِّيَ عَنْهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے که حضرت ابوموسٰی اشعری رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے تین مرتبہ اجازت مانگی ‘آپ کو اجازت نہیں ملی ‘تو آپ واپس آ گئے‘ آپ ( حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ) نے ان کی طرف آ دمی بھیجا کہ وہ کیوں واپس لوٹ گئے ‘( حضرت ابوموسٰی اشعری رضی اللہ عنہ) نے عرض کی: میں نے آپ سے تین مرتبہ اجازت مانگی لیکن آپ نے مجھے اجازت نہیں دی اور میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ جب تم سے اجازت مانگنے والا تین مرتبہ اجازت مانگے اور اس کو اجازت نہ ملے تو وہ واپس چلا جاۓ‘ ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے )فرمایا: اس حد یث پرگواہ لاؤ جو اسے جانتا ہو ورنہ میں تمہارے ساتھ ایسا ایسا برتاؤ کروں گا۔ حضرت ابوسعید خدری فرماتے ہیں کہ حضرت ابوموسٰی اشعری میرے پاس آۓ اور ڈ ر ہے تھے اور ان کا رنگ پیلا پڑ گیا تھا‘ آپ نبی اکرم ﷺ کے صحابہ کرام کے مجمعے میں کھڑے ہوۓ ‘کہا میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں ‘کیا کوئی آدمی ہے جو اس حدیث کے متعلق گواہی دے ‘بے شک میں خوف کرتا ہوں اس آ دمی سے اپنی جان پر ۔ ( حضرت ابوسعید خدری فرماتے ہیں کہ ) میں نے کہا: میں آپ کے ساتھ ہوں‘ تو ایک دوسرے آدمی نے کہا: میں بھی تمہارے ساتھ ہوں تو ان کی پریشانی دور ہوگئی ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← دَاوُدُ، ← وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 520

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَبُو مِجْلَزٍ وَغَيْرُهُ عَنْ أَبِي مُوسَى · حديث 521

521 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا أَسْوَدَ كَانَ قَدِمَ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ الْبَصْرَةَ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ ابْنُ عَبَّاسٍ الْبَصْرَةَ حُدِّثَ بِأَحَادِيثَ عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْهَا فَكَتَبَ إِلَيْهِ الْأَشْعَرِيُّ: إِنَّكَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ زَمَانِكَ وَإِنِّي لَمْ أُحَدِّثْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا بِشَيْءٍ إِلَّا أَنِّي كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرَادَ أَنْ يَبُولَ فَمَالَ إِلَى دَمْثِ حَائِطٍ فَبَالَ وَقَالَ [ص:420]: «إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَ إِذَا أَصَابَ أَحَدَهُمُ الْبَوْلُ قَرَضَهُ بِالْمَقْرَاضَيْنِ» ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَإِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَبُولَ فَلْيَرْتَدْ لِبَوْلِهِ

حضرت ابوالتیاح فرماتے ہیں کہ میں نے ایک کالے آدمی سے سنا ‘وہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہماکے ساتھ بصرہ میں آ یا‘ جب حضرت عبد اللہ بن عباس بصرہ میں آۓ تو انہوں نے حضرت ابوموسٰی اشعری رضی اللہ عنہ کی حدیثیں بیان کیں جو نبی اکرم ﷺ کے حوا لے سے تھیں‘ تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت اشعری رضی اللہ عنہ کی طرف اس کے متعلق پوچھنےکے لیے خط لکھا تو حضرت ابوموسٰی اشعری نے جوابا خط لکھا کہ آپ اپنے زمانے کے ایک معتبر آ دمی ہیں‘ اور میں رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے کوئی چیز بیان نہیں کرتا سواۓ اس کے کہ میں رسول اللہ ﷺکے ساتھ تھا ‘آپ ﷺنے پیشاب کا ارادہ کیا تو آپ نے ایک باغ کے پہلو میں نرم زمین کے قریب پہنچ کر پیشاب کیا اور فرمایا: بے شک بنی اسرائیل میں سے جب کوئی پیشاب کرتا تو پیشاب ان میں سے کسی کے جسم پر لگ جاتا تو اس جگہ کو قینچیوں سے کاٹ دیا جا تا ۔ حضرت ابوسعید خدری فرماتے ہیں: پس جب تم میں سے کوئی پیشاب کا ارادہ کرے تو اسے چاہیے کہ دوز مین نرم کر لیا کر ے ۔

إِلَيْهِ الْأَشْعَرِيُّ إِنَّكَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ زَمَانِكَ، وَإِنِّي لَمْ أُحَدِّثْ ← إِلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْهَا ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← لَمَّا قَدِمَ ابْنُ عَبَّاسٍ الْبَصْرَةَ حُدِّثَ بِأَحَادِيثَ ← رَجُلًا أَسْوَدَ كَانَ قَدِمَ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ الْبَصْرَةَ ← أَبِي التَّيَّاحِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 521

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَبُو مِجْلَزٍ وَغَيْرُهُ عَنْ أَبِي مُوسَى · حديث 522

522 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا كَانَتْ مَعَكَ أَسْهُمٌ فَخُذْ بِنُصُولِهَا أَنْ لَا تَجْرَحَ مُسْلِمًا أَوْ تَخْرِقَ ثَوْبَهُ» ، قَالَ الْأَشْعَرِيُّ [ص:421]: وَهَؤُلَاءِ يَأْمُرُونِي أَنْ أَسْتَقْبِلَ بِهَا حَدَقَ الْمُسْلِمِينَ

حضرت ابو برده بن ابوموسٰی اپنے والد سے اور وہ نبی اکرﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا: جب تیرے پاس تیر ہوتو ان کو اپنے ترکش میں ڈال لیا کر تا کہ تو کسی مسلمان کو زخمی نہ کرے اور نہ اس کے کپڑے کو پھاڑے۔ حضرت اشعری نے فرمایا :اور یہ ( امراء وقت) ہمیں حکم دیتے ہیں کہ ہم اسے مسلمان پرچلائیں۔

أَبِيهِ ← أبي بردة بن أبي موسى ← أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 522

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَبُو مِجْلَزٍ وَغَيْرُهُ عَنْ أَبِي مُوسَى · حديث 523

523 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَيْهِ جَنَازَةٌ يُسْرِعُونَ بِهَا الْمَشْيَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِيَكُنْ عَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ»

حضرت ابو برده حضرت ابوموسٰی (اشعری )رضی اللہ عنہ سے روایت کر تے ہیں کہ نبی اکرﷺ کے پاس سے جنازہ گز را ‘اسے تیزی سے لے کر جا رہے تھے‘ تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا: تم پر سکون لازم ہے (یعنی جناز ہ آ رام سے لے کر چلو )۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← لَيْثٌ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 523

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَبُو مِجْلَزٍ وَغَيْرُهُ عَنْ أَبِي مُوسَى · حديث 524

524 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرَّ عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ وَهِيَ يُسْرَعُ بِهَا وَهِيَ تَمَخَّضُ تَمَخُّضَ الزِّقِّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكُمْ بِالْقَصْدِ [ص:422] فِي الْمَشْيِ بِجَنَائِزِكُمْ»

حضرت ابو برده ‘حضرت ابوموسٰی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکر ﷺ کے پاس سے جنازہ گز را‘ تو اسے تیزی سے لے کر جا یا جا رہا تھا اور وہ ہچکولے کھا رہا تھا‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم پر تمہارے جنازے اٹھا کر لے جانے میں میانہ روی لازم ہے۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← لَيْثٌ، ← زَائِدَۃَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 524

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَبُو مِجْلَزٍ وَغَيْرُهُ عَنْ أَبِي مُوسَى · حديث 525

525 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ»

حضرت بو برده ‘حضرت ابوموسٰی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا: نکاح ولی کی اجازت کے بغیر نہیں ہوتا ہے ۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 525

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
1. Book
    70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter
1. Book
    364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter541. Chapter542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter