Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي داود الطيالسي

Musnad Abu Dawood Tayalisi

by Abu Dawood Tiyalisi

2,890 Hadith613 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 31

31 - حَدَّثَنَا يُونُسُ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالْجَابِيَةِ فَقَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقَامِي فِيكُمْ، فَقَالَ: «أَكْرِمُوا أَصْحَابِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَفْشُو الْكَذِبُ حَتَّى يَحْلِفَ الرَّجُلُ وَلَمْ يُسْتَحْلَفْ، وَيَشْهَدَ [ص:35] وَلَمْ يُسْتَشْهَدْ، فَمَنْ أَرَادَ بُحْبُوحَةَ الْجَنَّةِ فَلْيَلْزَمِ الْجَمَاعَةَ؛ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ وَهُوَ مِنَ الِاثْنَيْنِ أَبْعَدُ، وَلَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ؛ فَإِنَّ ثَالِثَهُمَا الشَّيْطَانُ، وَمَنْ سَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ وَسَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ»

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہم کو مقام جابیہ میں خطبہ دیا ‘فرمایا کہ رسول اللہﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوۓ ‘جس جگہ آج میں تمہارے درمیان کھڑا ہوں‘ آپ نے فرمایا: میرے صحابہ کی تعظیم کرو‘ پھر ان لوگوں کی جوان سے ملے‘ پھر وہ لوگ جو ان سے ملے‘ پھر اس کے بعد جھوٹ ظاہر ہو گا یہاں تک کہ ایک آدی قسم اُٹھائے گا‘ اور اس سے قسم کا مطالبہ نہیں کیا جاۓ گا ‘اور وہ گواہی دے گا حالانکہ اس سے گواہی طلب نہیں کی جاۓ گی‘ پس جو آ دی جنت کی تمنا رکھتا ہے‘ وہ جماعت کو لازم پکڑۓ ‘بے شک شیطان ایک کے ساتھ ہوتا ہے اور وہ دو سے بہت دور ہوتا ہے‘ اور کوئی آدمی کسی عورت سے تنہائی میں نہ ر ہے‘ کیونکہ تیسرا اُن دونوں کے ساتھ شیطان ہوتا ہے‘ اور جس کو نیکی اچھی لگے اور بُرائی بُری لگے تو وہ مؤمن ہے۔

قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ مَقَامِي فِيكُمْ، ← خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِالْجَابِيَةِ، ← جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 31

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 32

32 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ الْمُزَنِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ زَمَنَ الْأَقِطِ وَالسَّمْنِ وَالْأَعْرَابُ يَأْتُونَ بِالْبُرْقَانِ [ص:37] فَيَبِيعُونَهَا فَإِذَا أَنَا بِرَجُلٍ طَامِحٍ بَصَرُهُ يَنْظُرُ إِلَى النَّاسِ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ غَرِيبٌ فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَيَّ وَقَالَ لِي: مِنْ أَهْلِ هَذِهِ أَنْتَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ فَجَلَسْتُ مَعَهُ فَقُلْتُ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ فَقَالَ: مِنْ هِلَالٍ وَاسْمِي كَهْمَسٌ أَوْ قَالَ لِي: مِنْ بَنِي سَلُولٍ وَاسْمِي كَهْمَسٌ ثُمَّ قَالَ: أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا شَهِدْتُهُ مِنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ؟ فَقُلْتُ: بَلَى قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَهُ إِذْ جَاءَتِ امْرَأَةٌ فَجَلَسَتْ إِلَيْهِ فَقَالَتْ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ زَوْجِي قَدْ كَثُرَ شَرُّهُ وَقَلَّ خَيْرُهُ فَقَالَ لَهَا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَمَنْ زَوْجُكِ؟ قَالَتْ: أَبُو سَلَمَةَ قَالَ: إِنَّ ذَاكَ الرَّجُلَ رَجُلٌ لَهُ صُحْبَةٌ وَإِنَّهُ لَرَجُلُ صِدْقٍ ثُمَّ قَالَ عُمَرُ لِرَجُلٍ عِنْدَهُ جَالِسٍ: أَلَيْسَ كَذَلِكَ؟ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا بِمَا قُلْتَ فَقَالَ عُمَرُ لِرَجُلٍ: قُمْ فَادْعُهُ لِي وَقَامَتِ الْمَرْأَةُ حِينَ أَرْسَلَ إِلَى زَوْجِهَا فَقَعَدَتْ خَلْفَ عُمَرَ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَاءَا مَعًا حَتَّى جَلَسَا بَيْنَ يَدَيْ عُمَرَ فَقَالَ عُمَرُ: مَا تَقُولُ فِي هَذِهِ الْجَالِسَةِ خَلْفِي؟ قَالَ: وَمَنْ هَذِهِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: هَذِهِ امْرَأَتُكَ قَالَ: وَتَقُولُ مَاذَا؟ قَالَ: تَزْعُمُ أَنَّهُ قَدْ قَلَّ خَيْرُكَ وَكَثُرَ شَرُّكَ قَالَ: بِئْسَ مَا قَالَتْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّهَا لَمِنْ صَالِحِ نِسَائِهَا أَكْثَرُهُنَّ كِسْوَةً وَأَكْثَرُهُنَّ رَفَاهِيَةً وَلَكِنَّ فَحْلَهَا بَكِيءٌ، قَالَ عُمَرُ: مَا تَقُولِينَ؟ فَقَالَ: قَالَتْ: صَدَقَ فَقَامَ إِلَيْهَا عُمَرُ بِالدِّرَّةِ فَتَنَاوَلَهَا بِهَا ثُمَّ قَالَ: أَيْ عَدُوَّةَ نَفْسِهَا [ص:38] أَكَلْتِ مَالَهُ وَأَفْنَيْتِ شَبَابَهُ ثُمَّ أَنْشَأْتِ تُخْبِرِينَ بِمَا لَيْسَ فِيهِ فَقَالَتْ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَا تَعْجَلْ فَوَاللَّهِ لَا أَجْلِسُ هَذَا الْمَجْلِسَ أَبَدًا ثُمَّ أَمَرَ لَهَا بِثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ فَقَالَ: خُذِي لِمَا صَنَعْتُ بِكِ وَإِيَّاكِ أَنْ تَشْتَكِيَنَّ هَذَا الشَّيْخَ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهَا قَامَتْ وَمَعَهَا الثِّيَابُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى زَوْجِهَا فَقَالَ: لَا يَحْمِلَنَّكَ مَا رَأَيْتَنِي صَنَعْتُ بِهَا أَنْ تُسِيءَ إِلَيْهَا، انْصَرَفَا فَقَالَ الرَّجُلُ: مَا كُنْتُ لِأَفْعَلَ ثُمَّ قَالَ عُمَرُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِي أَنَا مِنْهُ ثُمَّ الثَّانِي ثُمَّ الثَّالِثُ ثُمَّ يَنْشَأُ قَوْمٌ تَسْبِقُ أَيْمَانُهُمْ شَهَادَتَهُمْ يَشْهَدُونَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُسْتَشْهَدُوا، لَهُمْ لَغَطٌ فِي أَسْوَاقِهِمْ» ، قَالَ: قَالَ لِي كَهْمَسٌ: أَفَتَخَافُ أَنْ يَكُونَ هَؤُلَاءِ مِنْ أُولَئِكِ ثُمَّ قَالَ لِي كَهْمَسٌ: إِنِّي أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِإِسْلَامِي ثُمَّ غِبْتُ عَنْهُ حَوْلًا ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَأَنَّكَ تُنْكِرُنِي؟ فَقَالَ: «أَجَلْ» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَفْطَرْتُ مُنْذُ فَارَقْتُكَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَمَنْ أَمَرَكَ أَنْ تُعَذِّبَ نَفْسَكَ صُمْ يَوْمًا مِنَ الشَّهْرِ» ، فَقُلْتُ: زِدْنِي قَالَ: «فَصُمْ يَوْمَيْنِ» ، حَتَّى قَالَ: «فَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ»

حضرت معاویہ بن قرۃ المز نی روایت کرتے ہوۓ فرماتے ہیں کہ میں قحط سالی کے زمانے میں نبی اکرم ﷺکے پاس آیا ‘حالانکہ دیہاتی لوگ بھیٹر کے بچے لا کر وہاں فروخت کر رہے تھے اور جب ایسے شخص کے ساتھ موجود تھا‘ جس کی نگا ہ لوگوں پر پڑ رہی تھی‘ مجھے گمان ہوا کہ وہ ایک اجنبی انسان ہے‘ اس کے قریب جا کر میں نے اس پر سلام کیا ‘اس نے میرے سوال کا جواب دینے کے بعد پوچھا :کیا آپ انہی لوگوں میں سے ہیں؟ تو میں نے جواب ہاں میں دیا۔ پھر میں اس کے ساتھ بیٹھ گیا اور پوچھا کیا: تمہارا تعلق انہی لوگوں سے ہے؟ تو جواب دیتے ہوۓ بولا : قبیلہ ہلال سے میں تعلق رکھتا ہوں اور میرا نام کہمس ہے ‘یا مجھ سے یہ کہا ( راوی کو شک ہے )میں بنی سلول سے تعلق رکھتا ہوں اور میرا نام کہمس ہے ۔ اس نے پھر کہا: میں تمہیں وہ بات نہ بتاؤں جو میں نے حضرت عمر بن الخطاب کی موجودگی میں سنی تھی ‘میں جواباً بولا: کیوں نہیں! تو وہ کہنے لگا: ہم حضرت عمر بن الخطاب کے پاس بیٹھے ہوۓ تھے‘ اسی دوران ایک دورت بھی آپ کے پاس بیٹھ گئی اور کہنے لگی: اے امیرالمؤمنین !میرے خاوند کی بُرائیاں بڑھ چکی ہیں اور نیکیاں کم ہو چکی ہیں‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا کہ تمہا را خاوند کون ہے؟ اس عورت نے ابوسلمہ کا نام لیا تو آپ نے فرمایا: و ہ شخص صحابی رسول ﷺہے نیز وہ سچائی کا پیکر بھی ہے‘ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے پاس بیٹھے ہو ۓ شخص سے پوچھا: کیاوہ ایسا نہیں ہے؟ اس شخص نے جواب دیا: میں آپ کی بات کی تائید کرتا ہوں ‘پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو حکم دیا کہ جاؤ ! اسے میرے پاس بلا لاؤ ! تو وہ عورت کھڑی ہوگئی ‘جب آپ نے اس کے شوہر کو بلوانے کیلئے ( دوسرے آدمی کو ) بھیجا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھ گئی ‘تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ وہ دونوں اکٹھے آۓ اور آپ کے سامنے آ کر بیٹھ گئے ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: میرے پیچے بیٹھنے والی عورت کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے؟ پھر اس نے پوچھا اے امیرالمؤمنین! یہ کون ہے؟ آپ نے جوابا ً ارشادفرمایا: یہ تمہاری وجہ ہے‘ پھر حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہ کیا کہتی ہے؟ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیتے ہوۓ فرمایا :تمہاری بیوی کا خیال ہے کہ تمہاری بھلائیاں کم ہو چکی ہیں جبکہ بُرائیاں بڑھ چکی ہیں ۔ حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ جواب دیتے ہوۓ بولے: اے امیر المؤمنین ! میری بیوی نے جو کچھ بھی کہا ہے‘ غلط کہا ہے‘ تحقیق اس کا تعلق ان امیر عورتوں سے ہے جن کے پاس پہنے کے کپڑے بھی زیادہ ہیں اور وہ خوشحال زندگی بسر کرنے والی ہیں لیکن ان کےخادند آ نسو بہار ہے ہیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس عورت سے پوچھا: تمہارا کیا خیال ہے؟ تو اس عورت نے اپنے خاوند کی تصدیق کر دی۔ بعد از یں حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے ہاتھ میں درہ لے کر اس عورت سے مخاطب ہوئے: اے اپنے نفس کی دشمن !تُو نے اپنے خاوند کے مال کو کھایا اس کی جوانی کو ضائع کیا اب تُو کہتی ہے کہ اس کے پاس کچھ بھی نہیں۔ پھر وہ عورت بولی: اے امیر المومنین! جلدی سے کام نہ لیں‘ اللہ کی قسم! میں اس مجلس میں کبھی بھی نہیں بیٹھوں گی‘ پھر آپ نے اس کیلئے تین کپڑوں کا حکم دیا ‘پھر آپ نے اس عورت سے کہا: تم وہ مال لے لو جو میں نے تمہیں دینے کا اعلان کیا ہے اور اس بوڑھے شخص کی شکایت کرنے سے اجتناب کر ۔ ( راوی کہتا ہے) گویا میں اس عورت کو ( اب بھی )دیکھ رہا ہوں کہ وہ کپڑوں سمیت کھڑی ہو گی پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس کے خاوند کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے: میری طرف سے کیا گیا سلوک تمہیں اس بات پر برانگیختہ نہ کرے کہ تم اس کے ساتھ بدسلوکی سے پیش آؤ ‘وہ دونوں واپس چل پڑے تو شخص بولا :میں ایسا نہیں کروں گا۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ میں نے نبی اکر م ﷺکو یہ کہتے ہوۓ سنا ہے کہ میری اُمت کا بہترین زمانہ وہی ہے جس میں‘ میں ہوں‘ پھر اس کے بعد کے زمانہ سے‘ پھراس کے بعد کا وقت ہے‘ پھر ایسی قوم پروان چڑھے گی جس کی قسمیں ان کی گواہیوں سے سبقت لے جائیں گی اور وہ بغیر گواہی طلب کیے گواہ بنیں گے ان کے بازاروں میں شوروغل ہوگا۔ راوی (معاویہ بن قرۃ المز نی ) کہتے ہیں مجھ سے کہمس کہنے لگے کہ کیا تمہیں اس بات کا خطرہ ہے کہ وہ لوگ انہی میں سے ہوں گے‘ پھر کہمس مجھ سے مخاطب ہو کر کہنے لگے کہ میں نبی اکرم ﷺکے پاس آیا اور میں نے انہیں اپنے اسلام قبول کرنے کے متعلق آ گاہ کیا‘ پھر میں ایک سال تک غائب رہا ‘پھر میں آپ کے پاس آیا اور عرض کی یارسول اللہ ! لگتا ہے آپ میرے معاملے سے بے خبر ہیں‘ آپ نے فرمایا: ہاں! پھر میں عرض گزار ہوا: یارسول اللہ! جب سے آپ سے جدا ہوا ہوں‘ اس دن سے میں نے روز ہ نہیں چھوڑا ‘تو نبی اکرمﷺ نے پو چھا تمہیں کس نے حکم دیا تھا کہ تم اپنے آپ کو تکلیف دو تم ایک مہینے میں صرف ایک روزہ رکھو‘ میں نے عرض کی: اضافہ فرما دیں! آپ نے فرمایا: دو روزے رکھا کرو‘ یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: ایک ماہ میں تین دن روزے رکھا کرو۔

مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ الْمُزَنِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ يَزِيدَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 32

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 33

33 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، أَنَّ صُهَيْبًا، لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ قَالَ: وَاأَخَاهْ وَاأَخَاهْ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: مَهْ يَا أَخِي مَهْ يَا صُهَيْبُ أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ»

حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ کو ( جب معلوم ہوا )کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ زخمی ہوۓ ہیں‘ کہنے لگے: ہاۓ میرے بھائی! ہاۓ میرے بھائی! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: رہنے دو اے میرے بھائی! ر ہنے دو ! اے صہیب ! کیا تو نے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد مبارک نہیں سنا کہ میت پراس کی قبر میں اہل خانہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے ۔

«الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← وَاأَخَاهْ وَاأَخَاهْ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: مَهْ يَا أَخِي مَهْ يَا صُهَيْبُ أَمَا ← أَبِي رَافِعٍ، أَنَّ صُهَيْبًا، لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 33

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 34

34 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يُقَبِّلُ الْحَجَرَ، وَيَقُولُ: إِنِّي لأُقَبِّلُكَ وَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ وَلَكِنِّي رَأَيْتُ أَبَا الْقَاسِم ِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:40] بِكَ حَفِيًّا.

حضرت سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو حجر اسود کا بوسہ لیتے ہوۓ دیکھا ‘اور (پتھر کو مخاطب کر کے ) وہ کہہ رہے تھے: میں تیرا بوسہ نہ لیتا اور میں جانتا ہوں کہ تُو پتھر ہے ‘لیکن میں نے ابوالقاسم ﷺتجھ سے لپٹے ہوۓ دیکھا۔

رأيت عمر بن الخطاب يقبل الحجر ← سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَی ← اِسْرَائِیْلُ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 34

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 35

35 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ حَبِيبَ بْنَ عُبَيْدٍ، يُحَدِّثُ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنِ ابْنِ السِّمْطِ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ يَقُولُ: «صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ»

حضرت ابن سمط رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ میں نے رسول اللہ ﷺکے ساتھ ذوالحلیفہ میں دو رکعت نماز پڑھی تھی ۔

«صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ» ← عُمَرَ، ← ابْنِ السِّمْطِ، أَنَّهُ ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ ← حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ، ← يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 35

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 36

36 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ قِبْصٌ مِنَ النَّاسِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ مَنْزِلَةً عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَعْدَ أَنْبِيَائِهِ وَأَصْفِيَائِهِ؟ فَقَالَ: «الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ حَتَّى تَأْتِيَهُ دَعْوَةُ اللَّهِ وَهُوَ عَلَى مَتْنِ فَرَسِهِ وَآخِذٌ بِعِنَانِهِ» ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «وَامْرُؤٌ بِنَاحِيَةٍ أَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ وَتَرَكَ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ» ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيُّ النَّاسِ شَرٌّ مَنْزِلَةً عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: «الْمُشْرِكُ» ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «إِمَامٌ جَائِرٌ يَجُورُ عَنِ الْحَقِّ وَقَدْ مُكِّنَ لَهُ» ، وَخَصَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْوَابَ الْغَيْبِ وَقَالَ: «سَلُونِي وَلَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَنْبَأْتُكُمْ بِهِ» ، فَقَالَ عُمَرُ: رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِكَ نَبِيًّا حَسْبُنَا مَا أَتَانَا قَالَ فَسُرِّيَ عَنْهُ

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺکے پاس موجود تھا ‘آپ کے پاس کچھ اور لوگ بھی تھے‘ سو ایک آ دمی آیا ‘اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! قیامت کے دن انبیاء و اصفیاء کے بعد لوگوں میں سے کس کا مقام بہتر ہوگا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: جو اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جان کے ساتھ جہاد کر تا ہو‘ یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ جاۓ‘ اور وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو اور اس کی لگام کو پکڑے ۔ عرض کی : پھر اس کے بعد کس کا مقام ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ آ دمی جوکسی گوشئہ تنہائی میں اپنے رب کی اچھی طرح عبادت کر تا ہو اور لوگوں کو اپنے شر سے بچا کے رکھے ۔ پھر اس آدمی نے عرض کی : یا رسول اللہ ! قیامت کے دن لوگوں میں سب سے بُرے مقام پرکون ہو گا؟ آپ ﷺنے فرمایا: مشرک‘ عرض کی : پھر کون ہوگا؟ فرمایا: ظالم بادشاہ جوحق سے تجاوز کرتا ہو اور اس کی حکومت بھی ہو ۔ اور رسول اللہﷺنے غیب کے دروازہ کو خاص کیا ‘اور فرمایا: مجھ سے پوچھو جو چیز بھی پوچھو گے میں اُس کے بارے تمہیں تفصیلاً بتاؤں گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : ہم اللہ کے رب ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پر اور آپ کے نبی ہونے پرراضی ہیں‘ ہمارے لیے کافی ہے جو آ پ ہمارے پاس لاۓ‘ ہمارے لیے کافی ہے ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :پھر آپ کا غصہ زائل ہو گیا۔

كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ وَعِنْدَهُ قِبْصٌ مِنَ النَّاسِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: ← عُمَرَ، ← رَجُلٌ: ← هِشَامِ بْنِ عَمْرٍو، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 36

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 37

37 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَزُهَيْرِ بْنِ [ص:42] مُحَمَّدٍ التَّمِيمِيِّ، كِلَاهُمَا عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ»

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کوفرماتے سنا: اے لوگو! بے شک اعمال ( کے ثواب )کا دارو مدار نیت پر ہے‘ ہر آدمی کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی‘ سوجس نے ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف کی ‘اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہو گی اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لیے ہو‘ تا کہ اس کو پالے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے ہجرت کی تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہوگی ۔ جس کی طرف اس نے ہجرت کی ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← عَلْقَمَۃَ بْنِ وَقَّاصِ اللَّیْثِیِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَزُهَيْرِ بْنِ [ص:42] مُحَمَّدٍ التَّمِيمِيِّ، كِلَاهُمَا ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 37

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 38

38 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الرَّبِيعِ الْعَدَوِيِّ، قَالَ: لَقِينَا عُمَرَ فَقُلْنَا لَهُ: إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو حَدَّثَنَا بِكَذَا وَكَذَا فَقَالَ عُمَرُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُ قَالَهَا ثَلَاثًا ثُمَّ نُودِيَ بِالصَّلَاةِ جَامِعَةً فَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ النَّاسُ [ص:43] فَخَطَبَهُمْ عُمَرُ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ»

حضرت سلیمان بن الربيع العدوی فرماتے ہیں کہ ہماری ملاقات حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی ‘ہم نے آپ سے عرض کی: حضرت عبداللہ بن عمر وایسے ایسے ہمیں حدیثیں بیان کرتے ہیں ‘تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عبد اللہ بن عمر و جو کہتے ہیں وہ زیادہ معلومات رکھتے ہیں (اس بارے ) جو وہ کہتے ہیں؟ یہ الفاظ آپ نے تین مرتبہ کہے‘ پھر نماز کے لیے آواز دی: الصلوۃ الجامعۃ ! تو لوگ نماز پڑھنے کے لیے آپ کے پاس جمع ہو گئے‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں خطبہ دیا تو فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کوفرماتے سنا: ایک گروہ میری اُمت میں سے ہمیشہ حق پر رہے گا ‘یہاں تک کہ اللہ کاحکم آ جاۓ ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← قَالَهَا ثَلَاثًا ثُمَّ نُودِيَ بِالصَّلَاةِ جَامِعَةً فَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ النَّاسُ [ص:43] فَخَطَبَهُمْ عُمَرُ ← عُمَرُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو أَعْلَمُ بِمَا ← بِکَذَا وَکَذَا ← لَقِينَا عُمَرَ فَقُلْنَا لَهُ: إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ← سليمان بن الربيع العدوي ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 38

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 39

39 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْخُزَاعِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ الْقُرَشِيِّ، وَابْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، أَنَّهُمَا سَمِعَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ: أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُورَةً مِنَ الْقُرْآنِ فَحَفِظْتُهَا وَوَعَيْتُهَا فَبَيْنَا أَنَا قَائِمٌ فِي الْمَسْجِدِ أُصَلِّي إِذَا هِشَامُ بْنُ حَكِيمٍ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِي فَافْتَتَحَ تِلْكَ السُّورَةَ عَلَى غَيْرِ الْحَرْفِ الَّذِي أَقْرَأَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَمَمْتُ أَنْ أُسَاوِرَهُ فِي الصَّلَاةِ ثُمَّ كَفَفْتُ عَنْهُ حَتَّى صَلَّى فَأَخَذْتُ بِمَجَامِعِ ثَوْبِهِ فَقُلْتُ: مَنْ أَقْرَأَكَ هَذِهِ الْآيَةَ؟ فَقَالَ: أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: كَذَبْتَ لَقَدْ أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى غَيْرِ هَذَا الْحَرْفِ فَخَرَجْتُ أَقُودُهُ فَلَمَّا رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِي: «يَا عُمَرُ خَلِّ سَبِيلَهُ» ، فَأَرْسَلْتُ ثَوْبَهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقْرَأْتَنِي سُورَةً مِنَ الْقُرْآنِ فَإِذَا هُوَ يَقْرَأُ عَلَى خِلَافِ مَا أَقْرَأْتَنِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْرَأْ يَا هِشَامُ» ، فَقَرَأَ فَقَالَ: «هَكَذَا أُنْزِلَتْ» ، ثُمَّ قَالَ لِي: «اقْرَأْ يَا عُمَرُ» ، فَقَرَأْتُ فَقَالَ: «هَكَذَا أُنْزِلَتْ، إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ [ص:45] أَحْرُفٍ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ»

حضرت مسور بن مخرمہ قرشی اور حضرت ابن عبد القاری دونوں سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کوفر ماتے سنا کہ مجھے رسول اللہﷺنے قرآن پاک سے ایک سورت پڑھائی‘ سو میں نے اس کو یاد کیا اور دل میں محفوظ کر لیا‘ اس دوران کہ میں مسجد میں کھڑا ہوا نماز پڑھنے کے لیے کہ ہشام بن حکیم میرے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے تو انہوں نے وہ سورت اس قرأت پر نہیں پڑھی جس قرأت پر مجھے رسول اللہ ﷺنے پڑھائی تھی‘ سو میں نے نماز میں اُن کو روکنے کا ارادہ کر لیا‘ پھر میں رُک گیا یہاں تک کہ انہوں نے نماز پڑھ لی‘ پھر میں نے اُن کو کپڑے سے پکڑا۔ میں نے کہا: آپ کو یہ سورت کس نے پڑھائی ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے رسول اللہ ﷺ نے پڑھائی ہے ۔ ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:)میں نے کہا کہ آپ جھوٹ بول رہے ہیں ‘بے شک میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس قرأت پر نہیں پڑھی ‘سو میں اُن کے ہاتھ کو پکڑ کر نکلا ‘جب مجھے رسول اللہ ﷺنے دیکھا تو فرمایا: اے عمر ! اس کا راستہ چھوڑ دے۔ تو میں نے اُن کے کپڑے کو چھوڑ دیا ‘میں نے عرض کی یا رسول اللہ! مجھے آپ نے جو سورت قرآن پاک سے پڑھائی تھی‘ یہ اس کے علاوہ قرأت پر پڑ ھ ر ہا تھا جس قرأت پر آپ نے مجھے پڑھائی تھی ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے ہشام! پڑھ! انہوں نے پڑھی‘ تو آپ ﷺنے فرمایا یہ سورت اسی طرز پر اُتری تھی‘ پھر مجھ سے فرمایا: اے عمر! پڑھ! میں نے پڑھی تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ سورت اسی طرح نازل ہوئی ہے‘ بے شک قرآن پاک سات قرأ توں پر اُترا ہے ‘سوتمہیں جوقرأت آسان لگے اس کو پڑ ھ لو۔

ابْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، أَنَّهُمَا سَمِعَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ← الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ الْقُرَشِيِّ، ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْخُزَاعِيُّ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 39

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 40

40 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: تَرَائَيْنَا الْهِلَالَ فَمَا مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَآهُ غَيْرِي فَقُلْتُ لِعُمَرَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَمَا تَرَاهُ؟ فَجَعَلْتُ أُرِيهِ إِيَّاهُ فَلَمَّا أَعْيَاهُ أَنْ يَرَاهُ قَالَ: سَأَرَاهُ وَأَنَا مُسْتَلْقٍ عَلَى فِرَاشِي ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا عَنْ يَوْمِ بَدْرٍ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْبِرُنَا بِمَصَارِعِ الْقَوْمِ بِالْأَمْسِ: «هَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ إِنْ شَاءَ اللَّهُ غَدًا، هَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ إِنْ شَاءَ اللَّهُ غَدًا» [ص:46]، فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ مَا أَخْطَئُوا تِلْكَ الْحُدُودَ وَجَعَلُوا يُصْرَعُونَ عَلَيْهَا ثُمَّ أُلْقُوا فِي الْقَلِيبِ وَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمْ رَبُّكُمْ حَقًّا؟ فَقَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا» ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُكَلِّمُ أَجْسَادًا لَا أَرْوَاحَ فِيهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ مِنْهُمْ وَلَكِنَّهُمْ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يَرُدُّوا عَلَيَّ»

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے چاند کو دیکھا ‘لوگوں میں سے ہر ایک کا خیال تھا کہ اس کے علاوہ کوئی نہیں دیکھ رہا ‘سو میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: اے امیرالمومنین ! کیا آپ نےچاند کو دیکھا ہے؟ تو میں اس چاند کو دیکھنے لگا جب چاند کے دیکھنے نے نہیں تھکا دیا تو فرمانے لگے: میں عنقریب دیکھ لوں گا ( جب) میں بستر پر لیٹنے لگا ہوں‘ پھر آ پ ہمیں غزوۂ بدر کے متعلق بتانے لگے کہ نبی اکرم ﷺایک دن پہلے کا فرقوم کے پچھا ڑ نے کی جگہوں کے متعلق آ گاہ کر چکے تھے کہ یہ فلاں کے گرنے کی جگہ ہے انشاء اللہ کل‘ یہ فلاں کے گرنے کی جگہ ہے انشاءاللہ کل‘ قسم ہے اس ذات کی جس نے انہیں حق کے ساتھ بھیجا ہے وہ کافر ( بیان کردہ) حدود سے آگے پیچھے نہ ہٹے اور انہی مقامات پہ گرنا شروع ہو گئے ‘پھر انہیں کنویں میں پھینک دیا گیا‘ پھر نبی اکرمﷺتشریف لاۓ اور کہا :اے فلاں بن فلاں! کیا تم نے اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا ہے جو اس نے تمہارے ساتھ کیا ہے‘ تحقیق میں نے اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا ہے‘ ( حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :) میں نے عرض کی کہ یارسول اللہ ! کیا آپ ان جسموں سے گفتگو کر رہے ہیں جو روحوں سے خالی ہیں‘ تو نبی اکرم ﷺنے جواب و یا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے‘ تم ان سے بڑھ کر نہیں سننے والے‘ لیکن یہ مرے ہوۓ ہیں جواب دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 40

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 41

41 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: " وَافَقْتُ رَبِّي [ص:47] عَزَّ وَجَلَّ فِي أَرْبَعٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ صَلَّيْتَ خَلْفَ الْمَقَامِ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى} [البقرة: 125] وَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ ضَرَبْتَ عَلَى نِسَائِكَ الْحِجَابَ فَإِنَّهُ يَدْخُلُ عَلَيْكَ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ} [الأحزاب: 53] ، وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ طِينٍ} [المؤمنون: 12] الْآيَةَ، فَلَمَّا نَزَلَتْ قُلْتُ أَنَا: تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ فَنَزَلَتْ {فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ} [المؤمنون: 14] وَدَخَلْتُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَهُنَّ: لَتَنْتَهُنَّ أَوْ لَيُبْدِلَنَّهُ اللَّهُ بِأَزْوَاجٍ خَيْرٍ مِنْكُنَّ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ} [التحريم: 5] الْآيَةَ "

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے رب نے چار مقام میں میری موافقت فرمائی ‘(۱) میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ! اگر ہم مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھیں‘ تو یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی:’’وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى ‘‘(۲) میں نے عرض کی : یارسول اللہ !اگر آپ اپنی بیویوں کو پردہ کا حکم دیں کیونکہ آپ کے پاس نیک اور بُرے لوگ آ تے ہیں ‘تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ’’وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ ‘‘ اور یہ آیت نازل ہوئی ’’وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ طِينٍ ‘‘۔ سو جب یہ آیت نازل ہوئی تو میں نے کہا: تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ ‘‘ تو یہ آیت نازل ہوئی: ’’فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ ‘‘اور میں نبی اکرم ﷺ کی از واج کے پاس کیا تو میں نے ان سے کہا: تمہیں دور کر دے گا ‘یا اللہ تعالی تم سے بہتر بیویاں آپ کو عطا فرماۓ گا ‘تو یہ آیت نازل ہوئی:’’عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ ‘‘پوری آیت۔

عُمَرُ وَافَقْتُ رَبِّي [ص:47] عَزَّ وَجَلَّ فِي أَرْبَعٍ فَقُلْتُ: ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 41

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عُمَرَ · حديث 42

42 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَعْوَلَتْ عَلَيْهِ حَفْصَةُ، فَقَالَ عُمَرُ: أَمَا سَمِعْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْمُعْوَلُ عَلَيْهِ يُعَذَّبُ»

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو زخمی کیا گیا تو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا آپ پر رونے لگیں‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا آپ نے نبی کریم ﷺکا فرمان نہیں سنا کہ میت پر رونے کی وجہ سے اس کو عذاب دیا جا تا ہے ۔

«الْمُعْوَلُ عَلَيْهِ يُعَذَّبُ» ← النَّبِيِّ ← لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ أَعْوَلَتْ عَلَيْهِ حَفْصَةُ، فَقَالَ عُمَرُ: أَمَا ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 42

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter
1. Book
    70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter
1. Book
    364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter
307. Chapter
308. Chapter
309. Chapter
310. Chapter
311. Chapter
312. Chapter
313. Chapter
314. Chapter
315. Chapter
316. Chapter
317. Chapter
318. Chapter
319. Chapter
320. Chapter
321. Chapter
322. Chapter
323. Chapter
324. Chapter
325. Chapter
326. Chapter
327. Chapter
328. Chapter
329. Chapter
330. Chapter
331. Chapter
332. Chapter
333. Chapter
334. Chapter
335. Chapter
336. Chapter
337. Chapter
338. Chapter
339. Chapter
340. Chapter
341. Chapter
342. Chapter
343. Chapter
344. Chapter
345. Chapter
346. Chapter
347. Chapter
348. Chapter
349. Chapter
350. Chapter
351. Chapter
352. Chapter
353. Chapter
354. Chapter
355. Chapter
356. Chapter
357. Chapter
358. Chapter
359. Chapter
360. Chapter
361. Chapter
362. Chapter
363. Chapter
403. Chapter
404. Chapter
405. Chapter
406. Chapter
407. Chapter
408. Chapter
409. Chapter
410. Chapter
411. Chapter
412. Chapter
413. Chapter
414. Chapter
415. Chapter
416. Chapter
417. Chapter
418. Chapter
419. Chapter
420. Chapter
421. Chapter
422. Chapter
423. Chapter
424. Chapter
425. Chapter
426. Chapter
427. Chapter
428. Chapter
429. Chapter
430. Chapter
431. Chapter
432. Chapter
433. Chapter
434. Chapter
435. Chapter
436. Chapter
437. Chapter
438. Chapter
439. Chapter
440. Chapter
441. Chapter
442. Chapter
443. Chapter
444. Chapter
445. Chapter
446. Chapter
447. Chapter
448. Chapter
449. Chapter
450. Chapter
451. Chapter
452. Chapter
453. Chapter
454. Chapter
455. Chapter
456. Chapter
457. Chapter
458. Chapter
459. Chapter
460. Chapter
461. Chapter
462. Chapter
463. Chapter
464. Chapter
465. Chapter
466. Chapter
467. Chapter
468. Chapter
469. Chapter
470. Chapter
471. Chapter
472. Chapter
473. Chapter
474. Chapter
475. Chapter
476. Chapter
477. Chapter
478. Chapter
479. Chapter
480. Chapter
481. Chapter
482. Chapter
483. Chapter
484. Chapter
485. Chapter
486. Chapter
487. Chapter
488. Chapter
489. Chapter
490. Chapter
491. Chapter
492. Chapter
493. Chapter
494. Chapter
495. Chapter
496. Chapter
497. Chapter
498. Chapter
499. Chapter
500. Chapter
501. Chapter
502. Chapter
503. Chapter
504. Chapter
505. Chapter
506. Chapter
507. Chapter
508. Chapter
509. Chapter
510. Chapter
511. Chapter
512. Chapter
513. Chapter
514. Chapter
515. Chapter
516. Chapter
517. Chapter
518. Chapter
519. Chapter
520. Chapter
521. Chapter
522. Chapter
523. Chapter
524. Chapter
525. Chapter
526. Chapter
527. Chapter
528. Chapter
529. Chapter
530. Chapter
531. Chapter
532. Chapter
533. Chapter
534. Chapter
535. Chapter
536. Chapter
537. Chapter
538. Chapter
539. Chapter
540. Chapter
541. Chapter
542. Chapter
543. Chapter
544. Chapter
545. Chapter
546. Chapter
547. Chapter
548. Chapter
549. Chapter
550. Chapter
551. Chapter
552. Chapter
553. Chapter
554. Chapter
555. Chapter
556. Chapter
557. Chapter
558. Chapter
559. Chapter
560. Chapter
561. Chapter
562. Chapter
563. Chapter
564. Chapter
565. Chapter
566. Chapter
567. Chapter
568. Chapter
569. Chapter
570. Chapter
571. Chapter
572. Chapter
573. Chapter
574. Chapter
575. Chapter
576. Chapter
577. Chapter
578. Chapter
579. Chapter
580. Chapter
581. Chapter
582. Chapter
583. Chapter
584. Chapter
585. Chapter
586. Chapter
587. Chapter
588. Chapter
589. Chapter
590. Chapter
591. Chapter
592. Chapter
593. Chapter
594. Chapter
595. Chapter
596. Chapter
597. Chapter
598. Chapter
599. Chapter
600. Chapter
601. Chapter
602. Chapter
603. Chapter
604. Chapter
605. Chapter
606. Chapter
607. Chapter
608. Chapter
609. Chapter
610. Chapter